Category: منتخب غزلیں
-

مرزا اسداللہ خاں غالب یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصا…
مرزا اسداللہ خاں غالب یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا کوئی میرے…
-

سید محمد جعفری کا یوم پیدائش December 27, 1905 س…
سید محمد جعفری کا یوم پیدائش December 27, 1905 سید محمد جعفری 27 دسمبر، 1905ء کو پہرسر، بھرت پور، برطانوی ہندوستان کے ایک علمی گھرانے میں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد علی جعفری ماہر تعلیم تھے اسلامیہ کالج لاہور سے منسلک ہوگئے اور اس کالج کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے۔ میٹرک ڈی۔اے۔وی…
-

کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی ف…
کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی فرید جاوید کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی کھلتی ہی نہیں اب دل کی کلی مرا چین گیا مری نیند گئی میں لاکھ رہوں یوں ہی خاک بسر شاداب رہیں ترے شام و سحر نہیں اس کا…
-

شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیطِ باد…
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلےٰ کون ہے؟ خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا پوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغنائے حسن دست مرہونِ حنا، رخسار رہنِ…
-

-

ایبسٹریکٹ آرٹ سید محمد جعفری ایبسٹریکٹ آرٹ کی دیکھ…
ایبسٹریکٹ آرٹ سید محمد جعفری ایبسٹریکٹ آرٹ کی دیکھی تھی نمائش میں نے کی تھی از راہ مروت بھی ستائش میں نے آج تک دونوں گناہوں کی سزا پاتا ہوں لوگ کہتے ہیں کہ کیا دیکھا تو شرماتا ہوں صرف کہہ سکتا ہوں اتنا ہی وہ تصویریں تھیں یار کی زلف کو سلجھانے کی تدبیریں…
-

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مرزا غالب…
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مرزا غالب سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں تھیں بنات النعش گردوں دن…
-

-

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے مرزا غالب غم کھا…
غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے مرزا غالب غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں گوشے میں…
-

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حالات …
جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی گھرمیں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی یکساں ہیں مری…