Category: منتخب غزلیں
-

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بُھول گیا کیا ہے …
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بُھول گیا کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا کیا بُھولا، کیسے بُھولا، کیوں پوچھتے ہو؟ بس یوں سمجھو کارن دوش نہیں ہے کوئی، بھولا بھالا بھول گیا کیسے دن تھے، کیسی راتیں، کیسی باتیں گھاتیں تھیں من بالک ہے، پہلے پیار کا سُندر سپنا…
-

-

ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے می…
ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے میرا جی دانا تو نہیں ہے، عاشق ہے، سودائی ہے صبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہے ڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے، کلی کلی لہرائی ہے جانی پہچانی صورت کو اب تو آنکھیں ترسیں گی نئے شہر میں جیون دیوی نیا…
-

غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا، کیا اب تم سے بیان کریں…
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا، کیا اب تم سے بیان کریں غم بھی راس نہ آیا دل کو، اور ہی کچھ سامان کریں کرنے اور کہنے کی باتیں، کس نے کہیں اور کس نے کیں کرتے کہتے دیکھیں کسی کو، ہم بھی کوئی پیمان کریں بھلی بُری جیسی بھی گزری، اُن کے سہارے گزری…
-

سراج اورنگ آبادی 1714-1763 بازگشت جاں بلب ہوں ہ…
سراج اورنگ آبادی 1714-1763 بازگشت جاں بلب ہوں ہے کہاں وہ دلبرِ جادو لقب دلبرِ جادو لقب کے ہجر میں ہوں جاں بلب بے ادب کوں اے صنم ہرگز نہ کرتوں رو برو روبرو تیرے ہوئ ہے آرسی کیا بے ادب بے سبب ہم بے گناہوں پر روا مت کر ستم کر ستم ہم کوں…
-

سعید شہیدی حیدر آباد کے کہنہ مشق شاعر کیسے سکو…
سعید شہیدی حیدر آباد کے کہنہ مشق شاعر کیسے سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد اب کیا غزل سناؤں تجھے دیکھنے کے بعد آواز دے رہی ہے میری زندگی مجھے جاؤں میں یا نہ جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد کعبہ کا احترام بھی میری نظر میں ہے سر کس طرف جھکاؤں تجھے دیکھنے کے بعد…
-

غلام محمد قاصرؔ بغیر اس کے اب آرام بھی …
غلام محمد قاصرؔ بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا اُسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے وہ ماہ رخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا…
-

کب تلک چلنا پڑے گا ہمیں تنہا تنہا اب کسی موڑ پہ م…
کب تلک چلنا پڑے گا ہمیں تنہا تنہا اب کسی موڑ پہ مل جائیں گے ایسا بھی نہیں فیض الحسن خیال کانچ کے شہر میں پتھر نہ اٹھاؤ یارو مے کدہ ہے اسے مقتل نہ بناؤ یارو صحن مقتل میں بھی مے خانہ سجاؤ یارو شب کے سناٹے میں ہنگامہ مچاؤ یارو زندگی بکنے چلی…
-
"مرا عیش غم ،مرا شہد سم ، مری بود ہم نفس عدم ترا …
"مرا عیش غم ،مرا شہد سم ، مری بود ہم نفس عدم ترا دل حرم، گرو عجم ترا دیں خریدہ کافری” علامہ اقبال
-
موجِ ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی اُڑتے ہوئے پرند…
موجِ ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی اُڑتے ہوئے پرندوں کے پر بھی کتر گئی آنکھیں کہیں دماغ کہیں دست و پا کہیں رستوں کی بھیڑ بھاڑ میں دنیا بکھر گئی کچھ لوگ دھوپ پیتے ہیں ساحل پہ لیٹ کر طوفان تک اگر کبھی اس کی خبر گئی نکلے کبھی نہ گھر سے…