Category: منتخب غزلیں
-

-

( غیــر مطبــوعــہ )زندگی میں کاوشِ پیــہَم رواں…
( غیــر مطبــوعــہ ) زندگی میں کاوشِ پیــہَم رواں رکھتا ہوں میں اس طرح سے زندگی کو جاوِداں رکھتا ہوں میں گو کہ اک قطرہ ہوں میں’ اولاد_آدم ہوں مگر اک تلاطُم خیز بحر _بے کراں رکھتا ہوں میں تجھ کو اندازہ نہیں ہے میری دنیا کا ابھی دیکھ آ کے’ اپنے اندر اک جہاں…
-

دکھ درد کو آنکھوں سے گزرنے نہیں دیتا سیلاب تو دیتا…
دکھ درد کو آنکھوں سے گزرنے نہیں دیتا سیلاب تو دیتا ہے وہ ، جھرنے نہیں دیتا رہتا تو ہے آنکھوں میں وہ آئینہ برابر جب مجھ کو سنورنا ہو، سنورنے نہیں دیتا دل اب بھی لپکتا ہے سرِ ساحلِ خواہش وہ چاند سمندر کو اترنے نہیں دیتا خود ٹوٹ کے بکھروں تو بکھر جاؤں…
-

کلام ۔ سیّد اکبر حُسین الہ آبادیکتاب ۔ کلیاتِ اکب…
کلام ۔ سیّد اکبر حُسین الہ آبادی کتاب ۔ کلیاتِ اکبر حصہ اول ‘ صفحہ ۱۳۸ جو اپنی زندگانی کو حباب آسا سمجھتے ہیں نفس کی موج کو موج لب دریا سمجھتے ہیں گواہی دیں گے روزِ حشر یہ سارے گناہوں کی سمجھتا میں نہیں لیکن مرے اعضا سمجھتے ہیں شریکِ حال دنیا میں نظر…
-

دو بڑے آدمی….احمد ندیم قاسمی اور فیض احمد فیض ام…
دو بڑے آدمی….احمد ندیم قاسمی اور فیض احمد فیض امجد اسلام امجد 20 نومبر کا دن طلسماتی کہانیوں کے کسی کردار جیسا لگتا ہے کہ جس کی ایک آنکھ ہنستی اور دوسری روتی ہے کہ آج سے ٹھیک 97 برس پہلے احمد ندیم قاسمی پیدا ہوئے اور 29 برس قبل اسی دن فیض احمد فیض…
-
اے لمحو! میں کیوں لمحہؑ ارزاں ہوں؟ بتاؤ! کس جاگتے …
اے لمحو! میں کیوں لمحہؑ ارزاں ہوں؟ بتاؤ! کس جاگتے باطن کا میں امکاں ہوں؟ بتاؤ! میں ایک کُھلے بابِ تصوّر کی رسائی میں کس کے لئے اِس قدر آساں ہوں؟ بتاؤ! کس لمس کی تحریر ہوں محرابِ ہوا پر؟ کس لفظ کا مفہومِ فراواں ہوں؟ بتاؤ! کس منظرِ اثبات کے ہونٹوں کی دعا ہوں؟…
-

دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہ اس شہر میں پھر…
دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہ اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہ شاعر ہے کہ عاشق ہے، جوگی ہے کہ بنجارہ دروازہ کھلا رکھنا سینے سے گھٹا اٹھے، آنکھوں سے جھڑی برسے پھاگن کا نہیں بادل، جو چار گھڑی برسے برکھا ہے یہ بھادوں کی، برسے تو بڑی…
-

سلام مچھلی شہری بہت دنوں کی بات ہے ۔۔۔ بہت دنوں …
سلام مچھلی شہری بہت دنوں کی بات ہے ۔۔۔ بہت دنوں کی بات ہے فضا کو یاد بھی نہیں یہ بات آج کی نہیں بہت دنوں کی بات ہے شباب پر بہار تھی فضاء بھی خشگوار تھی نہ جانے کیوں مچل پڑا میں اپنے گھر سے چل پڑا کسی نے مجھے روک کر بڑی ادا…
-

سلام مچھلی شہری کی وفات November 19, 1973 سلام مچ…
سلام مچھلی شہری کی وفات November 19, 1973 سلام مچھلی شہری کا پہلا تعارف ترقی پسند تحریک کے نظریاتی عقیدے سے بچ نکل ایک بالکل نئے طرز کی رومانی شاعری کی تخلیق سے جڑا ہے ۔ سلام اپنے وقت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعروں میں تھے ، نوجوانوں میں ان کی شاعری…
-

کاش تم سمجھ سکتیں زندگی میں شاعر کی ایسے دن بھی آت…
کاش تم سمجھ سکتیں زندگی میں شاعر کی ایسے دن بھی آتے ہیں سلام ؔمچھلی شہری کاش تم سمجھ سکتیں زندگی میں شاعر کی ایسے دن بھی آتے ہیں جب اسی کے پروردہ چاند اس پہ ہنستے ہیں پھول مسکراتے ہیں اب تو میرے شہ پارے جو تم ہی سے تھے منسوب یوں جھلک دکھاتے…