Category: منتخب غزلیں
-

ماجد صدیقی آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائ…
ماجد صدیقی آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا کون کہے بیوپاری، سودا اغوا ہونے والی کا کن کن سنگدلوں کے آگے کس کس طور چُکائے گا کاش اُنہیں جتلا پائے تُو، اصل بھی اپنے ناتے کی جھنڈا جن کی…
-

کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں خاطر غزنوی کیسی…
کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں خاطر غزنوی کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں تو اور حریم ناز میں پابستۂ حنا ہم پھر رہے ہیں آبلہ پا تیرے شہر میں کیا جانے کیا ہوا کہ پریشان ہو گئی اک لحظہ…
-

خواجہ غلام فرید کی پیدائش November 26, 1845 خواجہ…
خواجہ غلام فرید کی پیدائش November 26, 1845 خواجہ غلام فرید، چاچڑاں شریف، پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور صوفی شاعر ہیں۔ آپ کی شناخت شاعری کی صنف”کافی” ہے۔ آپ کا تعلق چشتیہ نظامیہ سلسلہ سے تھا۔ خواجہ غلام فرید ٌ کوریجہ 26 نومبر 1845ء بروز منگل کو بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں…
-

اساں سو بد مست قلندر ہوں کڈیں مسجد ہوں کڈیں مندر ہ…
اساں سو بد مست قلندر ہوں کڈیں مسجد ہوں کڈیں مندر ہوں ہم وہ سرقسمت قلندر ہیں جو کبھی مسجد میں ہیں کبھی مندر میں ہیں کڈیں چور بنوں کڈیں جار بنوں کڈیں توبہ استغفار بنوں کڈیں زہد عبادت کار بنوں کڈیں فسق فجوریں اندر ہوں کبھی چور بنیں بدکار بنیں کبھی توبہ اسغفار کہیں…
-

-

کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغاز باب ہو گا جنہ…
کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغاز باب ہو گا جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہو گا وہ دن گئے جب ہر اک ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا سحر کی خوشیاں…
-

ﺻﺪﻣﮧ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ …
ﺻﺪﻣﮧ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗِﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺸﯽ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﮐﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮔﮍﺍ ﮨﻮﮞ…
-

تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا پھر تری یاد نے گھیر لیا …
تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا پھر تری یاد نے گھیر لیا تھا یاد آئی وہ پہلی بارش جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا ہرے گلاس میں چاند کے ٹکڑے لال صراحی میں سونا تھا چاند کے دل میں جلتا سورج پھول کے سینے میں کانٹا تھا کاغذ کے دل میں چنگاری خس کی زباں…
-

اپنوں میں اب وہ پیار کا منظر نہیں رہا حد ہے کہ میر…
اپنوں میں اب وہ پیار کا منظر نہیں رہا حد ہے کہ میرا گھر بھی مِرا گھر نہیں رہا اب جو بھی بات کرتا ہے کرتا ہے شر کے ساتھ بچوں میں بھی وہ خیر کا جوہر نہیں رہا ہر صبح اور شام ہے بس انتشار میں ماحول گھر کا سچ ہے کہ بہتر نہیں…
-

جب اُس زُلف کی بات چلی ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی اُن …
جب اُس زُلف کی بات چلی ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی اُن آنکھوں نے لُوٹ کے بھی اپنے اُوپر بات ناں لی شمع کا انجام ناں پُوچھ پروانوں کے سات جلی اب کے بھی وہ دُور رہے اب کے بھی برسات چلی خاطرؔ یہ ہے بازیِ دِل اِس میں جِیت سے مات بھلی۔۔۔! خاطرؔ غزنوی