منتخب غزلیں
سانحہ پشاور کے معصُوم شہیدوں کی نذر ……………..

سانحہ پشاور کے معصُوم شہیدوں کی نذر
……………….
پھول دیکھے ہیں جنازوں پہ ہمیشہ شوکت
کل میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے
(شوکت رضا شوکت)
اب مرے قتل کا الزام نہ تقدیر پہ رکھ
ہاتھ سینے سے اُٹھا، قبضۂِ شمشیر پہ رکھ
میری تصویر پہ اے پھول چڑھانے والے
میرے قاتل کا عمامہ مری تصویر پہ رکھ
عارف امامِ
…..
قاتلوں سے بس اِتنا کہنا ہے
شدّتِ غم کا اِحترام کرو
قتل ہو جانے والے بچوں کی
ماؤں کا کام بھی تمام کرو
شہزادقیس
………..
کب سوچا تھا…!
یونیفارم میں گھر سے جانے والے بچے
لاشے بن کر گھر لوٹیں گے
..
دامنِ عرش میں اللہ چھپانا ان کو
وہ میرے پھول ہیں جنت میں سجانا ان کو
عنبرین خان
….
اُس دِن بڑے معصُوم غُنچے تھے ہدف
نو خیز کلیوں کو بھی _تھا مسلا گیا
…..
چمن پہ قُرباں وُہ بھی تو گُل ہُوۓ اب
جِن کو مہکنا سا ___ ابھی باقی تھا
اظہر ناظر
…..
زندگی اپنی حرارت سے تہی ہے
رگوں میں خون جیسے جم گیا ہے
گھروں میں کوچہ و بازار میں شہروں میں
ہر سو سوگ ہے
کہرام ہے چیخیں ہیں آہیں ہیں
یہ کن وحشی درندوں نے صفِ ماتم بچھا دی ہے
ٖفضا ماتم کناں ہے
ہوائیں نوحہ خوانی کر رہی ہیں
یوسف خالد
…
آنسوؤں کو میں کہاں تک روکوں
قافلہ اِذنِ سفر مانگتا ھے
پروفیسر انور مسعود
…..
تابوتوں کا بوجھ
۔۔۔۔۔۔
تم بھی کندھا دینا، بھائی
چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا
بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے
دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے!
ان میں وہ ننھے منے سپنے سوئے ہیں
جو تاریک گھروں کے اجالے
اپنی چھب دکھلاتے، ہنستے کھیلتے رہتے تھے
چشم و چراغ ان حجروں کے جو
گھنی گھنیری تاریکی میں ڈوب چکے ہیں!!
چھوٹے چھوٹے ان تابوتوں میں ماؤں کی
آنکھوں کے تارے اب اپنی
ابدی نیند میں سوئے ہوئے ہیں
دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے
چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا
بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے!
ستیہ پال آنند
……
دنوں کا دکھ
شہزاد نیّرؔ
(سانحہء پشاور ۔ سولہ دسمبر)
عجب دن آ پڑے ہیں
بوڑھی صدیاں رات رو کر دیکھتی ہیں
صبح کے کاندھے پہ پھولوں کے جنازے ہیں
نہ اِن کا بَوجھ اُٹھتا ہےنہ آنکھیں نَم اُٹھا کر دو قدم چلتی ہیں
سکتہ ہے۔۔۔۔۔ سکوتِ مرگ سے بھی سخت سکتہ
سِسکیوں کی راہ کو مسدود کرتا ہے
عجب سکتے کا پتّھر ہے
دنوں کو توڑتا گھایل دلوں پر آ پڑا
اب جو کسی کی چیخ سے دو نیم بھی ہوتا نہیں
کب سے یہاں سورج نہیں نکلا
کتابوں میں لکھے الفاظ مجھ سے پوچھتے ہیں
وقت کی تقویم میں کیسے یہ کالے دن لکھے تھے
!روشنی کے نام پر آ کر اندھیرے روشنی کا قتل کرتے ہیں
مقدّس جسم اُدَھڑتے ہیں
تو وَحشت کے پرانے پتّھروں کے واسطے’ یعنی نئی پوشاک سِلتی ہے
عجب دن آ پڑے ہیں
وقت کی تقویم سے باہَر کے دن ہیں
اُور مِرے شانوں پہ رکّھے ہیں
نہ ان کا بَوجھ اُٹھتا ہےنہ آنکھیں نَم اُٹھا کر دو قدم چلتی ہیں
سکتہ ہے۔
…………
……………….
پھول دیکھے ہیں جنازوں پہ ہمیشہ شوکت
کل میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے
(شوکت رضا شوکت)
اب مرے قتل کا الزام نہ تقدیر پہ رکھ
ہاتھ سینے سے اُٹھا، قبضۂِ شمشیر پہ رکھ
میری تصویر پہ اے پھول چڑھانے والے
میرے قاتل کا عمامہ مری تصویر پہ رکھ
عارف امامِ
…..
قاتلوں سے بس اِتنا کہنا ہے
شدّتِ غم کا اِحترام کرو
قتل ہو جانے والے بچوں کی
ماؤں کا کام بھی تمام کرو
شہزادقیس
………..
کب سوچا تھا…!
یونیفارم میں گھر سے جانے والے بچے
لاشے بن کر گھر لوٹیں گے
..
دامنِ عرش میں اللہ چھپانا ان کو
وہ میرے پھول ہیں جنت میں سجانا ان کو
عنبرین خان
….
اُس دِن بڑے معصُوم غُنچے تھے ہدف
نو خیز کلیوں کو بھی _تھا مسلا گیا
…..
چمن پہ قُرباں وُہ بھی تو گُل ہُوۓ اب
جِن کو مہکنا سا ___ ابھی باقی تھا
اظہر ناظر
…..
زندگی اپنی حرارت سے تہی ہے
رگوں میں خون جیسے جم گیا ہے
گھروں میں کوچہ و بازار میں شہروں میں
ہر سو سوگ ہے
کہرام ہے چیخیں ہیں آہیں ہیں
یہ کن وحشی درندوں نے صفِ ماتم بچھا دی ہے
ٖفضا ماتم کناں ہے
ہوائیں نوحہ خوانی کر رہی ہیں
یوسف خالد
…
آنسوؤں کو میں کہاں تک روکوں
قافلہ اِذنِ سفر مانگتا ھے
پروفیسر انور مسعود
…..
تابوتوں کا بوجھ
۔۔۔۔۔۔
تم بھی کندھا دینا، بھائی
چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا
بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے
دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے!
ان میں وہ ننھے منے سپنے سوئے ہیں
جو تاریک گھروں کے اجالے
اپنی چھب دکھلاتے، ہنستے کھیلتے رہتے تھے
چشم و چراغ ان حجروں کے جو
گھنی گھنیری تاریکی میں ڈوب چکے ہیں!!
چھوٹے چھوٹے ان تابوتوں میں ماؤں کی
آنکھوں کے تارے اب اپنی
ابدی نیند میں سوئے ہوئے ہیں
دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے
چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا
بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے!
ستیہ پال آنند
……
دنوں کا دکھ
شہزاد نیّرؔ
(سانحہء پشاور ۔ سولہ دسمبر)
عجب دن آ پڑے ہیں
بوڑھی صدیاں رات رو کر دیکھتی ہیں
صبح کے کاندھے پہ پھولوں کے جنازے ہیں
نہ اِن کا بَوجھ اُٹھتا ہےنہ آنکھیں نَم اُٹھا کر دو قدم چلتی ہیں
سکتہ ہے۔۔۔۔۔ سکوتِ مرگ سے بھی سخت سکتہ
سِسکیوں کی راہ کو مسدود کرتا ہے
عجب سکتے کا پتّھر ہے
دنوں کو توڑتا گھایل دلوں پر آ پڑا
اب جو کسی کی چیخ سے دو نیم بھی ہوتا نہیں
کب سے یہاں سورج نہیں نکلا
کتابوں میں لکھے الفاظ مجھ سے پوچھتے ہیں
وقت کی تقویم میں کیسے یہ کالے دن لکھے تھے
!روشنی کے نام پر آ کر اندھیرے روشنی کا قتل کرتے ہیں
مقدّس جسم اُدَھڑتے ہیں
تو وَحشت کے پرانے پتّھروں کے واسطے’ یعنی نئی پوشاک سِلتی ہے
عجب دن آ پڑے ہیں
وقت کی تقویم سے باہَر کے دن ہیں
اُور مِرے شانوں پہ رکّھے ہیں
نہ ان کا بَوجھ اُٹھتا ہےنہ آنکھیں نَم اُٹھا کر دو قدم چلتی ہیں
سکتہ ہے۔
…………


