منتخب غزلیں
اطہر نفیس کی وفات Nov 21, 1980 سکوت شب سے اک نغمہ…

اطہر نفیس کی وفات
Nov 21, 1980
Nov 21, 1980
سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے
وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے
غنیمت ہے کہ اپنے غمزدوں کو
وہ حسن خود نگر پہچانتا ہے
جسے کھو کر بہت مغموم ہوں میں
سنا ہے اس کا غم مجھ سے سوا ہے
کچھ ایسے غم بھی ہیں جن سے ابھی تک
دل غم آشنا نا آشنا ہے
بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن
جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے
مجھے ہر آن کچھ بننا پڑے گا
مری ہر سانس میری ابتدا ہے

