منتخب غزلیں

راحت اندوری . کبھی اکیلے میں مل کر جھنجوڑ دُوں گا …

راحت اندوری
.
کبھی اکیلے میں مل کر جھنجوڑ دُوں گا اُسے
جہاں جہاں سے وہ ٹُوٹا ہےجوڑ دُوں گا اُسے

مجھے ہی چھوڑ گیایہ کمال ہے اُس کا!
اِرادہ میں نے کیا تھاکہ چھوڑ دُوں گا اُسے

پسینہ بانٹتا پِھرتا ہے ہر طرف سُورج
کبھی جو ہاتھ لگا تو نچوڑ دُوں گا اُسے

مزہ چکھا کے ہی مانا ہُوں میں بھی دُنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دُوں گا اُسے

بچا کے رکھتا ہے خود کووہ مجھ سے شیشہ بدن
اُسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دُوں گا اُسے
.
ڈاکٹر راحت اندوری


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/