میرغلام رسول نازکی پیدائش16؍مارچ 1910 وفات 16 اپری…

پیدائش16؍مارچ 1910
وفات 16 اپریل 1998
16مارچ 1910ء کو جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام غلام مصطفیٰ نازکی تھا۔ انہوں نے 1911ء میں سرینگر سے ہجرت کرکے بانڈی پور وٹلب میں مستقل سکونت اختیار کی۔
یونیورسٹی سے منشی پاس کیا۔ اسی اثنا میں آپ کے والد داعی اجل کو لبک کہہ گئے اور آپ باپ کی شفقت سے محروم ہوگئے۔ والد کے انتقال کے بعد آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اسلئے آپ کو ہندواڑہ میں بحیثیت مدرس ملازمت کرنی پڑی۔ دوران ملازمت انہوں نے منشی علم، میٹرک، منشی فاضل، ادیب فاضل اور ایف اے کے امتحانات پاس کئے 1943ء غلام السیدین نے نازکی صاحب کو اپنے ساتھ لٹریری اسٹنٹ بنا کر رکھا اور "تعلیم جدید” کا مدیر مقرر کیا۔ اس رسالے سے وابستہ رہتے ہوئے نازکی صاحب نے ادبی حلقوں میں خاصی شہرت حاصل کی۔
16؍اپریل 1998ء کو سرینگر میں علم و ادب کا یہ آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہوا۔
آپ کا پہلا شعری مجموعہ "نزاکت 1935” ہے۔ اسکے علاوہ دیدہ تر 1949ء، چراغ راہ 1989ء، متاع فقیر شائع ہوۓ جب کہ کشمیری میں نمرود نامہ 1968، آواز دوست 1985ء کاوینہ وول 1989ء منظر عام پر آکر قارئین اور ناقدین سے داد تحسین حاصل کی
۔۔۔۔۔
فغاں نہیں ہے مرے دسترس کی بات
جی بھر کے رولوں یہ بھی نہیں میرے بس کی بات
آدم بوصف خاک نژادی ہے رو بہ عرش
ثابت ہوئی ہے آج یہ صدہا برس کی بات
سنتا ہے کون اہلِ نظر سے حدیث دل
اہل ہوس کو بھاتی ہے اہل ہوس کی بات
وہ انہماک تھا کہ میں کچھ بھی نہ سن سکا
صحن چمن کا حال نہ کنج قفس کی بات
دل نے کبھی خرد کی امامت نہ کی قبول
غنچے کو نا پسند ہوئی خار و خس کی بات
اس دور کا مذاق ہی بگڑا ہوا سا ہے
گویا کوئی دلیل ہے ہر بوالہوس کی بات
مایوسیوں میں تیر تبسّم تھا دلنواز
جیسے کسی طبیب مسیحا نفس کی بات
۔۔۔۔۔
دوڑ تھی اپنی اک زمانے تک
میکدے سے نگار خانے تک
خواب تھا یا طلسم کا عالم
تیرے آنے سے تیرے جانے تک
سو مراحل سے دل گذرتا ہے
شعر کہنے سے گنگنانے تک
طائرِ سدرہ ہو کہ مرغ اسیر
کون پہنچا ہے آشیانے تک
میکدے میں مجھے نظر آیا
راستہ تیرے آستانے تک
ہم سمجھتے ہیں اس زمانے کو
ہم جو پہنچے ہیں اس زمانے تک
دل کا دھونا ہے رات بھر رونا
صبح صادق کے مسکرانے تک
بوند دریا میں جاگری ڈوبی
میں بھی زندہ ہوں تجھ کو پانے تک
۔۔۔۔
آموزگارِ عظمتِ آدم رہا ہوں میں
صد شکر اس اصول محکم رہا ہوں میں
روتا ہے کوئی لگتی ہے میرے جگر پہ چوٹ
زخم جگر کہیں بھی ہو مرہم رہا ہوں میں
دنیا میں رہ کے طالب نیا نہیں رہا
ہر چند وجہ زینت عالم رہا ہوں میں
ان کی شب نشاط کی تطہیر کے لئے
دن بھر رہین گریۂ پیہم رہا ہوں میں
شہرت طلب نہیں ہوں مگر تا طلوع مہر
آغوش گل میں صورت شبنم رہا ہوں میں
ایسے بھی دل ہیں جن میں خلوص وفا نہیں
ایسے ہی دل ہیں جن میں بہت کم رہا ہو ہیں



