افسانے
گاؤں کی ساری زمین تیس لاکھ میں بیچ کر یہاں ایک گھر بنایا تھا ۔ پانچ میرے بچے ہیں…

گاؤں کی ساری زمین تیس لاکھ میں بیچ کر یہاں ایک گھر بنایا تھا ۔ پانچ میرے بچے ہیں ۔ جب ہم نے گھر بناۓ تو ہم نے سی ڈی اے والوں کو پیسے دیے ہیں ۔ کلمے کہ قسم اٹھا کر کہتا ہوں یہاں دو مہنے پہلے میں اپنی دیوار بنوائی اور اس کو پچیس ہزار سی ڈی اے کو دیا ۔ ہماری ساری زندگی کی کمائی انہوں نے دو گھنٹوں میں ملیا میٹ کر دی ۔ اسی سی ڈی اے نے ہمیں بجلی کے میٹر گیس کے میٹر لگانے کی آجازت دی ہمیں اس وقت بولتے ۔ مجھے تو ابھی یہاں آٹھ / دس سال ہی ہوئے ہیں لیکن اس سی ڈی اے نے تو ان کے گھر بھی گرا دیے جو یہاں کے جدی پشتی تھے جو یہاں اسلام آباد کے آباد ہونے سے پہلے سے رہ رہے ہیں / تھے ۔ کئی لوگوں کے گھر یہاں اڑھائی اڑھائی کڑور کے بھی تھے وہ بھی گرا دیے ۔ جو کمائی کی تھی وہ ان گھروں پر ہی لگائی تھی ۔ دو دن ہو گۓ اپنے بچے لے کر اس ملبے پر بیٹھے ہوۓ ہیں اور اس حکومت کو دن رات بدعا دے رہے ہیں ۔
منقول ۔
منقول ۔
سوچیں کہ یہ بستی بھلے قانونی نہ ہوگی لیکن سوچیں کہ یہاں بجلی کیسے پہنچی ؟ پانی ؟ گیس ؟ سڑکیں ؟
پھر لوگوں کے گھر گرانے سے پہلے کوئی اُن کو معقول معاوضہ یا اُنھیں بسانے کا کوئی اِنتظام ؟ قانونی غیر قانونی کیا ہوتا ہے ؟ ایک شہری جو کِسی ریاست کی زمین پر بس رہا ہے اُس کو اوّل تو قانونی طریقے سے وہاں رہنا چاہیئے لیکن سوال وہیں آن کھڑا ہوتا ہے کہ گھر یا بستی راتوں رات تو نہیں بنی ناں جی ۔ پھر دیگر سہولیات دی گئیں تو کیسے ؟
گھر کسی کا گرانا بڑے ظلم کی بات ہے کم سے کم الفاظ میں بھی ۔
Haroon Malik.
Source


