منتخب غزلیں

صد شعر اقبال فارسی شارح صوفی غلام مصطفی تبسم (002)…

صد شعر اقبال فارسی
شارح صوفی غلام مصطفی تبسم
(002)———-
نمی دانم کہ داد ایں چشم بینا موج دریا را
گہر در سینہ دریا، خزف بر ساحل افتادہ است

( یہ شعر زبور عجم حصہ دوم کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔)
کل زبور عجم کی ایک غزل کے مطلع کی تشریح کرتے کرتے آج کا شعر یاد آ گیا۔ یاد آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ کل کے شعر میں چشم بینا کے الفاظ سے اس شعر کے الفاظ ابھر آئے۔ شاعر نے بات اتنے پیارے اور موثر انداز میں کہی ہے کہ انتخاب کے بغیر چارہ ہی نہ تھا۔ ذرا شعر دوبارہ سن لیجئے:
نمی دانم کہ داد ایں چشم بینا موج دریا را
گہر در سینہ دریا، خزف برساحل افتادہ است
ترجمہ ہے: نہ جانے سمندر کی لہر کو یہ چشم بینا کس نے عطا کی کہ موتی تو بحر کے سینے میں پڑا ہے اور خزف ریزے، یعنی ٹھیکری اور کنکر وغیرہ کے ٹکڑے باہر ساحل پر گرے پڑے ہیں۔ شعر میں جو پتے کی بات بیان ہوئی ہے ادھر بعد میں آئیں گے، پہلے ذرا اس شعر کی منظر کشی کی طرف توجہ دیجئے اور دیکھئے، تصور کیجئے کہ ایک بحر ذخار آپ کے سامنے ہے۔ طوفان برپا ہے اور اتنا شدید ہے جیسے پانی میں ایک حشر بپا ہے۔ موجوں کے تلاطم سے چٹانیں لرزہ بر اندام ہیں اور وہیل مچھلیاں اور مگرمچھ تنکوں کی طرح ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اچھلے پڑتے ہیں۔ اس قیامت خیز سمے میں نیساں کے ایک قطرے کو دیکھئے کس طرح صدف میں مطمئن بیٹھا ہے۔ باہر کی صورت یہ ہے کہ بحر کی تہ سے کتنے کنکر اور خزف ریزے ابھر کر کنارے پر گرتے چلے جا رہے ہیں۔ بیچارگی کا عالم ہے اور بے بضاعتی، اور بے مائگی بھی۔
اقبال اس شعر میں گوہر آبدار اور خزف ریزے میں فرق واضح کرنا چاہتا ہے۔ کہاں موتی اور کہاں ٹھیکری۔ لیکن اس فرق کی وضاحت کا انداز کتنا پیارا ہے۔ یہ سب کچھ تو موجوں کے طوفان کا کرشمہ ہے جس کی وجہ سے سمندر میں ہلچل مچی ہے۔ لیکن شاعر کا تجاہل عارفانہ دیکھئے۔ کہتا ہے کہ نہ جانے موجوں کو یہ چشم بینا کیسے مل گئی کہ انہوں نے دنیا جہاں کی بے قیمت چیزوں کو کنارے لا پھینکا ہے اور گوہر کو صدف کے آغوش میں بٹھا دیا۔
یہ باریک بینی، یہ قدر شناسی، یہ جوہر کو پرکھنے کی استعداد سبحان اللہ ان بظاہر بے رہرو، بے مہار، لہروں میں کیسے آ گئی۔
اقبال نے اس شعر میں تو فقط اشارہ کیا کہ موتی موتی ہے اور ٹھیکری ٹھیکری، لیکن ایک اور شعر میں صاف صاف بتایا کہ ایسا کیوں ہے۔
گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں
موتی میں تو خالی چمک دمک ہی تھی اور کچھ بھی نہ تھا ۔ وہ جو گراں بہا بنا تو اس لئے کہ اس میں خودی کا احساس تھا اس نے اس جوہر گراں قدر کی حفاظت کی تو یہ مقام حاصل کیا۔
یہی حال انسان کا ہے۔ قدرت نے ہر انسان میں استعدادیں ودیعت کی ہیں جو انسان ان فطری عطیوں کی قدر کرتا ہے، ان کی حفاظت کرتا ہے اور پھر ان کو بروئے کار لاتا ہے وہ موتی بنتا ہے ورنہ خزف ریزوں کی طرح کنارے پر گر کر خوار و پامال ہوتا ہے۔


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/