منتخب غزلیں

طائر دل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے تلوک چند محروم ط…

طائر دل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے
تلوک چند محروم
طائر دل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے
حیلہ سازی کے لیے دانۂ خال اچھا ہے

دل کے طالب نظر آتے ہیں حسیں ہر جانب
اس کے لاکھوں ہیں خریدار کہ مال اچھا ہے

تاب نظارہ نہیں گو مجھے خود بھی لیکن
رشک کہتا ہے کہ ایسا ہی جمال اچھا ہے

دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے
ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے

مطمئن بیٹھ نہ اے راہرو راہ عروج
ترا رہبر ہے اگر خوف زوال اچھا ہے

نہ رہی بے خودی شوق میں اتنی بھی خبر
ہجر اچھا ہے کہ محرومؔ وصال اچھا ہے
….
6 جنوری معروف اردو شاعر، جناب تلوک چند محروم کا یومِ وفات ہے۔
6 جنوری 1966ء
تلوک چند آپ کا نام اور محرومؔ تخلص تھا۔ یکم جولائی 1887ء کو تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ محروم نے بعد بی اے تک روایتی تعلیم حاصل کی۔ حصولِ تعلیم کے بعد محروم نے عملی زندگی کا آغاز ڈیرہ اسماعیل خان کے مشن ہائی اسکول میں انگریزی کے اسٹنٹ ماسٹر کی حیثیت سے کیا۔ 1935ء سے 1942ء تک انہوں نے کونوینٹ بورڈ اسکول راولپنڈی میں بطور ہیڈ ماسٹر کام کیا۔ بعد ازاں گورڈن کالج راولپنڈی میں اردو اور فارسی کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی کر کے ہندوستان چلے گئے اور وہاں پنجاب یونیورسٹی کے کیمپ کالج دہلی میں 1947ء سے 1958ء تک اردو پڑھاتے رہے۔
تلوک چند محروم کا 6 جنوری 1966ء کو دہلی میں انتقال ہوا۔


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/