ایک تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلمان مرد ہی نہیں عورت کا بھی روزہ ہوتا ہے اور اس بات سے تو انکار ممکن ہی نہیں کہ رمضان میں اس کا صرف کچن کا کام ہی چار گنا بڑھ جاتا ہے لیکن گھر کا دسترخوان وہ روز اسی طرح سجا کر رکھتی ہے جیسے اللہ ناشکروں کو بھی روز کھلاتا ہے۔ وہ سارا دن گھر کے ہر مرد سے یہ وارننگ سنتی جاتی ہے کہ "مجھے روزہ لگا ہے” لیکن کبھی پلٹ کر یہ نہیں کہتی کہ "بھاڑ میں جاؤ تم سب، آج مجھے روزہ لگا ہے” اور یقین مانیئے جس دن اس نے یہ کہدیا اور کچن سے ہاتھ کھینچ لیا تو ہر تیس مار خان کو روزہ لگنا بند ہو جائے گا۔ جس جس کو لگتا ہے کہ عورت پیر کی جوتی ہوتی ہے وہ صرف ایک روزے کے لئے یہ جوتی اپنے سسرال میں رکھ آئے انشاء اللہ یہ ایک ہی روزہ سمجھا دے گا کہ عورت کیا ہوتی ہے۔ اب ایک اہم ترین ٹپ بھی لیتے جایئے۔ عید کی خریداری بالعموم گھر کی عورت ہی کرتی ہے، دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی چیزیں بھی وہ بدستِ خود خریدتی ہے لیکن آپ نے یہ کرنا ہے کہ چاند رات پر چپکے سے ایک اچھا سا جوڑا خرید کر اسے گفٹ کرنا ہے۔ آپ کا دیا ہوا یہ گفٹ اس کے پورے رمضان کی تھکن ختم کردیتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ بیگم جتنی پرانی ہوتی ہے خوش بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ 1000 روپے کا ایزی لوڈ کرا کر جب تک یہ خبر ہر سہیلی کو نہ دیدے کہ اس کا میاں شادی کے اتنے سال بعد بھی اسے سرپرائز دیتا ہے اس کی عید پوری نہیں ہوتی۔ جو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اتنا زیادہ خوش ہوتی ہو اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس رمضان میں تنگ نہ کرنا یار۔ شوہر تو آپ روز بن لیتے ہیں، اس رمضان مرد بن کر دکھایئے مرد ! ! !

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔