منتخب غزلیں
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر میں نے اس کو…

وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
…..
ظہور نظر کا یومِ پیدائش
Aug 22, 1923
(پیدائش: ۲۲؍اگست ۱۹۲۳ء – وفات: 7 ستمبر، 1981ء)
——
منتخب کلام
——
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
——
اپنی صورت بگڑ گئی لیکن
ہم انہیں آئینہ دکھا کے رہے
——
خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی
میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی
——
بعد ترک الفت بھی یوں تو ہم جئے لیکن
وقت بے طرح بیتا عمر بے سبب گزری
——
تنہائی نہ پوچھ اپنی کہ ساتھ اہل جنوں کے
چلتے ہیں فقط چند قدم راہ کے خم بھی
——
دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترک محبت ترک تمنا کر چکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں
درد ہماری محرومی کا تم تب جانو گے
جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں کیسے بتائیں تمہیں
جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا
ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں
رنگ برنگے گیت تمہارے ہجر میں ہاتھ آئے
پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں
اڑتے پنچھی ڈھلتے سائے جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا دامن تھام کے روز بلائیں تمہیں
دور گگن پر ہنسنے والے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے آؤ ہاتھ لگائیں تمہیں
پاس ہمارے آکر تم بیگانہ سے کیوں ہو
چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں
انہونی کی چنتا ہونی کا انیائے نظرؔ
دونوں بیری ہیں جیون کے ہم سمجھائیں تمہیں
——
چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں
کس قدر گنجان جنگل تھا رہا کچھ بھی نہیں
خاک پائے یاد تک گیلی ہوا نے چاٹ لی
عشق کی غرقاب بستی میں بچا کچھ بھی نہیں
حال کے زنداں سے باہر کچھ نہیں جز رود مرگ
اور اس زنداں میں جز زنجیر پا کچھ بھی نہیں
ہجر کے کالے سمندر کا نہیں ساحل کوئی
موجۂ طوفان دہشت سے ورا کچھ بھی نہیں
آبنائے درد کے دونوں طرف ہے دشت خوف
اب تو چارہ جان دینے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہاتھ میرا اے مری پرچھائیں تو ہی تھام لے
ایک مدت سے مجھے تو سوجھتا کچھ بھی نہیں
شہر شب میں کون سا گھر تھا نہ دی جس پر صدا
نیند کے اندھے مسافر کو ملا کچھ بھی نہیں
رات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرف
جان لیوا خوف تھا لیکن ہوا کچھ بھی نہیں
کاسۂ جاں ہاتھ میں لے کر گئے تھے ہم وہاں
لائے اس در سے بجز خون صدا کچھ بھی نہیں
عمر بھر عمر گریزاں سے نہ میری بن سکی
جو کرے کرتی رہے میں پوچھتا کچھ بھی نہیں
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
دولت تنہائی بھی آنے سے تیرے چھن گئی
اب تو میرے پاس اے جان وفا کچھ بھی نہیں
دل پہ لاکھوں لفظ کندہ کر گئی اس کی نظر
اور کہنے کو ابھی اس نے کہا کچھ بھی نہیں
………………..
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
…..
ظہور نظر کا یومِ پیدائش
Aug 22, 1923
(پیدائش: ۲۲؍اگست ۱۹۲۳ء – وفات: 7 ستمبر، 1981ء)
——
منتخب کلام
——
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
——
اپنی صورت بگڑ گئی لیکن
ہم انہیں آئینہ دکھا کے رہے
——
خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی
میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی
——
بعد ترک الفت بھی یوں تو ہم جئے لیکن
وقت بے طرح بیتا عمر بے سبب گزری
——
تنہائی نہ پوچھ اپنی کہ ساتھ اہل جنوں کے
چلتے ہیں فقط چند قدم راہ کے خم بھی
——
دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترک محبت ترک تمنا کر چکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں
درد ہماری محرومی کا تم تب جانو گے
جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں کیسے بتائیں تمہیں
جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا
ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں
رنگ برنگے گیت تمہارے ہجر میں ہاتھ آئے
پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں
اڑتے پنچھی ڈھلتے سائے جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا دامن تھام کے روز بلائیں تمہیں
دور گگن پر ہنسنے والے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے آؤ ہاتھ لگائیں تمہیں
پاس ہمارے آکر تم بیگانہ سے کیوں ہو
چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں
انہونی کی چنتا ہونی کا انیائے نظرؔ
دونوں بیری ہیں جیون کے ہم سمجھائیں تمہیں
——
چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں
کس قدر گنجان جنگل تھا رہا کچھ بھی نہیں
خاک پائے یاد تک گیلی ہوا نے چاٹ لی
عشق کی غرقاب بستی میں بچا کچھ بھی نہیں
حال کے زنداں سے باہر کچھ نہیں جز رود مرگ
اور اس زنداں میں جز زنجیر پا کچھ بھی نہیں
ہجر کے کالے سمندر کا نہیں ساحل کوئی
موجۂ طوفان دہشت سے ورا کچھ بھی نہیں
آبنائے درد کے دونوں طرف ہے دشت خوف
اب تو چارہ جان دینے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہاتھ میرا اے مری پرچھائیں تو ہی تھام لے
ایک مدت سے مجھے تو سوجھتا کچھ بھی نہیں
شہر شب میں کون سا گھر تھا نہ دی جس پر صدا
نیند کے اندھے مسافر کو ملا کچھ بھی نہیں
رات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرف
جان لیوا خوف تھا لیکن ہوا کچھ بھی نہیں
کاسۂ جاں ہاتھ میں لے کر گئے تھے ہم وہاں
لائے اس در سے بجز خون صدا کچھ بھی نہیں
عمر بھر عمر گریزاں سے نہ میری بن سکی
جو کرے کرتی رہے میں پوچھتا کچھ بھی نہیں
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
دولت تنہائی بھی آنے سے تیرے چھن گئی
اب تو میرے پاس اے جان وفا کچھ بھی نہیں
دل پہ لاکھوں لفظ کندہ کر گئی اس کی نظر
اور کہنے کو ابھی اس نے کہا کچھ بھی نہیں
………………..


