Category: منتخب غزلیں
-

یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے پور پور آنکھ کی ما…
یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے پور پور آنکھ کی مانند بھری جاتی ہے بے تعلق نہ ہمیں جان کہ ہم جانتے ہیں کتنا کچھ جان کے یہ بے خبری آتی ہے اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی ہاتھ گُھل جاتے ہیں پھر کوزہ گری آتی ہے کتنا رکھتے ہیں…
-

جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے بیکل اتساہی جب…
جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے بیکل اتساہی جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے پردے بھی دریچوں کے سرکائے گئے ہوں گے مے خانے میں جب زاہد پہنچائے گئے ہوں گے خاطر کے سلیقے سب اپنائے گئے ہوں گے جب سطوت شاہی کو کچھ ٹھیس لگی ہوگی سولی پہ…
-

استاد دامن دی شاعری دا سیاسی رنگ قوم دے غدارو! تے…
استاد دامن دی شاعری دا سیاسی رنگ قوم دے غدارو! تے پکارو تے ککارو ہن گئے ہوئے فرنگیاں نوں، مڑ کے ہن بلائی جاؤ قوماں دیاں قوماں تسی، ٹوٹے ٹوٹے کیتیاں بندہ بندہ، ٹوٹے ٹوٹے، ہندا تے کرائی جاؤ کھائی جاؤ، کھائی جاؤ، بھیت کنھے کھولنے؟ وچو وچ کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جاؤ بھکھاں…
-

"تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیں کہ سانس چلتی …
"تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیں کہ سانس چلتی ہے، لیکن اداس چلتی ہے” 3 دسمبر: یومِ وفات جناب محبوب خزاںؔ (ولادت: 1 جولائی 1930ء – وفات: 3 دسمبر 2013ء) محبوب خزاںؔ کا اصل نام محمد محبوب صدیقی تھا۔ وہ اُتر پردیش کے ضلع بلیہ کے ایک موضع چندا دائر کے ایک معزز گھرانے…
-

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی بہار آئی ہے…
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی بہار آئی ہے گلشن میں، اسیرِ باغباں ہم ہیں زباں رکھتے ہوئے بھی وائے قسمت، بے زباں ہم ہیں ابھی سے کیا کہیں، ناکام ہیں یا کامراں ہم ہیں کہ یہ دورِ عبوری ہے، بقیدِ امتحاں ہم ہیں بھٹکتے پھر رہے ہیں ہم نشاں منزل کا گُم کر کے…
-
عین ممکن ہے کسی روز قیامت کر دیں کیا خبر ہم ت…
عین ممکن ہے کسی روز قیامت کر دیں کیا خبر ہم تجھے دیکھیں تو بغاوت کر دیں مونسِ غم ہے ہمارا، سو کہاں ممکن ہے تجھ کو دیکھیں تو ترے ہجر کو رخصت کر دیں پیش گوئی کسی انجام کی جب ملتی ہے زندگی!! کیسے تجھے وقفِ محبت کر دیں اس کو احساسِ ندامت ہے…
-

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صُورت احباب کی صُور…
ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صُورت احباب کی صُورت ہو کہ اغیار کی صُورت سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صُورت جس آنکھ نے دیکھا تُجھے اُس آنکھ کو دیکُھوں ہے اِس کے سِوا کیا تِرے دیدار کی صُورت …
-

انور سدید کی پیدائش December 4, 1928 4 دسمبر 1928…
انور سدید کی پیدائش December 4, 1928 4 دسمبر 1928ء کو اردو کے مشہور ادیب، نقاد اور محقق جناب انور سدید پیدا ہوئے ۔ انہوں نے سول انجینئرنگ میں تعلیم کے حصول کے بعد اردو ادبیات میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں…
-

ترے مکھ نے چھپایا ہے صنم اس چار اشیا کو قمر کو، مش…
ترے مکھ نے چھپایا ہے صنم اس چار اشیا کو قمر کو، مشتری کو، شمس کو، خورشیدِ اعلا کو خرامش تیرے قامت نے، کیا خم پشت خجلت سیں شجر کو، سرو کو، عرعر کو اور شمشادِ برپا کو کیا شہدِ دو لعلِ لب ترے، کم لذت اے جاناں! شکر کو، نیشکر کو، قند کو، مصری…
-

ڈاکٹرشانتی سروپ بھٹناگر خدا وہ ذاتِ واحد وہ حسنِ …
ڈاکٹرشانتی سروپ بھٹناگر خدا وہ ذاتِ واحد وہ حسنِ یکتا کہ شمع پروانۂ یقیں ہے جو ذرہ ذرہ سے جلوہ افشاں تو ریشہ ریشہ میں جاگزیں ہے نقابِ شام خزاں الٹ دے تو داغِ لالہ ، سرشکِ شبنم حجابِ صبحِ بہار اٹھاوے تو بوۓ گل روح انبگیں ہے کہیں دل افروز لالہ و گل کہیں…