منتخب غزلیں

تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے …

تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے
وہ تمام لوگ جو عشق تھے وہ مرے وجود میں آ گئے

نہ ترے سوا کوئی لکھ سکے نہ مرے سوا کوئی پڑھ سکے
یہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زبان سکھا گئے

نہ کر آج ہم سے یہ گفتگو مجھے کیوں ہوئی تری جستجو
ارے ہم بھی ایک خیال تھے سو ترے بھی ذہن میں آ گئے

جو سنا کہ گھر ترے جائیں گے ترے صحن و باغ سجائیں گے
مرے اشک اڑ کے ہوا کے ساتھ انہی بادلوں میں سما گئے

دل شب میں صبح کی دھڑکنیں ابھی ابتدائے غزل میں تھیں
کہ وہ آئے اور تمام شعر مری ہی دھن میں سنا گئے

جو نہ آپ اس پہ ہوئے عیاں یہ رکھے گا ہم کو بھی سر گراں
کئی بار لے کے شکایتیں مرے دوست ارض و سما گئے

کئی محفلوں میں تو یوں ہوا کہ جب آئے عالؔیٔ خوش ادا
جو نہ کھل سکے تو چھپے رہے جو نہ رو سکے تو رلا گئے

(جمیل الدین عالی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/