Category: منتخب غزلیں
-

دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئي …
دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئي شب غم گزار کے ويراں ہے ميکدہ، خم و ساغر اداس ہیں تم کيا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے اک فرصت گناہ ملئ، وہ بھي چار دن ديکھے ہيں ہم نے حوصلے پروردگار کے دنيا نے تيري ياد سے بيگانہ کرديا…
-

احمد ندیم قاسمی ”خدا کرے میری ارض پاک پر اترے” …
احمد ندیم قاسمی ”خدا کرے میری ارض پاک پر اترے” خدا کرے میری ارض پاک پر اترے وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز کہ جس…
-

دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہ اس شہر میں پھر…
دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہ اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہ شاعر ہے کہ عاشق ہے، جوگی ہے کہ بنجارہ دروازہ کھلا رکھنا سینے سے گھٹا اٹھے، آنکھوں سے جھڑی برسے پھاگن کا نہیں بادل، جو چار گھڑی برسے برکھا ہے یہ بھادوں کی، برسے تو بڑی…
-

گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے – فیض احمد فیض…
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے – فیض احمد فیض گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز کبھی…
-

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا …….احمد …
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا …….احمد ندیم قاسمی کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا اس کی دولت ھے فقط نقشِ کفِ پا تیرا تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں نور ہو جاتا ھے کچھ اور ہویدا تیرا کچھ نہیں سوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے چھلک…
-

سلام مچھلی شہری کی وفات November 19, 1973 سلام مچ…
سلام مچھلی شہری کی وفات November 19, 1973 سلام مچھلی شہری کا پہلا تعارف ترقی پسند تحریک کے نظریاتی عقیدے سے بچ نکل ایک بالکل نئے طرز کی رومانی شاعری کی تخلیق سے جڑا ہے ۔ سلام اپنے وقت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعروں میں تھے ، نوجوانوں میں ان کی شاعری…
-

گلوں سی گفتگو کریں، قیامتوں کے درمیاں ۔۔۔ ادا جعفر…
گلوں سی گفتگو کریں، قیامتوں کے درمیاں ۔۔۔ ادا جعفری گلوں سی گفتگو کریں، قیامتوں کے درمیاں ہم ایسے لوگ اب مِلیں حکایتوں کے درمیاں ہتھیلیوں کی اَوٹ ہی چراغ لے چلوں ابھی ابھی سَحر کا ذکر ہے روایتوں کے درمیاں جو دِل میں تھی نِگاہ سی، نِگاہ میں کِرن سی تھی وہ داستاں اُلجھ…
-

سلام مچھلی شہری بہت دنوں کی بات ہے ۔۔۔ بہت دنوں ک…
سلام مچھلی شہری بہت دنوں کی بات ہے ۔۔۔ بہت دنوں کی بات ہے فضا کو یاد بھی نہیں یہ بات آج کی نہیں بہت دنوں کی بات ہے شباب پر بہار تھی فضاء بھی خشگوار تھی نہ جانے کیوں مچل پڑا میں اپنے گھر سے چل پڑا کسی نے مجھے روک کر بڑی ادا…
-
خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ، بنا کے رکھنا، کمال یہ ہ…
خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ، بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے ہوا کی زد پہ دِیا جلانا، جَلا کے رکھنا، کمال یہ ہے ذرا سی لغزش پہ، توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے کسی کو دینا یہ مشورہ کہ، وہ دُکھ…
-

ساقیؔ امروہی سامنے جب کوئی بھرپور …
ساقیؔ امروہی سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے پھر طبیعت میں مری کیوں نہ روانی آئے کوئی پیاسا بھی کبھی اُس کی طرف رُخ نہ کرے کِسی دریا کو اگر پیاس بُجھانی آئے میں نے حسرت سے نظر بھر کے اُسے دیکھ لیا جب سمجھ میں نہ محبت کے معانی آئے اُس کی خُوشبو سے…