منتخب غزلیں
اس سے بڑھ کر اور کیا دنیا میں ہو گا انقلاب موت کو …

اس سے بڑھ کر اور کیا دنیا میں ہو گا انقلاب
موت کو تو نے حیاتِ جاودانی کر دیا
——
ماہرِ لسانیات، صحافی، مرثیہ گو اور اردو کے نامور شاعر نسیم امروہوی کا یومِ وفات
28 فروری، 1987
(پیدائش: 24 اگست، 1908ء – وفات: 28 فروری، 1987ء)
——
منتخب کلام
——
حسینؓ پیکرِ انسانیت کی جاں تو ہے
زمینِ صبر و تحمل کا آسماں تو ہے
نہ صرف دینِ محمد کی عز و شاں تو ہے
رہِ حیات میں سالارِ کارواں تو ہے
جہاں کو خوابِ فنا سے جگا دیا تو نے
بقا کے واسطے مرنا سکھا دیا تو نے
——
یہ انتظار نہ ٹھہرا کوئی بلا ٹھہری
کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری
——
اس سے بڑھ کر اور کیا دنیا میں ہو گا انقلاب
موت کو تو نے حیاتِ جاودانی کر دیا
——
مرے دل کی کشش سے آپ کیوں آتے بیاباں میں
ذرا آئینہ دیکھو گرد ہے زلفِ پریشان میں
معاذ اللہ حسن و عشق کے افسانے کی لذت
دیا ہے طول حق نے سورۂ یوسف کو قرآں میں
——
ہر اک ذرہ میں گل ، ہر گل میں دل ، ہر دل میں اک دنیا
ہزاروں کارواں منزل بہ منزل دیکھتے جاؤ
——
گر گئے تھے خاک کے دامن پہ جو آنسو مرے
توڑ کر پتھر کا دل چشموں سے وہ بہنے لگے
——
نہ داد دیجیے میرے کلام کی سُنیے
یہ شاعری نہیں باتیں ہیں کام کی سُنیے
——
تمام خلق کا خدمت گزار ہے پانی
رگوں میں خون بدن میں نکھار ہے پانی
گلوں میں حسن چمن میں بہار ہے پانی
نمو کی بزم میں پروردگار ہے پانی
نگاہ خلق سے غائب جو ہے فضاؤں میں
امام غیب کا بھرتا ہے دم ہواؤں میں
بفطرت ازلی بے غبار ہے پانی
جمال قدس کا آئینہ دار ہے پانی
فضا میں خالق ابر بہار ہے پانی
زمیں پہ رحمت پروردگار ہے پانی
——
ہوئی ہے فرقہ پرستی کی عام بیماری
خدا کے نام پہ ملّت میں جنگ ہے جاری
جواب دے ہمیں دنیائے زندگی ساری
پیامِ امن ہے مذہب؟ کہ حکمِ خونخواری
خدا کی خلق کو کیوں آدمی تمام کرے
وہ دین ہی نہیں ہرگز جو قتلِ عام کرے
——
نظم : داتا اور کردگار
——
داتا ہے تو جہاں کا اور کردگار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
—
اُف کتنی خوبصورت دنیا بنائی تو نے
تاروں سے آسمان کی بستی بسائی تو نے
ہر چیز کے انوکھے انداز تو نے رکھے
ہر رنگ میں نرالی قدرت دکھائی تو نے
داتا ہے تو جہاں کا اور کردگار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
—
چڑھتے ہوئے یہ دریا ، اُمڈے ہوئے یہ بادل
بہتا ہوا یہ پانی ، نکھرے ہوئے یہ جل تھل
یہ کھیت لہلہاتے ، جھرنے یہ گُنگناتے
آکاش ، چاند ، تارے ، دریا ، پہاڑ ، جنگل
سنسار کے چمن کی یارب بہار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
—
برکھا ، بسنت ، جاڑا ، یہ رات دن کا چکر
پھل ، پھول ، ناج ، میوے ، اک دوسرے سے بہتر
تعریف تیری یارب ممکن نہیں کسی سے
طاقت نہیں بیاں کی ، کھولیں زبان کیونکر
تو ہے پکار دل کی ، دل کی پکار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
——
بشکریہ اردوئے معلیٰ
موت کو تو نے حیاتِ جاودانی کر دیا
——
ماہرِ لسانیات، صحافی، مرثیہ گو اور اردو کے نامور شاعر نسیم امروہوی کا یومِ وفات
28 فروری، 1987
(پیدائش: 24 اگست، 1908ء – وفات: 28 فروری، 1987ء)
——
منتخب کلام
——
حسینؓ پیکرِ انسانیت کی جاں تو ہے
زمینِ صبر و تحمل کا آسماں تو ہے
نہ صرف دینِ محمد کی عز و شاں تو ہے
رہِ حیات میں سالارِ کارواں تو ہے
جہاں کو خوابِ فنا سے جگا دیا تو نے
بقا کے واسطے مرنا سکھا دیا تو نے
——
یہ انتظار نہ ٹھہرا کوئی بلا ٹھہری
کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری
——
اس سے بڑھ کر اور کیا دنیا میں ہو گا انقلاب
موت کو تو نے حیاتِ جاودانی کر دیا
——
مرے دل کی کشش سے آپ کیوں آتے بیاباں میں
ذرا آئینہ دیکھو گرد ہے زلفِ پریشان میں
معاذ اللہ حسن و عشق کے افسانے کی لذت
دیا ہے طول حق نے سورۂ یوسف کو قرآں میں
——
ہر اک ذرہ میں گل ، ہر گل میں دل ، ہر دل میں اک دنیا
ہزاروں کارواں منزل بہ منزل دیکھتے جاؤ
——
گر گئے تھے خاک کے دامن پہ جو آنسو مرے
توڑ کر پتھر کا دل چشموں سے وہ بہنے لگے
——
نہ داد دیجیے میرے کلام کی سُنیے
یہ شاعری نہیں باتیں ہیں کام کی سُنیے
——
تمام خلق کا خدمت گزار ہے پانی
رگوں میں خون بدن میں نکھار ہے پانی
گلوں میں حسن چمن میں بہار ہے پانی
نمو کی بزم میں پروردگار ہے پانی
نگاہ خلق سے غائب جو ہے فضاؤں میں
امام غیب کا بھرتا ہے دم ہواؤں میں
بفطرت ازلی بے غبار ہے پانی
جمال قدس کا آئینہ دار ہے پانی
فضا میں خالق ابر بہار ہے پانی
زمیں پہ رحمت پروردگار ہے پانی
——
ہوئی ہے فرقہ پرستی کی عام بیماری
خدا کے نام پہ ملّت میں جنگ ہے جاری
جواب دے ہمیں دنیائے زندگی ساری
پیامِ امن ہے مذہب؟ کہ حکمِ خونخواری
خدا کی خلق کو کیوں آدمی تمام کرے
وہ دین ہی نہیں ہرگز جو قتلِ عام کرے
——
نظم : داتا اور کردگار
——
داتا ہے تو جہاں کا اور کردگار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
—
اُف کتنی خوبصورت دنیا بنائی تو نے
تاروں سے آسمان کی بستی بسائی تو نے
ہر چیز کے انوکھے انداز تو نے رکھے
ہر رنگ میں نرالی قدرت دکھائی تو نے
داتا ہے تو جہاں کا اور کردگار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
—
چڑھتے ہوئے یہ دریا ، اُمڈے ہوئے یہ بادل
بہتا ہوا یہ پانی ، نکھرے ہوئے یہ جل تھل
یہ کھیت لہلہاتے ، جھرنے یہ گُنگناتے
آکاش ، چاند ، تارے ، دریا ، پہاڑ ، جنگل
سنسار کے چمن کی یارب بہار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
—
برکھا ، بسنت ، جاڑا ، یہ رات دن کا چکر
پھل ، پھول ، ناج ، میوے ، اک دوسرے سے بہتر
تعریف تیری یارب ممکن نہیں کسی سے
طاقت نہیں بیاں کی ، کھولیں زبان کیونکر
تو ہے پکار دل کی ، دل کی پکار تو ہے
پروردگار تو ہے ، پروردگار تو ہے
——
بشکریہ اردوئے معلیٰ

