منتخب غزلیں
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سو گئے داستاں کہتے…
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے
مکمل غزل
کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے
نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی
ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے
کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے
مری ناؤاس غم کے دریا میں ثاقب
کنارے پہ آ ہی لگی بہتے بہتے
(ثاقب لکھنوی)

