#دربار_عشق #عائشہ_اقبال #ناول_ہی_ناول #قسط_نم…

#عائشہ_اقبال
#ناول_ہی_ناول
#قسط_نمبر_32
وہ دونوں تیار ہوکر باہر نکلی.محرما ایک منٹ میں اپنا پرس بھول گئی ہوں تم گاڑی میں بیٹھو میں لے کر آتی ہوں .
وہ جلدی جلدی میں بولی.
پرس تو تمہارے ہاتھ میں ہے .محرما نے اسے دیکھا.نہیں وہ …
آئی مین میں اپنا سیل بھول آئی ہوں .وہ ایک سیکنڈ کے لیے گھبرائی.
اوکے .ابیرہ فورا اندر کیطرف لپکی .
کیا کروں ….. وہ جلدی جلدی سوچنے لگی.کچھ دیر سوچنے کے بعد ایک پلین ترتیب دیا جاچکا تھا
آؤؤ وہ چینخی محرما باہر اسکا کبھی سے انتظار کررہی تھی اسکے چیخنے پہ اندر بھاگی.جہاں ابیرہ زمین پہ بیٹھی اپنے پاؤں پہ کڑرہی تھی .کیا ہوا وہ فورا اسکے پاس آئی.محرما…
میں اتنی زور سے ابھی گری ہوں .مہرام بھی ڈورتا ہوا آپہنچا.
اسنے فورا ابیرہ کو ہاتھ دے کر اٹھایا اور صوفے پہ بٹھایا.
اک منٹ میں ابھی تمہیں اینٹی پین اسپرے کردیتا ہوں .اس سے تمہیں آرام آجائے گا.مہرام کے جاتے ہی وہ اسے کہنے لگی
محرما ویسے بھی بہت لیٹ ہوچکا ہے.تم ایک کام کرو بھائی کے ساتھ شاپنگ پہ چلی جاؤ ہماری پاس ٹائم بلکل بھی نہیں ہے .
محرما خاطر خواہ جواب دینے کے بجائے اسکے پیر کو دیکھنے لگی
مہرام نے آکر سے اسپرے کیا.
مہرام بھائی آپ سے ریکویسٹ ہے پلیز محرما کو شاپنگ پہ لے جائیے .میرے پیر میں بہت تکلیف ہورہی ہے ذرا سا موو بھی نہیں ہورہا ابیرہ نے چہرے پہ مصنوعی درد لاتے کہا.
مہرام نے اک نظر محرما پہ ڈالی جو نا جانے کن سوچوں میں گم تھی.
چلیں مہرام نے اسکی طرف رخ کرکے کہا.
ہممم …..
محرما سر جھکائے اسکے پیچھے چلنے لگی.
ابیرہ دونوں کو ساتھ جاتا دیکھ کر بہت خوش ہوئی.
ایک وہ وقت تھا جب وہ اسے اپنی گاڑی میں بیٹھانا نہیں چاہتا تھا اور ایک وقت آج ہے وہ اپنا کچھ اس پہ نیچھاوڑ کرچکا ہے .
وہ کار کا فرنٹ ڈور کھڑے اسکا بیٹھنے کا انتظار کررہا تھا .جب محرما نے پہلے اسکی کار کو دیکھا پھر مہرام پہ حقارت بھری نگاہ ڈالی.
وقت وہی منظر واپس ان کے سامنے لایا.
مہرام شاہ .تم سے کس نے کہہ دیا کہ میں تمہارے ساتھ تمہاری اس گٹھیا کار میں بیٹھ جاؤنگی .اسے وہ دن یاد آچکا تھا .جب وہ زخمی پیر کے ساتھ گھر گئی تھی .بہت غرور تھا تمہیں اپنی شاہانہ وجاہت پہ نہ .اپنی عالی شان کوٹھری اور کار پہ.
یاد آیا تمہیں جب تم نے بھی بلکل اسی طرح میرے ساتھ کیا تھا.
دیکھو وقت نے سود سمیٹ بدلا لے لیا.اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن
خدا کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا.
مجھے حیرت ہوتی ہے
مہرام شاہ میں آج کیوں میرے لیے اتنی محبت جھلک رہی ہے.
وہ لفظوں میں تلخی گھولے گویا ہوئی.
کیونکہ …
مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے محرما تم کیوں نہیں سمجھتی .ندامت آج بھی ان آنکھوں میں پنہاں تھی
کیا تمہیں میری آنکھوں میں کچھ نہیں دِکھتا.یا پھر دیکھنا نہیں چاہتی وہ اسکے سامنے آتے ہوئے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا.
محرما اسکی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے نظریں جھکاگئی.
میں چاہتا ہوں تم مجھ سے لڑو مجھے میرے گناہوں کی سزا دو .لیکن پلیز میری محبت پہ یقین کرو .بے بس لہجہ نرم پڑتا گیا.
انسان اپنی ہی محبت کے آگے کتنا بے بس ہوجا تا ہے .اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے یقین دلائے .
میں کیسے تم پہ یقین کرلوں جب تمہیں مجھے انتہا درجے کی نفرت تھی تو مجھے ہر وقت باور کراتے رہتے تھے کہ .
میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا یہ تمہارے ہی الفاظ تھے .مجھے اس سیاہ کمرے میں بند کرکے جانے والے بھی تم ہی تھے جب تمہیں کوئی ترس نہیں آیا میں کیسے اس شخص پہ اعتبار کرلوں جو ہمیشہ مجھے درد سے نوازتا رہا.پوری دنیا کے لیے وہ نرم بن جاتا تھا مگر میرے سامنے وہ صرف زہر اگلتا رہا ہے جو ہر وقت مجھ پہ ظلم ڈھاتا رہا .
آنسو اسکے آنکھوں سے جھانک رہے تھے .وہ اپنی اذیت کو اسکے سامنے بیان کررہی تھی .
کیوں تم میری زندگی میں واپس آگئے ہو وہ کھڑے کھڑے رونے لگ گئی .
محرما پلیز ایسے نہ روؤ میں مرجاؤنگا .میں مزید تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھنا چاہتا.تمہارے یہ آنسو مجھ سے میرے جینے کی رمق چھین لیتے ہیں .میں تم سے دور نہیں رہ سکتا .
اسنے محرما کے آنسو پوچھنے کے لیے ہاتھ بڑھائے.
لیکن وہ فورا پیچھے ہٹی.
دور رہو مجھ سے مہرام شاہ .
مجھے تم سے نفرت ہے بے شک تم بدل گئے ہوگے تمہاری نفرت محبت میں بدل گئی ہوگی .لیکن میں آج تک وہی ہوں .
جو تم سے پہلے بھی نفرت کرتی تھی اور آج بھی جی جان سے نفرت کرتی ہے .
نفرت نبھانے کے بڑے دعوے کیا کرتے تھے ذرا اپنی محبت نبھا کر دیکھاؤ میں بھی تو دیکھوں کہاں تک سچے ہو.
اگر واقعی مجھے سے تمہیں سچی محبت ہوگئی ہے وہ کچھ دیر کے لیے رکی.
خزاں رسیدہ پتے کی مانند اسکا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا.
آزما کر دیکھ لو.مہرام نے بجھتے لہجے سےکہا.میری آزمائش پہ پورا اتر کر دیکھاؤگے وہ اس سے خود کو چھیننے کا فیصلہ کرچکی تھی.
زندگی کی ہر سانس لٹادونگا تمہاری دی ہوئی ہر آزمائش کو پورا کرنے کے لیے.
مہرام نے خود کو اسے سونپتے کہا.
ٹھیک ہے پھر مجھے ریسییپشن کے بعد ڈائیوورس دوگے محرما نے اپنے آنسو کوپونچھ کر کہا.
ماحول میں سکتا طاری ہوگیا تھا.
اسکے جسم سے روح کھینچ لی گئی تھی.وہ فقط ڈھانچا رہ گیا تھا اسے صرف محرما کے متحرک ہونٹ نظر آرہے تھے .
محرما کے الفاظ اسکے لیے بم کی طرح اسکی سماعتوں پہ گرے .
آسمان پورا جھک آیا تھا.
ٹھیک ہے …
دل۔لگی ہوتی تو بھول جاتے تم کو
عشق ہوا ھے نس نس میں بسے ہو تم
بچی کچی قوت اکٹھا کرکے وہ صرف دو لفظ ہی کہہ پایا.
یہ لفظ بولنا اسے سانس کو وجود سے جدا ہونے کی طرح محسوس ہوئے وہ ہارے ہوئے لہجے میں بولتا ہوا منظر سے غائب ہوگیا.
وہ رویا نہیں تھا مگر آنکھیں سرخ ہوگئی تھی.
.وہ اپنی دنیا ہار چکا تھا .وہ کیسے اسکی بات ٹال سکتا تھا جو روتے روتے اس سے الگ ہونے کا کہہ رہی تھی.وہ مزید اسکے آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا.
جاتے ہوئے جی "بھر "کے اُسے” دیکھ "تو لُوں میں…..
اے آنکھ ! ٹھہر…تجھ کو تو” رونے” کی پڑی ہے …
……
سانس کی کپکپکی نہیں جاتی
زخم بهرتے نہیں ہیں آنکهوں کے
درد کے ایک ایک ریشے کو
کهینچ کے یوں ادهیڑتا ہے دل
جسم کی ایڑیوں سے چوٹی تک
تار سا اک نکلتا جاتا ہے
روح کی چیخ گهونٹ رکهی ہے
آه بهینچے ہوئے ہوں دانتوں میں !
تم نے بهیجا تو ہے سہیلی کو
جسم کے زخم دیکھ جائے گی
روح کا درد کون دیکهے گا ؟
وہ شکستہ وجود کا بوجھ اٹھائے بوجھل قدموں سے اپنے کمرے میں گیا.کمرے میں توڑ پھوڑ کی آواز ابیرہ کے کانوں میں گونج رہی تھی.اسنےڈریسنگ سے تمام چیزیں زمین بوس کردی تھی.وہ زمین پہ بیٹھتا چلا گیا .
عشق کا عین عقلوں کو منجمد کرچکا تھا
عشق کے شین نے شہ رگ تک کو بڑی بے دردی سے کچل دیا تھا
اور عشق کا قاف سفاک قاتل ٹہرا.
اذیت اسکے وجود کی نس نس کو تڑپاگئی تھی.وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے بالوں کو نوچ چکا تھا.
دو سالوں میں اتنی اذیت نہیں اٹھائی تھی جتنی ان دس منٹ میں اٹھالی تھی .کیوں ملی تم مجھے
…کیوں …
وہ اپنے بالوں کو بدستور کھینچے چِلارہا تھا. محرما ما رویہ اسکے ضبط کو ختم کرچکا تھا.
کاش….
میں پوری زندگی تمہیں ڈھونڈنے میں گزاردیتا تم نہ ملتی ..
کاش .
تم مجھے کبھی نہ ملتی
میں تمہاری چاہ میں تڑپ تڑپ کے مر جاتا.
کاش میں تم سے ملنے کی دعائیں نہیں مانگتا .
کاش میری تمام دعائیں رد کردی جاتی.
تمہاری آہیں آج تک میرا پیچھا کرتی ہے.مجھے جینے نہیں دیتی .
ٹھیک تھی تم محرما .صحیح کہتی تھی .میں تڑپونگا.گرونگا ….
لو آج میں تڑپ رہا ہوں .
آؤ دیکھوں …اپنی جیت کا جشن بناؤ.
میں ہار گیا.
میں تمہارے عشق میں ہارگیا
وہ زمین پہ پورا جھک گیا تھا.آواز وجود کے ساتھ لرز تھی.
قطرہ قطرہ عشق کا خون اسکے آنکھوں سے بہہ رہا تھا.
اسے اپنی سانس اکھڑی اکھڑی محسوس ہونے لگی.وہ اٹھ کر باتھ روم گیا.
یخ ٹھنڈے پانی کے فوارے کے نیچے کھڑا ہوگیا .عشق کی تپش نے اسے خاکستر کردیا تھا .محسوسیات کی تمام حساس صرف عشق کی حدت کو محسوس کرسکتی تھی.
وہ کتنی دیر ایسا ساکت کھڑا رہا .یہاں بھی اسے مطلوبہ سکون میسر نہیں آیا .بے چین قلب ہچکولے کھارہا تھا.خوب بھیگنے کے بعد وہ باہر نکلا.
ﻣﺠﮭﮯ نہ ﺳﺎﻧﺲ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ
نہ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻡ ﻧﮑﻠﺘﺎ ہے
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﯿﭻ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﺎ ہے
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻧﮧ ﺍُﮔﻠﺘﺎ ہے
نہ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﮧ ﭘﭩﺨﺘﺎ ہے
ﺍُﺑﮭﺮﻧﺎ ﮈﻭﺑﻨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﺎ ہے
ﺟﻮ ﺗﻢ ﺑﻮﻟﻮ ﺳﻨﻮﺭ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺟﻮ ﺗﻢ ﺑﻮﻟﻮ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﭨﻮﭨﻨﺎ ﺟﮌﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﺎ ہے
ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﺎﻧﻮ ﺗﻮ ﺑﺘﻼﺋﯿﮟ
ﺟﻮ ﺗﻢ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ
ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﻦ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﭘﻦ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﺎ ہے۔۔۔
پھر گیلری میں گھسا.آنسو متواتر بہہ رہے تھے.
چاند آسمان پہ تاریک تھا.کیا اس چاند کی میں نے تمنا کی تھی..
اسنے سیل نکال کر کال کی.کل تک مجھے ڈائیورس کے کاغذات چاہیے.
جی میری ڈائیورس کے لیے ..
مخالف کے پوچھنے پر اسنے آنسو روکے جواب دیا
وہ کار کی چابی اٹھائے باہر گیا.
……..
عشق لاحاصل کی تمنا لیے وہ اپنی مخصوص مسجد میں آگیا.ماضی کے سفر کی صعوبتیں اسے بے کل کرچکی تھی.پرانی انا اور غرور نے اسے خاکستر کردیا تھا.
ندامت کا بوجھ اٹھائے, اپنا کرچی کرچی وجود اللہ کے حضور پیش کرنے لگا.وہ رب ہی تو انسانوں کی واحد آس ہوتی ہے ملال و ہجر کی داستانیں اسے ہی تو سناتا رہا ہے وہ.
اداسی میں وہ سب کچھ چھوڑنا چاہتا تھا.کسی حرام کام کو اختیار کرنے سے اسے فقط اس رب کا توکل ہی تو بچاتا رہا ہے واحد خدا کی بندگی اسے مزید بکھرنے نہیں دیتی .اسکے بکھرے وجود کو سمیٹنے کی طاقت صرف خدا تعالی کے پاس ہی تو ہے.رنج و الم میں ہمیں اسکی عبادت سے سہارا لینا چاہیے زندگی میں بڑے سے بڑے دکھ انسان کو ہرا سکتے ہیں لیکن رب عزوجل کے لیے سجدہ ریز ہونا اسے ٹوٹنے بچا دیتا ہے
مجاور کی یہی باتیں اسے مرنے نہیں دیتی تھی.
رات کافی گہری ہوتی جارہی تھی وہ وہی پہ بیٹھا اپنے دل کے دکھرے خدا کے گوش گزار کررہا تھا.کیسا پیارا رشتہ ہوتا ہے بندے اور خالق کا .بندہ روتا ہے بلکتا ہے تڑپتا ہے ٹھوکرے کھاتا ہے
لیکن مڑکر گرکر توٹ کر بکھر کر وہ اپنے خالق حقیقی کی طرف ہی لوٹتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے دنیا کے تمام دروازہ بند ہوجائے مگر خدا کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوگا.جب تک سانس سینے میں موجود ہے وہ معافی مانگتا رہے گا اور خالق اسے معاف کرتا رہے گا .
اپنا عشق مزاجی کا رخ ذرا عشق حقیقی کی طرف موڑکر تو دیکھو.پھر دیکھنا وہ کیسے کیسے راز منکشف کرتا ہے مجاور نے اسکی سوجھی ہوئی سرخ آنکھوں میں دیکھ مر مشورہ دیا .
رب بندے سے فرماتا ہے جو
ایک بالشت مجھ سے قریب ہوتا ہے میں اس سے گز بھر قریب ہو جاتا ہوں جو میری طرف گز بھر بڑھتا ہے میں دو گز اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں جو میری طرف خراماں خراماں آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔
وادی محبت میں محب کو قرار نہیں ہو تا محبت الٰہی کے سمندر کی امواج کبھی عاشق کو نیچے لے جاتی ہیں اور کبھی اوپر لاتی ہیں۔ بندہ عشق دیکھنے میں حاضر مگر شاہد حقیقی کے خیال میں اپنی ہستی سے غائب، محویت بحر عشق میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے دونوں جہاں سے بے خبر نہیں۔ سوائے خیال محبوب کے نہ کسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور نہ کسی کی بات سنتا ہے جب وہ خداکی محبت اختیار کر کے الفت کے رنگ میں سرتاپا ڈوب جاتا ہے تو اس پر عشق الٰہی غالب آجاتا ہے۔ذیادتی محبت اور مسرت روحانی سے دل ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ پھر اس معصوم ہستی کے قلب پر حقائق و معارف کا انکشاف ہوتا ہے دل کے گوشہ گوشہ میں شمع الفت خداوندی کی روشنی چھا جاتی ہے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ عاشق ساختہ کا مرتبہ بلند ہوگیا ہے کہ وہ ساری دنیا پر چھایا ہواہے خدا کی طلب نے عاشق کو ماسوائے حق سے فارغ اور اس کی محبت کے استغراق نے اسے سب سے بے پرواہ کر دیا ہے.
اپنی ہستی عشق کیلئے وقف کردے۔ یاد محبوب میں ایسا بے خود ہو جا کہ اپنی بھی مطلق خبر نہ رہے جس طرح کسی لبریزتالاب کا بند شکستہ ہو نے پراس کا پانی شور سے بہہ نکلتا ہے۔ اور خس و خاشاک کواپنے ساتھ بہالے جاتا ہے اس طرح جس دل میں عشق کا جذبہ عظیم پیدا ہو جائے تو پھر یہ روکنے سے نہیں رکتا اور بوجہ شکستگی ، دل کا روکاہوا سیلاب جب بہہ نکلتا ہے تو خواہشات ماسوائے "ﷲ” دل سے غائب ہوجاتی ہیں اور وہ دینوی دولت و آرام سے بے پرواہ اور دنیا و مافیھا سے بے خبر ہو جاتا ہے..
صوفیاء کا کہنا ہے کہ عشق الہی ہی راز حیات ہے۔ اگر اسکی آگ دل میں نہ ہو تو وہ گوشت کا ایک بے جان ٹکڑا ہے اور اگر اس میں حرارت ہو توانوار الہیہ کا محل۔
"سلامتی دل عشاق ازمحبت تسبت وگرنہ ایں دل پر خوں چر جائے منزل تست”
(وادی عشق کے مسافر کی قلبی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اسے ایک لمحہ بھی اﷲ کے بغیر چین نہیں ملتا) …
وہ پوری رات رب کی قربت میں گزادینا چاہتا تھا.فجر کی اذان نے اسکی محویت توڑی اور وہ کھڑا ہوکر صرف رب کی بندگی کی نیت سے نماز کی نیت باندھنے لگا.
رب کے لیے خالص عبادت کرنے والے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے ورنہ بیشتر لوگ عبادت فقط ریاکاری ,دکھاوا,اپنے دکھوں کو بھلانے کے لیے, فرض عبادات کی نیت سے عبادات ادا کرتے ہیں .اور کچھ لوگ تو ایک فارمیٹیلی کے لیے ہی نماز ادا کرلیتے ہیں جیسا انسان ویسی اسکی نیتیں .
کیا ایسا کرنا درست ہے صرف اپنے دل سے پوچھیے جسے خدا نے اپنا گھر قرار دیا ہے.
خداکی عبادت کرنی ہے تو اس رب عزوجل کے لیے کریں .اسکی محبت میں ڈوب کر ,اسکی ان گنت نعمتوں کی شاکر بن کر,اسکی چاہت میں مستغرق ہوکر کریں تو کیسا دلی سکون میسر آتا ہے.
آج وہ درد سے چور ہوکر آیا تھا مگر الہامات نے اسکے بکھرے وجود کو نئی جدت بخشی تھی.دربار عشق. نے اسے صبر کی تلقین دے کر پورے جوش و خروش سے رخصت کیا تھا.
دربار عشق سے خیرات جو ملی مجھ کو
میرے نصیب کے کاسے میں تیرا انتظار آیا
……….
محرما نے خوبصورت سا کوفی اور پنک کلر کا فروک زیب تن کیا تھا.جو مہرام نے آن لائن ارجنٹ آرڈر کردیا تھا .باقی تمام میچنگ بھی ساتھ اس میں شامل تھی.بیوٹیشن نے اسے کمال مہارت سے تیار کردیا تھا.
واؤ محرما تم کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی .واقعی بھائی کی چوائس اتنی زبردست ہوگی مجھے نہیں معلوم تھا .ابیرہ اسکے سراپے کا جائزہ لیتےبولی.
محرما ناجانے کیوں نروس ہورہی تھی حالانکہ آج اسے اس نکاح سے چھٹکارا ملنے والا تھا .


