Category: منتخب غزلیں
-

ناصر کاظمی کے 50اشعار۔۔۔ انتخاب (حسنین حیدر) ریختہ…
ناصر کاظمی کے 50اشعار۔۔۔ انتخاب (حسنین حیدر) ریختہ 1۔ پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے 2۔ وہ درد ہی نہ رہا ورنہ اے متاعِ حیات مجھے گماں بھی نہ تھا میں تجھے بھلا دوں گا 3۔ خمِ ہر لفظ ہے گلِ معنی اہل تحریر کا ہنر دیکھو 4۔ دروازے…
-

افسر صدیقی امروہوی پیدائش December 09, 1896 پاک…
افسر صدیقی امروہوی پیدائش December 09, 1896 پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، محقق، مترجم اور صحافی افسر صدیقی امروہوی 3 رجب، 1314ھ بمطابق 9 دسمبر، 1896ء بروز بدھ کو امروہہ، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے. ان کے جدِ اعلیٰ نوازش علی عرف نوازی صدیقی 1713ء میں دہلی سے امروہہ آئے…
-

پیدائش انجم عرفانی 1937 ,09 December آبادیوں میں…
پیدائش انجم عرفانی 1937 ,09 December آبادیوں میں کیسے درندے گھس آئے ہیں مقتل گلی گلی ہے ہر اک گھر لہو لہو ……. ادا ہوا نہ کبھی مجھ سے ایک سجدۂ شکر میں کس زباں سے کروں گا شکایتیں تیری …… کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے آسماں کی طرف اک…
-

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں ناصر کاظمی وہ دل …
وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں ناصر کاظمی وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر مرے لیے کوئی شایان التماس نہیں ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے مرے مزاج کو آسودگی بھی راس…
-

ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ ﻣﺠ…
ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺸﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺏ ﻭﮨﯿﮟ ﺗﺎﻧﺘﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺴﯿﻢ کا ﻧﻐﻤﮧ، ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻤﯿﻢ ﮐﺎ ﺭﺍﮒ ﻓﻀﺎ ﮐﻮ ﺍﻣﻦ ﮐﮯ ﻗﺎﻟﺐ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺪﺍ ﻧﮑﺮﺩﮦ، ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺎﺅﮞ…
-

آہ پھر نغمہ بنا چاہتی ہے خامشی طرزِ ادا چاہتی ہے …
آہ پھر نغمہ بنا چاہتی ہے خامشی طرزِ ادا چاہتی ہے آج پِھر وُسعَتِ صحراۓ جُنُوں پُرسِشِ آبلہ پا چاہتی ہے دیکھ کیفیّتِ طُوفانِ بہار بُوۓ گُل رنگِ ہَوا چاہتی ہے موت آرائشِ ہستی کے لئے خندہء زخمِ وفا چاہتی ہے دِل میں اب خارِ تمنّا بھی نہیں زِندگی برگ و نوا چاہتی ہے سوچ…
-

گلی گلی مِری یاد بِچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مُ…
گلی گلی مِری یاد بِچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مُجھ سے اِتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دُور نِکل ایک سمے تِرا پھُول سا نازُک ہاتھ تھا میرے شانوں پر ایک یہ وقت کہ مَیں تنہا اور دُکھ کے کانٹوں کا جنگل یاد ہے اب تک تُجھ سے بِچھڑنے کی وہ اندھیری…
-
ایک سمے تیرا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانوں پر ا…
ایک سمے تیرا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانوں پر ایک یہ وقت کہ میں تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل (ناصر کاظمیؔ)
-

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے دیوان…
ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے وہ کل مٹ جائے گا روکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو…
-

(داغ دہلوی) 1831- 1905 سب لوگ جدھر وہ ہیں اُدھر دی…
(داغ دہلوی) 1831- 1905 سب لوگ جدھر وہ ہیں اُدھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں کیوں کفر ہے دیدارِ صنم حضرتِ واعظ اللہ دکھاتا ہے، بشر دیکھ رہے ہیں خط غیر کا پڑھتے تھے، جو ٹوکا تو وہ بولے اخبار کا پرچہ ہے، خبر دیکھ رہے ہیں کچھ دیکھ…