افسانے

مشتاق احمد یوسفی ایک لطیفہ سناتے ہیں : کہنے لگے ایک روز ایک جسیم اور خوش رنگ سی …

مشتاق احمد یوسفی ایک لطیفہ سناتے ہیں :
کہنے لگے ایک روز ایک جسیم اور خوش رنگ سی بیگم ہمارے گھر تشریف لائیں اور ہماری بیگم کے سامنے ہماری اور ہماری کتابوں کی تعریف کرنے لگیں ۔ ہماری بیگم نے بڑے فخر کے ساتھ ہمارے قصیدے سنے ۔ اتنے میں ہم باہر سے آ گئے تو ہمیں دبلا پتلا اور کسی قدر سانولا دیکھ کر ہماری بیگم سے پوچھنے لگیں :

” یہ کون ہے ؟ ”
بیگم نے بڑے فخر سے جواب دیا :
” یہی تو میرے میاں ہیں ”
مہمان بیگم نے کسی قدر حیرت سے پوچھا :
” تو کیا آپ کے میاں بنگالی ہیں ؟ ”
ہماری بیگم بولیں :
” نہیں تو ”
اس پر مہمان بیگم نے ازراہ ہمدردی فرمایا :

” چلیں شکر کریں ، مسلمان تو ہیں ”

پیش رفتہ مکالمے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سانولے رنگ کے پاکستانی مصنفین کو خوش رنگ بیگمات کے حلقے میں اپنی ساکھ قائم رکھنا ہے تو انہیں مسلمان ہونے کے علاوہ اپنے میک اپ کا معقول انتظام کرنا ہو گا ۔
دوسرے لفظوں میں ان بیگمات کے نزدیک ایک مثالی مصنف کو گورے رنگ کا بانکا سا گھبرو ہونا چاہئیے ۔ گویا وہ کوئی نو مسلم انگریز ہو تو بہتر ہے ورنہ انگریز نما مسلمان ضرور ہو ۔

لیکن کالا مسلمان ؟ نا منظور !


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/