Category: منتخب غزلیں
-

سراجؔ اورنگ آبادی کہاں ہے گُلبدن موہن پیارا کہ جی…
سراجؔ اورنگ آبادی کہاں ہے گُلبدن موہن پیارا کہ جیوں بلبل ہے نالاں دل ہمارا بساطِ عِشق بازی میں مِرا دِل متاعِ صبرونقدو ہوش ہارا تغافل ترک کر، اے شوخِ بیباک ! تلطّف کر، نوازش کر مدارا ہزارے کا نہیں ہے ذوق مُجکوں کِیا ہُوں جب سیں تُجھ مُکھ کا نظارا سُنا ہے جب سیں…
-

عرفان صدیقی قدم اُٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی ن…
عرفان صدیقی قدم اُٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی نظر دِیے کی طرح، چوکھٹوں پہ جلتی رہی کُچھ ایسی تیز نہ تھی اُس کے اِنتظار کی آنچ یہ زندگی ہی مِری، برف تھی پگھلتی رہی سَروں کے پُھول سَرِ نوکِ نیزہ ہنستے رہے یہ فصل سُوکھی ہُوئی ٹہنیوں پہ پھلتی رہی…
-

مُبشّر سعیؔد خواب سُننے سے گئے، عِشق بتانے سے گئے…
مُبشّر سعیؔد خواب سُننے سے گئے، عِشق بتانے سے گئے زندگی! ہم تِری توقیر بڑھانے سے گئے گھر کے آنگن میں لگا پیڑ کٹا ہے جب سے ہم تِری بات، پرندوں کو سُنانے سے گئے جُز تِرے دیکھنے کے، اور نہیں تھا کُچھ کام یہ الگ بات، کسی اور بہانے سے گئے جب سے وحشت…
-

حمدِ باری تعالٰی شائستہ سحرؔ سرِ خیال بھی تُو ہے،…
حمدِ باری تعالٰی شائستہ سحرؔ سرِ خیال بھی تُو ہے، پسِ خیال بھی تُو تِری مِثال کہاں ہے، کہ بے مِثال بھی تُو تِری ہی ذات سے منسُوب روز و شب میرے کہ میرا دِن، میرا لمحہ بھی، ماہ و سال بھی تُو تِرے ہی ذکر نے بخشی ہے روشنی مُجھ کو تِرا ہی عکس…
-

شفیق خلشؔ ماہِ رمضاں میں عبادت کا مزہ کُچھ اور ہ…
شفیق خلشؔ ماہِ رمضاں میں عبادت کا مزہ کُچھ اور ہے روزہ سے بڑھ کر نہ رُوحانی غذا کُچھ اور ہے لوگ سمجھیں ہیں کہ روزوں سےہُوئے ہیں ہم نڈھال سچ اگر کہدیں جو پُوچھے پر، بِنا کُچھ اور ہے یُوں تو وقفہ کرکے کھا لینے کی بھی کیا بات ہے بعد افطاری کے، روٹی…
-

شفیق خلشؔ کئے مجھ سے سارے سوالوں میں تم ہو مرے خُ…
شفیق خلشؔ کئے مجھ سے سارے سوالوں میں تم ہو مرے خُوب و بَد کے حوالوں میں تم ہو سبب، غیض وغم کے زوالوں میں تم ہو ہُوں کچھ خوش، کہ آسُودہ حالوں میں تم ہو مُقدّر پہ میرے تُمہی کو ہے سبقت خوشی غم کے دائم دلالوں میں تم ہو یُوں چاہت سے حیرت…
-

شفیق خلشؔ کئے مجھ سے سارے سوالوں میں تم ہو مرے خُ…
شفیق خلشؔ کئے مجھ سے سارے سوالوں میں تم ہو مرے خُوب و بَد کے حوالوں میں تم ہو سبب، غیض وغم کے زوالوں میں تم ہو ہُوں کچھ خوش، کہ آسُودہ حالوں میں تم ہو مُقدّر پہ میرے تُمہی کو ہے سبقت خوشی غم کے دائم دلالوں میں تم ہو یُوں چاہت سے حیرت…
-

شفیق خلشؔ کئے مجھ سے سارے سوالوں میں تم ہو مرے خُ…
شفیق خلشؔ کئے مجھ سے سارے سوالوں میں تم ہو مرے خُوب و بَد کے حوالوں میں تم ہو سبب، غیض وغم کے زوالوں میں تم ہو ہُوں کچھ خوش، کہ آسُودہ حالوں میں تم ہو مُقدّر پہ میرے تُمہی کو ہے سبقت خوشی غم کے دائم دلالوں میں تم ہو یُوں چاہت سے حیرت…
-

خواجہ مِیر دردؔ . ہے غلط، گر گُمان میں کُچھ ہے تجھ…
خواجہ مِیر دردؔ . ہے غلط، گر گُمان میں کُچھ ہے تجھ سِوا بھی جہان میں کُچھ ہے دِل بھی تیرے ہی ڈھنگ سِیکھا ہے آن میں کُچھ ہے، آن میں کُچھ ہے بے خبر تیغِ یار، کہتے ہیں! باقی اِس نِیم جان میں کُچھ ہے اِن دِنوں کُچھ عَجَب ہے حال مِرا دیکھتا کُچھ…
-

انورؔ مسعود ۔ کب ضیا بار تِرا چہرۂ زیبا ہوگا کیا …
انورؔ مسعود ۔ کب ضیا بار تِرا چہرۂ زیبا ہوگا کیا یہ آنکھیں نہ رہیں گی تو اُجالا ہوگا مشغلہ اُس نے عجب سونپ دِیا ہے یارو عُمر بھر سوچتے رہیے، کہ وہ کیسا ہوگا جانے کِس رنگ سے رُوٹھے گی طبعیت اُس کی جانے کس ڈھنگ سے اب اُس کو منانا ہوگا اِس طرف…