Category: منتخب غزلیں
-

اعجاز گُل غزل بات اور بے بات پر وہ آن و ایں کا شو…
اعجاز گُل غزل بات اور بے بات پر وہ آن و ایں کا شور ہے ہر نہیں پہ ہاں کا ، ہر ہاں پر نہیں کا شور ہے کھینچتا پھرتا ہُوں دُشمن پر خلا میں تیر کو جب کہ وجہِ خوف، مارِ آستیں کا شور ہے گھُومتی ہے سر پہ چرخی چرخِ نیلی فام کی…
-

حفیظؔ جالندھری عرضِ ہُنر بھی وجہِ شِکایات ہو گئی …
حفیظؔ جالندھری عرضِ ہُنر بھی وجہِ شِکایات ہو گئی چھوٹا سا مُنہ تھا، مُجھ سے بڑی بات ہو گئی دُشنام کا جواب نہ سُوجھا بَجُز سلام ظاہر مِرے کلام کی اوقات ہو گئی دیکھا جو کھا کے تِیر کمِیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے مُلاقات ہو گئی یا ضربتِ خلیل سے بُت خانہ…
-

داغؔ دہلوی طرزِ قُدسی میں کبھی، شیوۂ اِنساں مَیں …
داغؔ دہلوی طرزِ قُدسی میں کبھی، شیوۂ اِنساں مَیں کبھی ہم بھی اِک چیز تھے، اِس عالَمِ اِمکاں مَیں کبھی رنج میں رنج کا، راحت میں ہُوں راحت کا شرِیک خاکِ ساحِل مَیں کبھی، موج ہُوں طُوفاں میں کبھی دِل میں، بے لُطف رہی خارِ تمنّا کی خَلِش نوک بن کر نہ رہا یہ کسی…
-
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا तुम मिरे पास होते हो गोया जब कोई…
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا तुम मिरे पास होते हो गोया जब कोई दूसरा नहीं होता ~Momin Khan Momin مومن خان مومن
-

سلیمؔ احمد چھایا ہُوا تھا رنگِ غم، دِل پہ غُبار …
سلیمؔ احمد چھایا ہُوا تھا رنگِ غم، دِل پہ غُبار کی طرح میں نے اُسی غُبار سے، ڈالی بہار کی طرح رنج ہزارہا سہی، دِل نہ دُکھے تو کیا علاج بے حس و بے خیال ہُوں سنگِ مزار کی طرح چلتا ہُوں اپنے زور میں، مرکبِ وقت کے بغیر سعی وعمل کی نے پہ ہُوں…
-

ماہرؔ القادری حُسن کے ناز و ادا کی شرح فرماتا ہُو…
ماہرؔ القادری حُسن کے ناز و ادا کی شرح فرماتا ہُوں میں شعر کیا کہتا ہُوں ماہرؔ! پُھول برساتا ہُوں میں تشنگی اِس حد پہ لے آئی ہے، شرماتا ہُوں میں آج پہلی بار، ساقی! ہاتھ پھیلاتا ہُوں میں شوق و مستی میں کہاں کا ضبط، کیسی احتیاط اِن حدوں سے تو بہت آگے نِکل…
-

پیر سیّد نصیرالدین نصیر گیلانی . بیتاب ہیں، ششدر …
پیر سیّد نصیرالدین نصیر گیلانی . بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں کیوں کر نہ ہوں، دِل ایک ہے ارمان بہت ہیں کیوں یاد نہ رکّھوں تُجھے، اے دُشمنِ پنہاں! آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا کہنے کو تو اِس دَور میں اِنسان بہت…
-

تمھیں بُھول جانا نہیں یُوں بھی مُمکِن مُسلسل ہما…
تمھیں بُھول جانا نہیں یُوں بھی مُمکِن مُسلسل ہمارے خیالوں میں تم ہو ۔ شفیق خلشؔ
-

مُقدّر پہ میرے تُمہی کو ہے سبقت خوشی غم کے دائم دل…
مُقدّر پہ میرے تُمہی کو ہے سبقت خوشی غم کے دائم دلالوں میں تم ہو شفیق خلشؔ
-

یُوں چاہت سے حیرت ہے حِصّہ لیے کُچھ فلک کے مُق…
یُوں چاہت سے حیرت ہے حِصّہ لیے کُچھ فلک کے مُقدّس کمالوں میں تم ہو شفیق خلشؔ