Category: کالم
-
زمین تنگ ہورہی ہے! – ڈیوڈ ویلس ویلز
قحط، معاشی انہدام، جھلسادینے والا سورج: بدلتا موسم کیسی تباہی مچاسکتا ہے؟ یہ ہمارے خدشات سے بڑھ کر سنگین اور قریب ہے۔ کوسٹا ریکا کے جنگلات میں، جہاں عام طورپر فضا میں نمی کی شرح نوے فیصد سے زائد رہتی ہے، یہ اگر 105 ڈگری فارن ہائیٹ کی لپیٹ میں آجائے، جان لیوا ہوجائے گی۔…
-
حدت کی شدت ۔۔۔ نیویارک بحرین بننے جارہا ہے – ڈیوڈ ویلس ویلز
(یہ تحقیقاتی مضمون The Uninhabitable Earth کاترجمہ ہے۔ نیویارک میگزین کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ پڑھاجانے والا مضمون ہے۔ اپنی اشاعت کے دو گھنٹوں میں ہی، یہ اخبارات، رسالوں، بلاگس، اور ٹوئٹر پر تبصروں کا موضوع بن چکا تھا۔ ریسرچ صحافی ڈیوڈ ویلس ویلز نے یہ مضمون درجنوں سائنس دانوں اور ماہرین کے…
-
خوراک کا خاتمہ: ڈیوڈ ویلس ویلز – ترجمہ: ناصر فاروق
موسم ہر جگہ ایک سے نہیں ہیں، مختلف خطے مختلف فصلیں اُگاتے ہیں، سازگاری میں مختلف برتاؤ کرتے ہیں۔ مگر آج صورتحال یہ ہوچکی ہے، کہ کھیتی باڑی کی فضا ہر جگہ مرجھا رہی ہے۔ اگر اس صدی کے آخر تک کرہ زمیں مزید پانچ ڈگری گرم ہوجاتا ہے، تو پچاس فیصد مزید بھوکے انسان…
-

امریکا کے لوگوں کی تاریخ: ہاورڈ زن – تلخیص و ترجمہ: ناصر فاروق
اک قسم کا انقلاب! برطانوی فوج پر امریکیوں کی فتح، پہلے سے موجود مسلح افراد کے باعث ممکن ہوئی۔ تقریبا ہر سفید فام کے پاس ایک بندوق تھی، اور وہ اسے چلانا جانتا تھا۔ گو کہ انقلابی رہنما غریبوں کے ہجوم پر بھروسہ نہ کرتے تھے، مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سیاہ فام…
-
یورپی کتب خانوں میں عربی نسخوں کا علم: مزید ڈرامائی مماثلتیں – پروفیسرجارج صلیبا
سائنس کے دیگر شعبوں میں بھی، (نشاۃ ثانیہ علوم اور عربی نسخوں کے علوم میں) ڈرامائی مماثلتوں کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں،، جیسا کہ کئی صدیوں بعد لاطینی متون میں پھر سے ابھرنے والے عربی سائنسی اصول اور نظریات ہیں۔ پھیپھڑوں کے ذریعہ جسم میں خون کی گردش کا نظریہ سب سے پہلے ابن…
-
یورپی کتب خانوں کے عربی علوم اور جدید سائنس کی جڑیں (آخری حصہ) – پروفیسر جارج صلیبا
(جارج صلیبا کولمبیا یونیورسٹی امریکا میں عربی اور اسلامی سائنس کے پروفیسر ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے اسلامی سائنسز میں ڈاکٹریٹ ہیں۔ سن 1993 میں انھیں ہسٹری آف سائنس اور 1996 میں تاریخ علم فلکیات کے اعزازات سے نوازا گیا۔ John W. Kluge Center کی جانب سے انھیں 2005 میں سینئر ممتاز اسکالر قرار دیا…
-
موسمی آفتیں: کیسے بچنا ہے؟ – بل گیٹس/ ترجمہ: ناصر فاروق
تعارف: اکاون ارب سے صفرتک موسمی تبدیلی کے بارے میں، یہ دو ہندسے ہیں، تمہیں جنہیں جان لینا چاہیے۔ پہلا 51 ارب ہے۔ دوسرا 0 ہے۔ اکاون ارب ٹن گرین ہاؤسز گیس ہرسال ماحولیات کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ شرح سال بہ سال کم زیادہ ہوسکتی ہے۔ عام طورپر اس میں اضافہ ہی…
-
موسمی آفتیں (صفر کیوں؟ پہلا باب) – بل گیٹس – ترجمہ: ناصر فاروق
پہلا باب (پہلا حصہ) صفر کیوں؟ ہمیں ”صفر“ کاربن تک سفر کرنا ہے۔ یہ ضروری ہے۔ اس کی وجہ بڑی ہے۔ گرین ہاؤس گیس فضا کی گرمی جکڑلیتی ہے، اور زمین کا درجہ حرارت بڑھادیتی ہے۔ جتنی زیادہ گیسیں ہوتی ہیں، درجہ حرارت اُتنابڑھ جاتا ہے۔ جو گرین ہاؤس گیسیں ہوا میں شامل ہوجاتی ہیں،…
-
موسمی آفتیں : دوڈگری کا فرق – بل گیٹس – ترجمہ: ناصر فاروق – پہلا باب (دوسرا حصہ)
تم شاید سوچ رہے ہو کہ 1.5اور 2 ڈگری کا فرق کچھ زیادہ تو نہیں ہے۔ مگر ماہرین موسمیات دونوں منظر ناموں کے خاکے جاری کرچکے ہیں، اور خبر بالکل بھی اچھی نہیں ہے۔ کئی زاویوں سے، دو ڈگری کا اضافہ 1.5 سے محض 33 فیصد زیادہ خراب صورتحال ہی نہیں ہے بلکہ سو فیصد…
-
امریکی امداد کے بغیر، اسرائیل فلسطینیوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا – نوم چومسکی
فلسطین کے متعلق نوم چومسکی سے سی۔ جے۔ پولی چرونیو کا ایک سوال پر مختصر انٹرویو جو 12 مئی 2021 کو "ٹروتھ آوٹ” میں شائع ہوا۔ ترجمہ: معراج رعنا سی.جے. پولی چرونیو: نوم، میں آپ سے بیت المقدس کے مظاہروں کے دوران، مسجد اقصیٰ پر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملے اور پھر غزہ میں تازہ ترین…