منتخب غزلیں
ناصؔر کاظمی یہ خوابِ سبز ہے یا رُت وہی پلٹ آئی چ…

ناصؔر کاظمی
یہ خوابِ سبز ہے یا رُت وہی پلٹ آئی
چھتوں پہ گھاس، ہَوا میں نَمی پَلٹ آئی
کُچھ اِس ادا سے دُکھایا ہے تیری یاد نے دِل
وہ لہر سی جو رگ و پے میں تھی پلٹ آئی
تِری ہنسی کے گلُابوں کو کوئی چُھو نہ سکا
صَبا بھی چند قدم ہی گئی، پلٹ آئی
… More




