Category: بلاگ
-
دن عام ہوں یا وبا کے: ایک خط – کومل راجہ
دن عام ہوں یا وبا کے شہرِ شیراز کے عظیم شاعر حافظ شیرازی کا مندرجہ ذیل شعر مجھ جیسے خرابوں پر بِلا کسی تفریق کے ہر عصر میں اکثر صادق آتا ہے۔ دریں زمانہ رفیقے کہ خالی از خلل استصراحیٔ مےِ ناب و سفینۂ غزل است یعنی (اس) زمانے میں اگر کوئی دوست عیب/خرابی سے…
-
زندہ ہونے کا ثبوت – نعیم صادق
مرکزی قومی شاہراہ سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر، ایک لمبی اور تنگ گلی کے نچلے سرے پر دیھہ لانڈھی میں، 200 بستروں پر مشتمل ایک ہیلتھ کیئر سنٹر ہے۔ جسے کوہی گوٹھ ہسپتال کہا جاتا ہے۔ ایک منفرد مقام ہے، جہاں شفا، ہمدردی، انسانیت اور تعلیم کو یکجا کرکے ایک ایسا ہیلتھ کیئر ماڈل…
-
ابسولیوٹلی ناٹ – محمد طلحہ جٹ
برف کے ‘کولے’ آہستہ آہستہ فریج کے اوپر والے خانے میں اپنی جگہ پر واپس آنے کی کوشش کر رہے تھے مگر بٹ صاحب کے رکھوائے ہوئے ‘پائے’ انکی راہ میں سیسہ پگھلائی دیوار بن کہ کھڑے تھے۔ عید کو گزرے تین ہفتے گزر چکے تھے۔ کولوں کی یہ حالت دیکھ کر مجھے دکھ بھی…
-
زندگی کے واقعات کو پہچاننا – نعیم صادق
27 جولائی 2021 کو ایک چھ سالہ بچی کو اغوا کیا گیا اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے زمان ٹاون کورنگی کی ایک کچرا کنڈی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اس طرح کے کئی بار پیش آنے والے سانحات کی طرح دہرایا جانے والا ایک وقعہ ہے۔ جو لگتا ہے کہ ہماری…
-
افغانستان: تصویر کا ایک اور رُخ – مجیب الحق حقی
ایک خطّے میں اچانک تبدیلی سے جیسے دنیا میں بھونچال آگیا ہے اور مغربی اور سیکولر میڈیا پر چیخیں بلند ہورہی ہیں۔ چہروں پر ہوائیاں اُڑ رہی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہورہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پریشانی کی اصل وجہ کیا ہے؟ معاملے کی نوعیّت جاننے کے لیے تھوڑا پیچھے چلتے…
-
بھیڑ اور بھیڑیے: نئی کہانی، پرانا انجام – سعدیہ بشیر
بھیڑ کا بچہ ندی پر پانی پینے آیا تو بھوکے بھیڑیے کی نیت خراب ہو گئی۔بھیڑیا بھیڑ کے بچے کو کھانا چاہتا تھا اس لیے اس نے بھیڑ کے بچے پر الزام لگایا کہ تم نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی تھی۔ بھیڑ کے بچے نے معصوم نظروں سے بھیڑیے کو دیکھا اور کہا لیکن میں…
-

کالرہ اور کلاسرا – محمد خان قلندر
پہلی بار جب رؤف کلاسرا کا نام سنا تو ہم کلاسرا کو پرانے ضلع شاہ پور اب سرگودھا کے تاریخی گاؤں کالرہ سٹیٹ سے مکس اپ کر گئے، جو متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعلی خضر حیات ٹوانہ کی جاگیر تھی، اب تو وہاں سنا ہے کھنڈرات ہیں، ہماری یاد میں کالرہ کالری۔ کوئلے کی کان…
-
کشمیری صحافتی اداروں کے خلاف احتجاج – غازی سہیل خان
حساسیت اور ضابطہ اخلاق کا خیال رکھ کر ہی کام کرنے کی ضرورت انسان سے غلطیاں ہونا عین فطرت میں شامل ہے، اس لحاظ سے ہر ایک جگہ مثبت اور منفی دونوں حیثیت سے کام ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ انفرادی و اجتماعی طور پر دن و رات میں لاتعداد غلطیاں ہو…
-
کشمیر منشیات کے زہرنا ک پنجوں میں پھنس گیا- غازی سہیل خان
جموں کشمیر میں منشیات وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ منشیات کے سبب ہزاروں کشمیری گھر اور خاندان برباد ہو گئے ہیں۔ نوجوان نشہ ٓاور ادویات، شراب اور دیگر چیزوںکو خریدنے کے لئے اپنے گھروں سے قیمتی سامان کوڑوں کے دام بیچ کے اپنی زندگی برباد کرنے سے ہچکچاتے نہیں۔ جن کو گھروں میں بیچنے…
-
ڈرامہ، طرب و المیہ اور مجرا کلچر – اقدس ہاشمی
بہت عرصہ پہلے جب ڈرامہ کے باب میں ارسطو کی "بوطیقا” پڑھی تو ڈرامے کے دو عناصر "المیہ اور طربیہ” اور انکے سماجی اطلاق و عملداری کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ دوستو ڈرامہ یونان و روم کے ایوانوں سے ہوتے ہوۓ مشرق میں ناٹک و سوانگ کے رنگ رچاتے ہوۓ جدیدیت میں داخل ہوتا ہے…