منتخب غزلیں

یہ کس حسین کے گیسو سنوارے جاتے ہیں کہ ہم پھر آینہ …

یہ کس حسین کے گیسو سنوارے جاتے ہیں
کہ ہم پھر آینہ لے کر پکارے جاتے ہیں
سمندروں میں ہمیں لوگ اتارے جاتے ہیں
وہ اور ہیں جو کنارے کنارے جاتے ہیں
یہی تو دیکھ رہے ہیں، یہی تو دیکھا ہے
جو پیار کے لیے جیتے ہیں، مارے جاتے ہیں
لہو کے پھولوں کی ہے مانگ ہر زمانے میں
ہر ایک دور میں قاتل سنوارے جاتے ہیں
ہمیشہ خاک نشینوں نے یہ دکھایا ہے
سوار کیسے زمیں پر اتارے جاتے ہیں
::
کلیم عاجز


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/