منتخب غزلیں
میرے والد جناب رحمت الہی برق اعظمی مرحوم : ایک تعا…

میرے والد جناب رحمت الہی برق اعظمی مرحوم : ایک تعارف
یہ سرود رفتہ ہے جو آپ کے پیشِ نظر
میرے والد کا عیاں ہے اس سے اعجاز ہُنر
نام تھا رحمت الہی اور تخلص برق تھا
ہے یہ برقی اعظمی ان کا ہی اک ادنیٰ پسر
تھا کبھی ’’ ایوان اردو‘‘ میں یہ دلکش سلسلہ
کچھ پرانی فائلوں میں جو مجھے آیا نظر
رحمت الٰہی برق اعظمی۱۹۱۱۔۱۹۸۳
رحمت الٰہی برق اعظمی جنھیں جانشین داغ دہلوی حضرت نوح ناروی سے شرف تلمذ حاصل تھا دیارِ شبلی شہر اعظم گڈھ کے ایک صاحبِ طرز اور باکمال استادِ سخن تھے جو اپنی خوئے بے نیازی ،خاکساری اور زمانے کی نا قدر شناسی کی وجہ سے گوشہ گمنامی سے باہر نہیں آسکے جیسا کہ ان کے اس شعر سے ظاہر ہے۔
نا آشنائے حال ہے بیچارہ کیا لکھے
ساکت قلم ہے میرے سوانح نگار کا
ان کی خوئے بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ
زحمت مشاعروں کی اٹھائے مری بلا
وہ دے رہے ہیں داد غزل کہہ رہا ہوں میں
روحِ عروض جھوم رہی ہے بصد خوشی
فن کر رہا ہے صاد غزل کہہ رہا ہوں میں
برق اعظمی کی شاعری ان کے فطری شعری و ادبی ذوق اور ذہنی و فکری آسودگی کا ذریعہ تھی جس کا وسیلۂ اظہار مقامی شعرو سخن کی محفلیں تھیں جن میں انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں اپنی استادانہ مہارتِ زبان و بیان کے جوہر دکھائے ہیں اور ان کی شاعرانہ عظمت صرف فصیلِ شہر تک محدود رہی۔ زبان و بیان پر غیر معمولی تبحر اور قادرالکلامی کی وجہ سے ان کا اشہبِ قلم ہر میدان میں یکساں جولانیاں دکھاتا ہے لیکن ان کا جوہرِ امتیازی غزل اور قصیدے میں زیادہ نمایاں ہے۔ان کی غزلیں قدیم و جدید اسالیبِ سخن کا ایک خوشنما مرقع ہیں جن میں لطفِ زبان اور حسنِ بیان کے ساتھ ساتھ بلند پروازیٔ خیال ،جدتِ ادا،تشبیہاتِ جدید ، استعارات لطیف ،دروں بینی،وسعتِ نظر اور دقتِ فکر بدرجۂ اتم موجود ہیں۔انھوں نے طرزِ ادا میں بہت سی جدتیں کیں اور بیان کے نئے نئے اسلوب پیدا کئے اور ہر حال میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا۔ وہ ایک معمولی سی بات کو لیتے ہیں اور اپنی مخصوص طرزِ ادا سے اس ندرت پیدا کردیتے ہیں۔۔ ان کی غزلوں میں عشق و ذوق،شور و شوق ،نکتہ پردازی ،مضمون آفرینی،سلاست و شیرینی،واردات و واقعات،سوز و گداز اور درد و تاثیر کی فرا وانی ہے۔
اس نابغۂ روزگار استادِ سخن کے چند شعر ملاحظہ ہوں۔
قبلِ تحریر سرِ خامہ قلم ہوتا ہے
تب کہیں عشق کا افسانہ رقم ہوتا ہے
ہے ماوارائے سخن برق گفتگو میری
خموش رہ کے بھی اکثر ہے بات کی میں نے
بے نتیجہ ہیں کتابوں کی ورق گردانیاں
ماجرائے عشق لفظوں میں بیاں ہوتا نہیں
آتشِ سیال کی صورت ہے رگ رگ میں لہو
جل رہا ہوں سر سے پا تک اور دھواں ہوتا نہیں
کشتیٔ دل رکے جہاں ہے وہی ساحلِ سکوں
منزل عمر ہے وہی نبض جہاں ٹھہر گئی
اف یہ کرشمہ سازیاں گردشِ روزگار کی
فصلِ بہار آئی جب قوتِ بال و پِر گئی
محبت میں محسوس ہوتا ہے ایسا
مرے دل کو جیسے کوئی مجھ کو چھینے
نئی افتاد پڑتی ہے ہمیشہ
نیا دل روز لاؤں میں کہاں سے
دل لگانا بُرا ہے یہ مانا
دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی
با لآخر یہ قادرالکلام اور صاحبِ طرز شاعر ۳،۲ اکتوبر ۱۹۸۳ کی درمیانی شب میں ۲ بج کر ۱۰ منٹ پر اس احساسِ محرومی کے ساتھ کہ
اُٹھ گئے گوہرِ مضموں کے پرکھنے والے
کیجئے پیش کسے اب دُرِ دریائے سخن
اس دارِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف یہ کہہ کر رخصت ہو گیا کہ
مرکے ہم اے برق پائیں گے حیاتِ جاوداں
ہے بقا کا پیش خیمہ اختتامِ زندگی
مجموعۂ کلام : تنویرِ سخن
مولفہ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
فرزندِ رحمت الٰہی برق اعظمی
یہ سرود رفتہ ہے جو آپ کے پیشِ نظر
میرے والد کا عیاں ہے اس سے اعجاز ہُنر
نام تھا رحمت الہی اور تخلص برق تھا
ہے یہ برقی اعظمی ان کا ہی اک ادنیٰ پسر
تھا کبھی ’’ ایوان اردو‘‘ میں یہ دلکش سلسلہ
کچھ پرانی فائلوں میں جو مجھے آیا نظر
رحمت الٰہی برق اعظمی۱۹۱۱۔۱۹۸۳
رحمت الٰہی برق اعظمی جنھیں جانشین داغ دہلوی حضرت نوح ناروی سے شرف تلمذ حاصل تھا دیارِ شبلی شہر اعظم گڈھ کے ایک صاحبِ طرز اور باکمال استادِ سخن تھے جو اپنی خوئے بے نیازی ،خاکساری اور زمانے کی نا قدر شناسی کی وجہ سے گوشہ گمنامی سے باہر نہیں آسکے جیسا کہ ان کے اس شعر سے ظاہر ہے۔
نا آشنائے حال ہے بیچارہ کیا لکھے
ساکت قلم ہے میرے سوانح نگار کا
ان کی خوئے بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ
زحمت مشاعروں کی اٹھائے مری بلا
وہ دے رہے ہیں داد غزل کہہ رہا ہوں میں
روحِ عروض جھوم رہی ہے بصد خوشی
فن کر رہا ہے صاد غزل کہہ رہا ہوں میں
برق اعظمی کی شاعری ان کے فطری شعری و ادبی ذوق اور ذہنی و فکری آسودگی کا ذریعہ تھی جس کا وسیلۂ اظہار مقامی شعرو سخن کی محفلیں تھیں جن میں انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں اپنی استادانہ مہارتِ زبان و بیان کے جوہر دکھائے ہیں اور ان کی شاعرانہ عظمت صرف فصیلِ شہر تک محدود رہی۔ زبان و بیان پر غیر معمولی تبحر اور قادرالکلامی کی وجہ سے ان کا اشہبِ قلم ہر میدان میں یکساں جولانیاں دکھاتا ہے لیکن ان کا جوہرِ امتیازی غزل اور قصیدے میں زیادہ نمایاں ہے۔ان کی غزلیں قدیم و جدید اسالیبِ سخن کا ایک خوشنما مرقع ہیں جن میں لطفِ زبان اور حسنِ بیان کے ساتھ ساتھ بلند پروازیٔ خیال ،جدتِ ادا،تشبیہاتِ جدید ، استعارات لطیف ،دروں بینی،وسعتِ نظر اور دقتِ فکر بدرجۂ اتم موجود ہیں۔انھوں نے طرزِ ادا میں بہت سی جدتیں کیں اور بیان کے نئے نئے اسلوب پیدا کئے اور ہر حال میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا۔ وہ ایک معمولی سی بات کو لیتے ہیں اور اپنی مخصوص طرزِ ادا سے اس ندرت پیدا کردیتے ہیں۔۔ ان کی غزلوں میں عشق و ذوق،شور و شوق ،نکتہ پردازی ،مضمون آفرینی،سلاست و شیرینی،واردات و واقعات،سوز و گداز اور درد و تاثیر کی فرا وانی ہے۔
اس نابغۂ روزگار استادِ سخن کے چند شعر ملاحظہ ہوں۔
قبلِ تحریر سرِ خامہ قلم ہوتا ہے
تب کہیں عشق کا افسانہ رقم ہوتا ہے
ہے ماوارائے سخن برق گفتگو میری
خموش رہ کے بھی اکثر ہے بات کی میں نے
بے نتیجہ ہیں کتابوں کی ورق گردانیاں
ماجرائے عشق لفظوں میں بیاں ہوتا نہیں
آتشِ سیال کی صورت ہے رگ رگ میں لہو
جل رہا ہوں سر سے پا تک اور دھواں ہوتا نہیں
کشتیٔ دل رکے جہاں ہے وہی ساحلِ سکوں
منزل عمر ہے وہی نبض جہاں ٹھہر گئی
اف یہ کرشمہ سازیاں گردشِ روزگار کی
فصلِ بہار آئی جب قوتِ بال و پِر گئی
محبت میں محسوس ہوتا ہے ایسا
مرے دل کو جیسے کوئی مجھ کو چھینے
نئی افتاد پڑتی ہے ہمیشہ
نیا دل روز لاؤں میں کہاں سے
دل لگانا بُرا ہے یہ مانا
دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی
با لآخر یہ قادرالکلام اور صاحبِ طرز شاعر ۳،۲ اکتوبر ۱۹۸۳ کی درمیانی شب میں ۲ بج کر ۱۰ منٹ پر اس احساسِ محرومی کے ساتھ کہ
اُٹھ گئے گوہرِ مضموں کے پرکھنے والے
کیجئے پیش کسے اب دُرِ دریائے سخن
اس دارِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف یہ کہہ کر رخصت ہو گیا کہ
مرکے ہم اے برق پائیں گے حیاتِ جاوداں
ہے بقا کا پیش خیمہ اختتامِ زندگی
مجموعۂ کلام : تنویرِ سخن
مولفہ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
فرزندِ رحمت الٰہی برق اعظمی



