دانشور بننے کا شوق دانشور کا معاشرہ میں جو مقام ہ…

دانشور کا معاشرہ میں جو مقام ہوتا ہے، اس کے پیشِ نظر اکثر لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی دانشور بن جائیں اور اس حیثیت سے معاشرہ میں ایک ممتاز مقام حاصل کرلیں۔ اس سلسلہ میں مشکل اس وقت پیش آتی ہے کہ جب ان خواہش مند لوگوں میں کوئی دانشورانہ صلاحیت نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا پھر ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی ایسے دانشور کی خدمات حاصل کرلیں کہ جو اپنی تخلیقات فروخت کرنے کے لیے تیار ہو، لہٰذا تخلیق خریدنے کا کام وہی کرسکتا ہے کہ جس کے کافی مالی وسائل ہوں۔ اور جو اپنے پیسہ کے زور پر دانشوروں کو اپنا ملازم رکھ سکے، لیکن پیسہ کے ساتھ ساتھ دوسری چیز جو کسی شخص کو دوسرے کی تخلیقات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے وہ اس کے اختیارات ہیں۔ اگرچہ اس کے علاوہ بھی دوسری وجوہات ہوتی ہیں کہ جو غیر دانشوروں کو دانشور بناتی ہیں۔ مثلاً ایک زمانہ تھا کہ جب اردو میں شاعری مقبول عام صنف تھی اور مشاعرے اس کے اظہار کا ذریعہ تھے، لہٰذا ان مشاعروں میں کامیابی سے غزل پڑھنا اور سامعین سے داد و تحسین وصول کرنا عزت و وقار کی بات تھی، اس لیے اساتذہ کے لیے ضروری تھا کہ مشاعرے میں ان کے شاگردوں کی بڑی تعداد موجود رہے تاکہ وہ ان کی تعریف کرسکیں اور ان کے مخالف اور رقیب اساتذہ کو ہوٹ کریں لہٰذا ہر استاد شاگردوں کی تعداد بڑھانے کے لیے انہیں غزل لکھ کردیا کرتا تھا۔ مگر غزل کے اچھے شعر خود رکھ لیتا تھا اور باقی بیکار اشعار شاگردوں کے حصہ میں آتے تھے۔
بہر حال اب یہ صورت تو نہیں ہے، مگر دانشور بننے کا شوق باقی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے سکہ بند دانشوروں میں سے کئی ایسے ہیں کہ جن کا کام دوسرے لوگوں نے کیا ہے۔ ان میں کچھ تو دوسرے کا کام پیسوں سے خریدتے ہیں اور کچھ لوگ کسی ادارے کے ڈائریکٹر یا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنے ماتحت اسکالرز کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنا کام انہیں دے دیں۔ ان میں سے کچھ ماتحت اسکالرز تو خٰوشامد کے طور پر اپنی تحقیق اپنے سربراہ کے حوالہ کردیتے ہیں اور کچھ کو اس کے لیے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا کام اپنے ڈائریکٹر کو دے دیں بعد میں یہ ڈائریکٹر حضرات بین الاقوامی و قومی کانفرنسوں میں یہ مقالات اپنے نام سے پڑھتے ہیں اور داد و تحسین وصول کرتے ہیں۔
تقسیم کے بعد بہت سے عربی و فارسی کے اسکالرز ہجرت کرکے پاکستان آئے اور یہاں آکر انہیں مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، ان حالات سے فائدہ اٹھا کر سندھ کے ایک مشہور دانشور نے کہ جنہیں حکومت پاکستان و ایران سے تمغے اور انعامات بھی ملے ان لوگوں سے معاوضہ پر کام کرا کے اپنے نام سے چھپوایا اور مشہور محقق اور دانشور ہوگئے۔
اسی قسم کی ایک مشہور دانشور شخصیت کراچی میں رہتی ہے کہ جنہیں بیک وقت ادب، فلسفہ، تاریخ اور حکمت پر مہارت ہے ان کے ماتحت کئی اسکالرز کام کرتے ہیں اور عربی و فارسی کے مسودات کی تصحیح کرکے ان کے نام سے شائع کرواتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی قومی و بین الاقوامی شہرت ہے۔
اس سارے عمل کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں تو یہ حقیقت جند لوگوں کو معلوم ہوتی ہے، مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حقیقی دانشور اور اسکالرز فراموش کردیئے جاتے ہیں اور جن کے نام سے کتابیں چھپی ہیں۔ وہی اس کے اصلی خالق تسلیم کرلیے جاتے ہیں۔
اس مرحلے پر یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ لوگ آخر کیوں دانشور بننا چاہتے ہیں اور صورت میں کہ جب ان میں اس کی صلاحیتیں بھی نہیں ہوتی ہیں؟ اس کا جواب اس طرح آسان ہے کہ ہر شخص ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے اور اپنی موت کے بعد اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا نام باقی رہے۔ چونکہ تحریری الفاظ میں بڑی جان ہوتی ہے۔ اس لیے یہ لکھنے والے کو موت کے بعد بھی زندہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ کہ جو اپنے پیسہ اور اثر و رسوخ اور اختیارات سے دوسرے کی تخلیقات حاصل کرتے ہیں۔ اپنی دانشوری کو دنیاوی مقاصد کے حصول میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہی لوگ حکومت کو مشورے دیتے ہیں۔ منصوبے بناتے ہیں اور معاشرے کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کا تعین کرتے ہیں۔ یہی لوگ ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کے ذریعہ اپنی دانشوری کی تشہیر کرکے اپنی شہرت چمکاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک ذریعہ بھی ہے کہ جس سے دانشور بنا جاتا ہے اور وہ دوسروں کی تخلیقات کو چرانے اور نقل کرکے اپنے نام سے منسوب کرنے کا ہے۔ یہ لوگ اپنی چالاکی سے اکثر گمنام شاعروں و ادیبوں اور دانشوروں کی تحریروں کو اپنے نام سے معمولی رد و بدل کے بعد یا ایسے ہی شائع کردیتے ہیں۔ کبھی کبھی مختلف دانشوروں کی تحریروں سے اقتباسات لے کر اور انہیں باہم جوڑ کر ایک علیحدہ سی چیز تیار کی جاتی ہے اور اسے اپنی تحریر کہہ کر چھپوا لیا جاتا ہے۔
اس قسم کی نقل اور چوری نئی نہیں ہے بلکہ ی ایک پرانی روایت ہے یہاں تک کہ علی ہجویری نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں اس کا ذکر کیا ہے کہ اگر کتاب کے ٹائٹل پر مصنف کا نام نہ ہو تو دوسرا شخص آسانی سے اسے اپنے نام سے منسوب کردیتا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک مثال دی کہ ایک شخص نے ان کا دیوان ان سے مطالعہ کے لیے لیا اور بعد میں اسے اپنے نام سے مشہور کردیا۔ انہوں نے ایک اور بار دیکھا کہ ان کی ایک کتاب کسی اور کے نام سے لوگوں میں شہرت پارہی ہے۔ ہجویری نے اس صورت حال میں خود کو بڑا بے بس پایا اور اپنی کتاب میں ایسے دھوکہ بازوں پر لعنت بھیجتے ہوئے خدا سے دعا کی کہ وہ انہیں ہمیشہ گمنام رکھے۔ ان کی یہ دعا اس طرح سے قبول ہوئی کہ لوگ انہیں تو جانتے ہیں مگر ان کی تصانیف کو اڑانے والے تاریخ میں روپوش ہوگئے ہیں۔
ہمارے ہاں اس قسم کے دنشوروں کو پنپنے کا اس لیے موقع مل جاتا ہے کیونکہ کوئی ان کی پکڑ نہیں کرتا ہے، وہ جو چوری کرتے ہیں اس کی نشان دہی نہیں کی جاتی ہے، اس لیے اب یہ عام ہے کہ انگریزی یا دوسری غیر ملکی زبانوں سے دانشورون کی تحریروں کو اپنے نام سے منسوب کرکے شہرت حاصل کرلی جاتی ہے۔ اگر چند لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم بھی ہوتا ہے تو یہ بات ایک محدود دائرے میں رہتی ہے اور عام قاری اس سے واقف نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ان دانشوروں کے لیے یہ خطرہ ضرور ہوتا ہے کہ جب بھی راز فاش ہوگا۔ ان کی اونچی حیثیت گر کر نیچے آجائے گی اور ان کی دانشوری کی حقیقیت کھل جانے گی۔
ڈاکٹر مبارک علی
کتاب "تاریخ اور دانشور ” سے ایک انتخاب
https://www.facebook.com/mubarak.ali.39750
نوٹ: تمام پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ اس موضوع پر اپنی اپنی رائے بھی ضرور دیجیئے۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2093312554232600



