Category: منتخب غزلیں
-

کلام الاولیاء سلطان سندہ سید میر محمد احمد صدیق ش…
کلام الاولیاء سلطان سندہ سید میر محمد احمد صدیق شاہ قاتل 1885-01-14 1950-12-9 طائرِ دل ہے خم زلفِ معنبر کے لۓ دیدۂ شوق ہے حسنِ رخِ دلبر کے لۓ خلشِ تیرِ نظر درد بھی ہے درماں بھی مشغلہ ڈھونڈلیا ہے دلِ مضطر کے لۓ خم مرے منہ سے لگاکر مرے ساقی نے کہا وہ بھی…
-
جُرم آدم نے کیا اور نسلِ آدم کو سزا کاٹتا ہوں زندگ…
جُرم آدم نے کیا اور نسلِ آدم کو سزا کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر غم سے پتھّر ہو گیا، لیکن کبھی رویا نہیں منیر نیازی
-

ثمینہ راجہ کا یوم وفات October 30, 2012 ۔وہ بہاو…
ثمینہ راجہ کا یوم وفات October 30, 2012 ۔وہ بہاولپور کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ بارہ تیرہ برس کی عمر سے شعر گوئی کا آغاز ہوا اور جلد ہی ان کا کلام پاک و ہند کے معتبر ادبی جرائد میں شائع ہونے لگا۔ لیکن اپنے گھرانے کی روایات اور سماجی پابندیوں کے…
-
تیرے عشق کی ایک بُوند اِس میں مل گئی تھی اِسی لیے …
تیرے عشق کی ایک بُوند اِس میں مل گئی تھی اِسی لیے میں نے عُمر کی ساری کڑواھٹ پی لی اَمرتا پریتم
-
اک وہ، کہ آرزؤں پہ، جیتے ہیں عُمْر بھر! اِک ہم، کہ…
اک وہ، کہ آرزؤں پہ، جیتے ہیں عُمْر بھر! اِک ہم، کہ ہیں ابھی سے پشیمانِ آرزُو آنکھوں سے جُوئے خُوں ہے روَاں، دل ہے داغ داغ دیکھے کوئی، بہارِ گُلِستانِ آرزُو اختر شیرانی
-
شاید کہ موجِ عشق جنوں خیز ہے ابھی۔ ثمینہ راجہ شای…
شاید کہ موجِ عشق جنوں خیز ہے ابھی۔ ثمینہ راجہ شاید کہ موجِ عشق، جنوں خیز ہے ابھی دل میں لہو کی تال بہت تیز ہے ابھی ہم نے بھی مستعار لیا اُس سے رنگِ چشم اپنی طرح سے وہ بھی کم آمیز ہے ابھی پھر آبِ سرخ آنکھ سے بہتا دکھائی دے گویا یہ…
-

استاد الشعراء ارشاد جالندھری کی وفات October 30, 2…
استاد الشعراء ارشاد جالندھری کی وفات October 30, 2015 ارشاد جالندھری پسرام پور ضلع جالندھر 1945 ء میںپیدا ہوئے، نام ارشاد علی رکھا گیا ۔بعد میں اپنے نام کے ساتھ جالندھری لکھنے لگے ۔دو سال کی عمر تھی جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو لاکھوں لٹے پٹے مہاجروں کے ساتھ اس کے والدین…
-

— — رفیعہ شبنم عابدی — — جنت سے نکلوانے کا الز…
— — رفیعہ شبنم عابدی — — جنت سے نکلوانے کا الزام نہ دینا جنت جسے کہتے ہیں مرے زیرِ قدم ہے میں ہوں ترا ناموس، تو ملبوس ہے میرا میں ایک صحیفہ ہوں تُو مانند قلم ہے — — — — — — — — — — — – میں کہ ایک عورت ہوں…
-

-

چشمِ تر سے آنسوؤں نے رواں ہونا ہی تھا آخر اس چشمے …
چشمِ تر سے آنسوؤں نے رواں ہونا ہی تھا آخر اس چشمے نے اک دن بیکراں ہونا ہی تھا دو قدم ہی چل کے دھوکا دے گیا ہم سفر راہِ منزل نے بھی تو پھر بے نشاں ہونا ہی تھا کر لیا جب خود غرض لوگوں پہ اندھا اعتماد پھر مِری قربانیوں نے رائیگاں ہونا…