منتخب غزلیں
یوم پیدائش راسخ عرفانی 12 دسمبر 1912 سایہ سا اک…

یوم پیدائش راسخ عرفانی
12 دسمبر 1912
سایہ سا اک خیال کی پہنائیوں میں تھا
ساتھی کوئی تو رات کی تنہائیوں میں تھا
ہر زخم میرے جسم کا میرا گواہ ہے
میں بھی شریک اپنے تماشائیوں میں تھا
غیروں کی تہمتوں کا حوالہ بجا مگر
میرا بھی ہاتھ کچھ مری رسوائیوں میں تھا
ٹوٹے ہوئے بدن پہ لکیروں کے جال تھے
قرنوں کا عکس…


