Category: منتخب غزلیں
-

-

تبسم کاشمیری کی ایک خوبصورت نظم زوالِ عمر کپکپاتی …
تبسم کاشمیری کی ایک خوبصورت نظم زوالِ عمر کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے خزاں کے گھوڑے بدن کو تاراج کرتے ہوئے آگے نکل گئے ہیں نامعلوم ساعتوں میں دہلیزیں جھریوں سے بھر گئی ہیں ہر شے سے رشتہ کمزور ہو رہا ہے پرانے پیڑوں اور دوست ستارں سے اور بہت…
-

عابی مکھنوی اور دسمبر ٭٭٭٭٭ ابھی سردی نہیں آئی ا…
عابی مکھنوی اور دسمبر ٭٭٭٭٭ ابھی سردی نہیں آئی ابھی موسم نہیں بھیگا ابھی ماحول بھی دھند میں نہیں ڈوبا ابھی ناران کی بل کھاتی سڑکو ں پر ہے سناٹا !! ابھی تو برف کی ڈولی فضاؤں میں معلق ہے ابھی تو یہ نومبر ہے نومبر میں تو شاعر اپنی چُھریاں تیز کرتے ہیں نومبر…
-

ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی دل درد سے بوجھل …
ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی سر زانو پہ رکھے ہوئے کیا سوچ رہی ہو؟ کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی؟ تم میری طرف دیکھ کے چپ ہو سی گئی تھیں وہ ساعتِ خوش وقت نشاطِ گزراں کی اک دن یہ…
-

کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے یہ س…
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتاءیں تمھیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمھارے در سے ہی لو لگی ہے تجلیوں کے کفیل تم ہو مرادِ قلبِ…
-

-

آج پنجابی زبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن کی ت…
آج پنجابی زبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن کی تاریخ وفات ہے استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا وہ یکم جنوری 1910ءکو لاہور میں پیدا ہوئے۔ استاد دامن کے والد خیاطی کی پیشے سے وابستہ تھے چنانچہ انہوں نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا اور ایک جرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے…
-

بیکل اتساہی کی وفات December 03, 2016 اردو کے معر…
بیکل اتساہی کی وفات December 03, 2016 اردو کے معروف اور طرح دار شاعر بیکل اتساہی اترپردیش کے قصبے بلرام پور میں سنہ 1928 میں پیدا ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ معروف ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری کا تعلق بھی بلرام پور سے تھا۔ بیکل اتساہی کا اصل نام محمد شفیع خان تھا۔ پہلے…
-

شفیق خلشؔ نہیں جو عِشق میں رُتبہ امین رکھتا تھا …
شفیق خلشؔ نہیں جو عِشق میں رُتبہ امین رکھتا تھا میں اپنا دِل تک اُسی کا رہین رکھتا تھا رہی جو فکر تو نادان دوست ہی سے مجھے وگرنہ دشمنِ جاں تک ذہین رکھتا تھا خیال جتنا بھی اُونچا لیے پھرا ، لیکن میں اپنے پاؤں کے نیچے زمین رکھتا تھا خُدا کا شُکر کہ…
-

یہ دسمبر ہے سنو ! میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے وہاں …
یہ دسمبر ہے سنو ! میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے وہاں سردی بہت ہوگی اکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گے تو گھر میں کوئ بھی لڑکی سلگتی مسکراہٹ سے تمھاری اس تھکاوٹ کو تمھارے کوٹ پر ٹھہری ہوئ بارش کی بوندوں کو سمیٹے گی ،نہ جھاڑے گی نہ تم سے…