منتخب غزلیں

اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی رات ک…

اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی
آرزو لکھنوی کا یومِ وفات
Apr 16, 1951
17 فروری 1873ء اردو کے معروف شاعر جناب آرزو لکھنوی کی تاریخ پیدائش ہے۔
آرزو لکھنوی کا اصل نام سید انوار حسین تھا اور وہ لکھنو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے جس کا اوڑھنا بچھونا شاعری تھا۔ گھر کی روایت کے مطابق انہوں نے بھی شاعری کو اپنایا اور ضامن علی جلال لکھنوی کے شاگرد ہوگئے۔ 16 اپریل 1951ء کو آرزو لکھنوی کراچی میں وفات پاگئے۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
دو تند ہوائوں پر بنیاد ہے طوفاں کی
یا تم نہ حسیں ہوتے یا میں نہ جواں ہوتا
——
منتخب کلام
——
پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح
زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں
——
وفا تم سے کریں گے دکھ سہیں گے ناز اٹھائیں گے
جسے آتا ہے دل دینا اسے ہر کام آتا ہے
——
جو دل رکھتے ہیں سینے میں وہ کافر ہو نہیں سکتے
محبت دین ہوتی ہے وفا ایمان ہوتی ہے
——
اللہ اللہ حسن کی یہ پردہ داری دیکھیے
بھید جس نے کھولنا چاہا وہ دیوانہ ہوا
——
بھولے بن کر حال نہ پوچھ بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو
——
حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور
خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے
——
کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا
لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی
——
دفعتاً ترک تعلق میں بھی رسوائی ہے
الجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر
——
محبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہے
بڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے
——
ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر
اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی
——
ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر
اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی
——
برسوں بھٹکا کیا اور پھر بھی نہ ان تک پہنچا
گھر تو معلوم تھا رستہ مجھے معلوم نہ تھا
——
اک منتظر وعدہ جا کر کہیں کیا بیٹھے
گھبرایا جو دل گھر میں دروازے پہ آبیٹھے
اک اپنے فغاںکش سے اللہ یہ بے دردی
سب کہتے ہیں ہاں ہاں ناوک وہ لگا بیٹھے
——
آپ کا انتظار کون کرے
زیست کا اعتبار کون کرے
ہاتھ بے چین ہے گریباں پاس
انتظار بہار کون کرے
غم دل سے ہے جب نہیں فرصت
تو غم روزگار کون کرے
——
اظہار الم کے لئے پہلو نکل آئے
نالوں کو کیا ضبط تو آنسو نکل آئے
——
کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
موج دریا خود لگ لیتی ہے ساحل کا پتا
ہے نشان لیلٰی مقصود محمل کا پتا
دل رنا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا
راہ الفت میں سمجھ لو دل کو گونگا رہ نما
ساتھ ہے اور دے نہیں سکتا ہے منزل کا پتا
کہتا ہے ناصح کہ واپس جاؤ اور میں سادہ لوح
پوچھتا ہوں خود اسی سے کوۓ قاتل کا پتا
راہبر رہزن نہ بن جاۓ کہیں اس سوچ میں
چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا
آئی اک آواز تیر اور نکلی دل سے اف
پھر نہ قاتل کا نشاں پایا نہ بسمل کا پتا
بانکی چتون والے محشر میں ہزاروں ہیں تو ہوں
مل ہی جاۓ گا کسی صورت سے قاتل کا پتا
اس جگہ بسمل نے دم توڑا جہاں کی خاک تھی
یوں لگاتے ہیں لگانے والے منزل کا پتا
پوچھنے والے نے یہ پوچھا کہ کیوں بیدل ہو کیوں
اور مجھ کو مل گیا کھوۓ ہوۓ دل کا پتا
موجیں ٹکرائی ہوئیں دشمن بھی نکلیں دوست بھی
پیچھے کشتی کو دھکیلا دے کے ساحل کا پتا
رہ گیا ٹوٹ کر زخم جگر میں تیر ناز
اب لگا لینا نہیں دشوار قاتل کا پتا
سوختہ پروانے کشتہ شمع فرش داغ دار
دے رہے ہیں رات کی گرمئ محفل کا پتا
میں وفا کیش آرزوؔ اور وہ وفا نا آشنا
پڑ گیا مشکل میں پا کر اپنی مشکل کا پتا
——
وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا
جواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیا
قریب صبح یہ کہہ کر اجل نے آنکھ جھپکا دی
ارے او ہجر کے مارے تجھے اب تک نہ خواب آیا
دل اس آواز کے صدقے یہ مشکل میں کہا کس نے
نہ گھبرانا نہ گھبرانا میں آیا اور شتاب آیا
کوئی قتال صورت دیکھ لی مرنے لگے اس پر
یہ موت اک خوشنما پردے میں آئی یا شتاب آیا
پرانے عہد ٹوٹے ہو گۓ پیماں نۓ قائم
بنا دی اس نے دنیا دوسری جو انقلاب آیا
گزر گاہ محبت بن گئی اک مستقل بستی
لگا کر آگ آیا گھر کو جو خانہ خراب آیا
معمہ بن گیا راز محبت آرزوؔ یوں ہی
وہ مجھ سے پوچھتے جھجھکے مجھے کہتے حجاب آیا
——
وہ سر بام کب نہیں آتا
جب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتا
بہر تسکیں وہ کب نہیں آتا
اعتبار آہ اب نہیں آتا
چپ ہے شکوؤں کی ایک بند کتاب
اس سے کہنے کا ڈھب نہیں آتا
ان کے آگے بھی دل کو چین نہیں
بے ادب کو ادب نہیں آتا
زخم سے کم نہیں ہے اس کی ہنسی
جس کو رونا بھی اب نہیں آتا
منہ کو آ جاتا ہے جگر غم سے
اور گلہ تا بہ لب نہیں آتا
بھولی باتوں پہ تیری دل کو یقیں
پہلے آتا تھا اب نہیں آتا
دکھ وہ دیتا ہے اس پہ ہے یہ حال
لینے جاتا ہوں جب نہیں آتا
آرزوؔ بے اثر محبت چھوڑ
کیوں کرے کام جب نہیں آتا
——
اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی
قید کو توڑ کے نکلا جب میں اُٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے
دشتِ عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی
ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر
اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی
ایک لگی کے دو ہیں اثر اور دونوں حسبِ مراتب ہیں
لو جو لگائے شمع کھڑی ہے ، رقص میں ہے پروانہ بھی
حسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہے
شمع کا شعلہ جب لہرایا اُڑ کے چلا پروانہ بھی
دونوں جولاں گاہ جنوں ہیں ، بستی کیا ویرانہ کیا
اٹھ کے چلا جب کوئی بگولا دوڑ پڑا ویرانہ بھی
دورِ مسرّت آرزو اپنا کیسا زلزلہ آگیں تھا
ہاتھ سے منہ تک آتے آتے چھُوٹ پڑا پیمانہ بھی
——
ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیے
کہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیے
جلا کے دل کو لپک سے ڈرو نہ شعلے کی
زباں دراز ہے لیکن نہیں فغاں کے لیے
اسی چمن میں کہ وسعت ہے جس کی نامحدود
نہیں پناہ کی جا ایک آشیاں کے لیے
کیا تھا ضبط نے دعویٰ رازدارئ عشق
اٹھا ہے درد کلیجے میں امتحاں کے لیے
کسی کو ڈھونڈے نہ ملتا نظر کی چوٹ کا نیل
نہ ہوتا دل میں سویدا اگر نشاں کے لیے
سوائے دل کے جو سرمایۂ دو عالم ہے
نہ کچھ یہاں کے لیے ہے نہ کچھ وہاں کے لیے
نہ عشق جرم ہے کوئی نہ دل کی بات ہے راز
برا ہو شرم کا اک قفل ہے زباں کے لیے
خلاف اپنے رہی وضع ساز و برگ چمن
قفس بنے ہیں جو تنکے تھے آشیاں کے لیے
لرز رہے ہیں فلک آرزوؔ کہ آہ رسا
چلی ہے تیغ بکف فتح ہفت خواں کے لیے
——
جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں
آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیں
آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں
جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیں
یاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور دل سے باتیں ہوتی ہیں
گھر گھر کے بادل آتے ہیں اور بے برسے کھل جاتے ہیں
امیدوں کی جھوٹی دنیا میں سوکھی برساتیں ہوتی ہیں
امید کا سورج ڈوبا ہے آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہے
دنیائے فراق میں دن کیسا راتیں ہی راتیں ہوتی ہیں
طے کرنا ہیں جھگڑے جینے کے جس طرح بنے کہتے سنتے
بہروں سے بھی پالا پڑتا ہے گونگوں سے بھی باتیں ہوتی ہیں
آنکھوں میں کہاں رس کی بوندیں کچھ ہے تو لہو کی لالی ہے
اس بدلی ہوئی رت میں اب تو خونیں برساتیں ہوتی ہیں
قسمت جاگے تو ہم سوئیں قسمت سوئے تو ہم جاگیں
دونوں ہی کو نیند آئے جس میں کب ایسی راتیں ہوتی ہیں
جو کان لگا کر سنتے ہیں کیا جانیں رموز محبت کے
اب ہونٹ نہیں ہلنے پاتے اور پہروں باتیں ہوتی ہیں
جو ناز ہے وہ اپناتا ہے جو غمزہ ہے وہ لبھاتا ہے
ان رنگ برنگی پردوں میں گھاتوں پر گھاتیں ہوتی ہیں
ہنسنے میں جو آنسو آتے ہیں نیرنگ جہاں بتلاتے ہیں
ہر روز جنازے جاتے ہیں ہر روز براتیں ہوتی ہیں
جو کچھ بھی خوشی سے ہوتا ہے یہ دل کا بوجھ نہ بن جائے
پیمان وفا بھی رہنے دو سب جھوٹی باتیں ہوتی ہیں
جب تک ہے دلوں میں سچائی سب ناز و نیاز وہیں تک ہیں
جب خود غرضی آ جاتی ہے جل ہوتے ہیں گھاتیں ہوتی ہیں
ہمت کس کی ہے جو پوچھے یہ آرزوئے سودائی سے
کیوں صاحب آخر اکیلے میں یہ کس سے باتیں ہوتی ہیں
………………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/