Category: منتخب غزلیں
-

ثروت حسین یہ سب سنان و سپر تیرے نام کرتا ہُوں می…
ثروت حسین یہ سب سنان و سپر تیرے نام کرتا ہُوں میں آج تُجھ پہ محبّت تمام کرتا ہُوں یہ فرشِ دِل تِرے شایان تو نہیں، لیکن ذرا ٹھہر کہ کوئی انتظام کرتا ہُوں میں اِنتظار بہت دیر کر نہیں سکتا غرُوبِ مہر سے پہلے ہی شام کرتا ہُوں کوئی پیالہ نہیں اور شام آ…
-

قمر جلال آبادی کا یوم وفات January 09, 2003 بہتر…
قمر جلال آبادی کا یوم وفات January 09, 2003 بہترین لب و لہجہ کے خوبصورت شاعر اور مدھر فلمی گیتوں کا خالق قمر جلال آبادی کی آج برسی ہے۔ قمر جلال آبادی کا اصل نام اوم پرکاش بھنڈاری تھا۔ان کی مادری زبان پنجابی تھی۔ 1917 میں امرتسر کے ایک گاؤں ” جلال آباد میں پیدا…
-

خط کی کئی قسمیں ہیں۔ سیدھے خط کو خطِ مستقیم کہتے ہ…
خط کی کئی قسمیں ہیں۔ سیدھے خط کو خطِ مستقیم کہتے ہیں۔ چونکہ یہ بالکل سیدھا ہوتا ہے اس لئے سیدھے آدمی کی طرح نقصان اٹھاتا ہے۔ تقدیر کے لکھے خط کو خطِ تقدیر کہتے ہیں، جسے فرشتوں نے سیاہی سے لکھا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا مٹانا مشکل ہوتا ہے۔ جس خط میں…
-

منظر کے اردگرد بھی اور آرپار دُھند آئی کہاں سے آنک…
منظر کے اردگرد بھی اور آرپار دُھند آئی کہاں سے آنکھ میں یہ بےشمار دُھند کیسے نہ اُس کا سارا سفر رائیگاں رہے جس کاروانِ شوق کی ہے راہگزار دُھند ہے یہ جو ماہ و سال کا میلہ لگا ہوا کرتی ہے اس میں چھپ کر مرا انتظار دُھند آنکھیں وہ بزم، جس کا نشاں…
-

یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتی قمر جلال آبادی …
یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتی قمر جلال آبادی یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتی کہیں ادھر کی تو دنیا ادھر نہیں ہوتی نہ ہو رہائی قفس سے اگر نہیں ہوتی نگاہ شوق تو بے بال و پر نہیں ہوتی ستائے جاؤ نہیں کوئی پوچھنے والا مٹائے جاؤ کسی…
-

شفیق خلشؔ تیری نظروں سے اُلجھ جانے کو جی چاہتا ہے…
شفیق خلشؔ تیری نظروں سے اُلجھ جانے کو جی چاہتا ہے پِھر وہ اُلفت بھرے پیمانے کو جی چاہتا ہے تیرے پہلُو میں دَبک جانے کو جی چاہتا ہے غم سے کُچھ دیر نِکل آنے کو جی چاہتا ہے دِل میں ڈر سے دَبی اِک پیار کی چنگاری کو دے ہَوا، شعلہ سا بھڑکانے کو…
-

ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﺎ ﻣﺤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ …
ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﺎ ﻣﺤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ،ﺯﻭﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮍﮎ ﭘﮧ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮئے ﺭُﮎ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗُﻮ، ﯾﮧ ﺍﺣﺘﻤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﺮﺩ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﻨﮯ ﺗﮏ ﻣَﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﯿﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﺳﯽ…
-

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی دل کو کھینچے لیے…
آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی دل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئی وائے حیرت کہ بھری محفل میں مجھ کو تنہا نظر آتا ہے کوئی صبح کو خنک فضاؤں کی قسم روز آ آ کے جگاتا ہے کوئی منظرِ حُسن دو عالم کے نثار مجھ کو آئینہ دکھاتا ہے کوئی چاہیے خود پہ یقینِ…
-

عہدِ جدید تر کا نمائندہ کون ہے؟ گر میں ن…
عہدِ جدید تر کا نمائندہ کون ہے؟ گر میں نہیں تو اور یہاں زندہ کون ہے؟ کس نے نئے سخن کی بسائی ہیں بستیاں؟ جو خود اجڑ گیا ہے وہ باشندہ کون ہے؟ تنہا ہے کون ،کس کے یہ بازو ہیں اَن گنت؟ تھامے ہوئے یہ پرچمِ آئندہ کون ہے؟ اب بھی نئے افق پہ…
-

وہ زمانہ نظر نہیں آتا کُچھ ٹِھکانہ نظر نہیں آتا د…
وہ زمانہ نظر نہیں آتا کُچھ ٹِھکانہ نظر نہیں آتا دِل نے اِس بزم میں بِٹھا تو دِیا اُٹھ کے جانا نظر نہیں آتا رہیے مُشتاقِ جلوۂ دِیدار ہم نے مانا، نظر نہیں آتا لے چلو مجھکو رہروانِ عَدَم یاں ٹھکانہ نظر نہیں آتا داغ دہلوی