منتخب غزلیں
غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے۔۔۔شعری بھوپا…

غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے۔۔۔شعری بھوپالی۔۔!!
غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے
کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے
وہی نالہ وہی نغمہ بس اک تفریق لفظی ہے
قفس کو منتشر کر دو نشیمن نام ہو جائے
تصدق عصمت کونین اس مجذوب الفت پر
جو ان کا غم چھپائے اور خود بد نام ہو جائے
یہ عالم ہو تو ان کو بے حجابی کی ضرورت کیا
نقاب اٹھنے نہ پائے اور جلوہ عام ہو جائے
یہ میرا فیصلہ ہے آپ میرے ہو نہیں سکتے
میں جب جانوں کہ یہ جذبہ مرا ناکام ہو جائے
ابھی تو دل میں ہلکی سی خلش محسوس ہوتی ہے
بہت ممکن ہے کل اس کا محبت نام ہو جائے
جو میرا دل نہ ہو شعریؔ حریف ان کی نگاہوں کا
تو دنیا بھر میں برپا انقلاب عام ہو جائے


پھول کیوں مرجھا جاتا ہے ٹہنی سے ٹوٹنے کے بعد ہم نے یہ جانا محوب کے روٹھ جانے کے بعد
Aala