Category: منتخب غزلیں
-
جاوید اختر آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھ…
جاوید اختر آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا، ملنے جلنے لگے، آنے…
-

وقت کی رَو کو حقیقت نہ سمجھ لیجئے گا اِس سیاست کو …
وقت کی رَو کو حقیقت نہ سمجھ لیجئے گا اِس سیاست کو سیاست نہ سمجھ لیجئے گا یہ تعلق ہے ابھی وجہِ تعلق تو کُھلے ملِنے جُلنے کو محبت نہ سمجھ لیجئے گا یہ بھی ممکن ہے سنبھلتا نہ ہو دستار کا بوجھ سر جُھکانے کو عقِیدت نہ سمجھ لیجئے گا جاگتی آنکھوں اگر خواب…
-

چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری – محسن…
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری – محسن بھوپالی چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری لوگوں کا کیا، سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری میں نے دل کی بات رکھی اور تونے دنیا والوں کی میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری روک سکو تو پہلی…
-
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری – محسن…
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری – محسن بھوپالی چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری لوگوں کا کیا، سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری میں نے دل کی بات رکھی اور تونے دنیا والوں کی میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری روک سکو تو پہلی…
-
جنوری 17 کی شخصیات فضا ابن فیضی – محسن بھوپالی – ح…
جنوری 17 کی شخصیات فضا ابن فیضی – محسن بھوپالی – حیدر دہلوی – جاوید اختر – ہاجرہ مسرور – کمال امروہی – منصور آفاق
-
"”خود کلامی”” مر بھی جاؤں تو مت رونا اپنا ساتھ …
????????””خود کلامی””???????? مر بھی جاؤں تو مت رونا اپنا ساتھ نہ چھوٹے گا تیری میری چاہ کا بندھن موت سے بھی نہیں ٹوٹے گا میں بادل کا بھیس بدل کر تجھ سے ملنے آؤں گا تیرے گھر کی سُونی چھت پر غم کے پھول اُگاؤں گا جب تو اکیلی بیٹھی ہو گی تجھ کو خوب…
-
میں پرستِش کی حد سے لوٹا ہُوں اب مُحبّت __ فضُول ل…
میں پرستِش کی حد سے لوٹا ہُوں اب مُحبّت __ فضُول لگتی ہے (اظہر ناظؔر)
-
بیاباں دُور تک مَیں نے سجایا تھا مگر وہ شہر کے ر…
بیاباں دُور تک مَیں نے سجایا تھا مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا دیئے کی آرزو کو جب بجھایا تھا پھر اُس کے بعد آہٹ تھی نہ سایہ تھا اسے جب دیکھنے کے بعد دیکھا تو وہ خود بھی دِل ہی دِل میں مسکرایا تھا دِل و دیوار تھے اِک نام کی زد…
-

ہر ذرہِ اُمید سے خُوشبو نِکل آئے تنہائ…
ہر ذرہِ اُمید سے خُوشبو نِکل آئے تنہائی کے صحرا میں اگر تُو نِکل آئے کیسا لگے اِس بار اگر موسمِ گُل میں تتلی کا بدن اوڑھ کے جُگنو نِکل آئے پھر دِن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزارا پھر شام ہوئی آنکھ سے آنسو نِکل آئے بے چین کیے رہتا ہے دھڑکا یہی جی…
-

گرمی پہلوئے دلدار نے سونے نہ دیا مجھ کو رنگینی افک…
گرمی پہلوئے دلدار نے سونے نہ دیا مجھ کو رنگینی افکار نے سونے نہ دیا یوں ہی تکتا رہا تاروں کو سحر ہونے تک رات بھر دیدۂ بیدار نے سونے نہ دیا رات بھر لذت قربت سے رہا محو کلام رات بھر مجھ کو مرے یار نے سونے نہ دیا رات بھر جاگا کئے پلکیں…