منتخب غزلیں
کہ پھر اگلا دسمبر کون دیکھے گا ……. کسی کیفے می…

کہ پھر اگلا دسمبر کون دیکھے گا
…….
کسی کیفے میں ملتے ہیں
بہت دن ہو گئے کافی نہیں پی ہے
کوئی محرم نہیں تھا جس سے دل کا حال کہتے
دسمبر کے مہینے کی اداسی روح تک آنے لگی ہے
ٹھٹھرتی دھوپ ٹھٹھرانے لگی ہے
پرندے آسماں کو دیکھتے ہیں، پوچھتے ہیں
کہ لمبی رات کا جو آخری کونہ ہے
کیا اس آخری کونے پہ کوئی مہرباں سورج بھی اپنا منتظر ہے
ذرا سی سرسراہٹ سے مرا دل یوں لرزتا ہے
کہ جیسے اگلے پل میں کچھ نہ کچھ ہونے ہی والا ہے
یہ اک برگ_ خزاں دیدہ مرا دل
شکستہ در دریچے کی طرح دل
مری بھیگی ہوئی پلکیں
اور ان پلکوں پہ چھایا اک سیہ بادل
نئی بارش کا دیباچہ
بہت دن ہو گئے ہیں بس ہمیشہ کا یہ موسم ہے
مگر چھوڑو، مری باتوں، مرے احوال کو چھوڑو
چلو کافی پئیں
خوش وقت ہو لیں
ذرا گپ شپ لگائیں
کہ پھر اگلا دسمبر کون دیکھے گا
.
ریاض ساغر
…….
کسی کیفے میں ملتے ہیں
بہت دن ہو گئے کافی نہیں پی ہے
کوئی محرم نہیں تھا جس سے دل کا حال کہتے
دسمبر کے مہینے کی اداسی روح تک آنے لگی ہے
ٹھٹھرتی دھوپ ٹھٹھرانے لگی ہے
پرندے آسماں کو دیکھتے ہیں، پوچھتے ہیں
کہ لمبی رات کا جو آخری کونہ ہے
کیا اس آخری کونے پہ کوئی مہرباں سورج بھی اپنا منتظر ہے
ذرا سی سرسراہٹ سے مرا دل یوں لرزتا ہے
کہ جیسے اگلے پل میں کچھ نہ کچھ ہونے ہی والا ہے
یہ اک برگ_ خزاں دیدہ مرا دل
شکستہ در دریچے کی طرح دل
مری بھیگی ہوئی پلکیں
اور ان پلکوں پہ چھایا اک سیہ بادل
نئی بارش کا دیباچہ
بہت دن ہو گئے ہیں بس ہمیشہ کا یہ موسم ہے
مگر چھوڑو، مری باتوں، مرے احوال کو چھوڑو
چلو کافی پئیں
خوش وقت ہو لیں
ذرا گپ شپ لگائیں
کہ پھر اگلا دسمبر کون دیکھے گا
.
ریاض ساغر


