منتخب غزلیں

جو منہ سے کہتے ہیں کچھ اور کرتے ہیں کچھ اور وہی ز…

جو منہ سے کہتے ہیں کچھ اور کرتے ہیں کچھ اور
وہی زمانہ میں کچھ اختیار رکھتے ہیں

سردار گنڈا سنگھ مشرقی کا یومِ وفات
April 02, 1909
…..
منتخب کلام

کھولا دروازہ سمجھ کر مجھ کو غیر
کھا گئے دھوکا مری آواز سے
..
پھاڑ کر خط اس نے قاصد سے کہا
کوئی پیغام زبانی اور ہے
..
عاشق مزاج رہتے ہیں ہر وقت تاک میں
سینہ کو اس طرح سے ابھارا نہ کیجیے
..
شیخ چل تو شراب خانے میں
میں تجھے آدمی بنا دوں گا

پیتے ہیں جو شراب مسجد میں
ایسے لوگوں کو پارسا کہیے
..
جو منہ سے کہتے ہیں کچھ اور کرتے ہیں کچھ اور
وہی زمانہ میں کچھ اختیار رکھتے ہیں

تم جاؤ رقیبوں کا کرو کوئی مداوا
ہم آپ بھگت لیں گے کہ جو ہم پہ بنی ہے

ڈرائے گی ہمیں کیا ہجر کی اندھیری رات
کہ شمع بیٹھے ہیں پہلے ہی ہم بجھائے ہوئے

گو ہم شراب پیتے ہمیشہ ہیں دے کے نقد
لیکن مزا کچھ اور ہی پایا ادھار میں

ترا آنا مرے گھر ہو گیا گھر غیر کے جانا
مجھے معلوم تھی اس خواب کی تعبیر پہلے سے

بھول کر لے گیا سوئے منزل
ایسے رہزن کو رہنما کہیے

نہ چلو مجھ سے تم رقیبو چال
انگلیوں پر تمہیں نچا دوں گا

زاہد مری سمجھ میں تو دونوں گناہ ہیں
تو بت شکن ہوا جو میں توبہ شکن ہوا
..
جب بوسہ لے کے مدعا میں نے بیاں کیا
بولے زیادہ پاؤں پسارا نہ کیجیے

چاہنے والوں کو چاہا چاہئے
جو نہ چاہے پھر اسے کیا چاہئے

کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں
آنکھیں سفید ہو گئیں اس انتظار میں

ایک تیر نظر ادھر مارو
دل ترستا ہے جاں ترستی ہے

ایک مدت میں بڑھایا تو نے ربط
اب گھٹانا تھوڑا تھوڑا چاہئے
….
زاہد نماز بھولا ادھر دیکھ کر تجھے
برہم بتوں سے اپنے ادھر برہمن ہوا

آگے میرے نہ تیکھی مار اے شیخ
رات کا ماجرا سنا دوں گا
….
لٹکتے دیکھا سینہ پر جو تیرے تار گیسو کو
اسے دیوانے وحشت میں ترا بند قبا سمجھے

گریباں ہم نے دکھلایا انہوں نے زلف دکھلائی
ہمارا سمجھے وہ مطلب ہم ان کا مدعا سمجھے

ہیں وہی انساں اٹھاتے رنج جو ہوتے ہی کج
ٹیڑھی ہو کر ڈوبتی ہے ناؤ اکثر آب میں
….
دھر کے ہاتھ اپنا جگر پر میں وہیں بیٹھ گیا
جب اٹھے ہاتھ وہ کل رکھ کے کمر پر اپنا
….
کس سے دوں تشبیہ میں زلف مسلسل کو تری
فکر ہے کوتاہ اور مضموں بہت ہے دور کا
….
اے شیخ اپنا جبۂ اقدس سنبھالیے
مست آ رہے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
….
مزہ دیکھا کسی کو اے پری رو منہ لگانے کا
اب آئینہ بھی کہتا ہے کہ میں مد مقابل ہوں
….
خیال ناف میں زلفوں نے مشکیں باندھ دیں میری
شناور کس طرح گرداب سے بے دست و پا نکلے

اے شیخ یہ جو مانیں کعبہ خدا کا گھر ہے
بت خانہ میں بتا تو پھر کون جلوہ گر ہے
….
کعبہ کو اگر مانیں کہ اللہ کا گھر ہے
بت خانہ میں بھی شیخ نہیں کوئی مکیں اور
…..
الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں
کسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں
سبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے
جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں
غضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے
بغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں
کہیں کیا مدعا اپنا سنائیں راز دل کیوں کر
ہمارے سامنے کچھ آدمی دشمن کے بیٹھے ہیں
مزہ کنج لحد میں کیوں نہ لوں میں ساغر مل کا
کہ بادہ خوار پاس آ کر مرے مدفن کے بیٹھے ہیں
خدا کے واسطے ان کو نکل کر جلوہ دکھلا دو
کہ خواہش مند کوچہ میں ترے چتون کے بیٹھے ہیں
ہیں پیاسے ہم تو مدت کے پلا دے جام مے ساقی
وہ جب چاہیں پئیں جو منتظر ساون کے بیٹھے ہیں
طبیعت ہو تو ایسی ہو جو عادت ہو تو ایسی ہو
ابھی وہ تن کے بیٹھے تھے ابھی وہ من کے بیٹھے ہیں
اگر رغبت نہ ہو اس دہر میں موذی کو موذی سے
تو کیوں خار مغیلاں پاؤں میں رہزن کے بیٹھے ہیں
نہیں معلوم کس کو تاڑتے ہیں کس سے وعدہ ہے
بہ وقت شام پاس آ کر جو وہ چلمن کے بیٹھے ہیں
نہیں پروا اگر اے مشرقیؔ ان کو بلا جانے
اگر وہ ہیں کھنچے بیٹھے تو ہم بھی تن کے بیٹھے ہیں
…………………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/