#hamidnaved میرا ایک دوست کہتا ہے: میں دفتر جاتے …


#hamidnaved
میرا ایک دوست کہتا ہے:
میں دفتر جاتے ہوئے اپنی گھر والی کو
جو کہ ایک مقامی سکول میں استانی ہے
اور اس کا سکول میرے دفتر کے راستے میں ہی پڑتا ہے،
روزانہ چھوڑتا جاتا ہوں۔

میں روزانہ اپنی سیٹ سے اتر کر،
اس کیلئے جا کر دروازہ کھولتا ہوں
اور وہ اتر کر اپنے سکول میں چلی جاتی ہے۔

میرا اسے روزانہ سکول چھوڑنے جانا،
اس کیلئے روزانہ اتر کر دروازہ کھولنا،
سکول میں زیر بحث موضوع بن چکا ہے۔

سکول کی دوسری استانیاں تو
میری بیوی سے برملا کہہ دیتی ہیں کہ
واہ، قربان جائیے اس رومان پروری پر،
خاوند ہو تو بس ایسا،
ہائے کاش کہ ہمارا خاوند بھی ایسا رومناٹک ہوتا۔

سکول کی طالبات بچیاں رشک کرتی ہیں،
بلکہ حسرت رکھتی ہیں کہ
انہیں بھی ایسا ہی خاوند مل جائے۔

ان سالیوں کو پتہ جو نہیں
کہ میری کار کا دروازہ خراب ہے،
اسے باہر سے جا کر کھولنا پڑتا ہے۔
دنیا کا کیا ہے،
ان کا بس چلے تو
جمعہ کے دن مرنے والے فقیر کا جا کر گریبان پکڑ لیں
کہ یہ سعادت اسے ملی تو کیسے ملی ہے۔
بس جی۔۔۔۔۔ دنیا کا کیا ہے۔

زاویہ از اشفاق احمد