یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 12 اسلام…


یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون)
قسط نمبر 12

اسلام آباد کی اس اونچی عمارت کے آخری فلور پے بنے آفس میں اشعر اپنے سیکرٹری ارشاد کا منتظر تھا ارشاد نے اسے کال پے بتا دیا تھا کے وہ زین کو ڈھونڈ نہیں سکا اس لئے اشعر نے ارشاد کو اپنے آفس میں بلایا تاکے اسے جاب سے فارغ کر سکے اسے ایسے کاہل ملازم ہرگز پسند نہیں تھی چند منٹ بعد ہی دروازے پے دستک ہوئی ….
کم ان…
ارشاد شرمندگی سے کمرے میں داخل ہوا….
یہاں یہاں سائن کرو ..اشعر نے انگلی سے اپنی میز پے رکھی فائل کے ایک صفحے کی طرف اشارہ کیا ارشاد نے قلم اٹھایا اور سائن کرنے ہی لگا تھا کے اشعر کے موبائل کی گھنٹی بجی اور کاشف کا نام سکرین پے ابھرا….
ہیلو…..
ہیلو سر زین سر گھر آ گئے ہیں…
واٹ…اشعر نے حیرت سے کہا کب آیا وہ….
کل رات ہی آئے تھے….
وہ کل رات آیا تھا اور تم مجھے اب بتا رہے ہو اشعر نے خفگی سے کہا….
سر مجھے بھی آج صبح ہی پتا چلا کے وہ رات کو گھر میں آئے ہیں…
اوہ گوڈ واٹ آر یو سیئنگ وہ رات میں گھر آیا اور صبح تمھیں پتا چلا کیا کہ رہے ہو میری سمجھ میں ایک لفظ نہیں آ رہا ..اشعر نے الجھتے ہوئے کہا جواب میں زین نے اسے پوری بات بتا دی کے کس طرح وہ رات میں چوری چھپے اپنے گھر میں داخل ہوا اور اسے یہ بھی بتا دیا کے وہ دو دن سے لندن میں تھا …
اوہ گوڈ یہ زین بھی نہ ..اشعر سر پکڑ کر بیٹھ گیا…
سر آپ حماد اور نعمان سر کو بتا دیں گے یا میں انہیں بتا دوں ….
نہیں تم رہنے دو میں بتا دوں گا ویسے سنو یہ صاحب زادے ہیں کہاں….
وہ یونیورسٹی گئے ہوئے ہیں…
ہوں ٹھیک ہے …اشعر نے کال کٹ کر دی….
کیا ہوا سر …اس کے سامنے بیٹھے ارشاد نے اسے تفشیشى نگاہوں سے دیکھا اس نے ابھی تک استعفیٰ کے پپرز پے سائن نہیں کیا تھا……
زین مل گیا ہے…..
اوہ پھر میری جاب….
تمہاری جاب اب تمھیں کبھی نہیں مل سکتی ارشاد میں ایسے سست ملازم کو اپنا سیکرٹری نہیں رکھ سکتا اس لئے فورا سائن کرو اور دفع ہو جاؤ یہاں سے…اشعر نے خشک لہجے میں کہا تو ارشاد نے جلدی سے سائن کیا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا اسکے جانے کے بعد اشعر نے انٹركام اٹھایا …
ہیلو منیر ڈرائیور سے کہو میری کار نکالے..
اوکے سر….
اشعر نے انٹركام رکھا ، کرسی سے اٹھا اور اسٹینڈ پے لٹکا اپنا کوٹ اٹھا کر باہر نکل گیا…..
حماد بخاری اپنے آفس میں بیٹھے اپنے كيمپئين مینیجر فرخ سے کچھ ڈسکس کر رہے تھے تو اشعر دروازہ کھول کر انکے آفس میں داخل ہوا …
ہم بعد میں بات کرتے ہیں اور سنو کسی کے ہاتھ دو فریش جوس بھجوا دو…
یس سر…یہ کہ کر فرخ انکے کمرے سے نکل گیا…..
کیا بات ہے اشعر تم کافی جلدی میں اور پریشان لگ رہے ہو….
جی ڈیڈ مجھے یہاں سے ایک میٹنگ میں جانا ہے اس لئے جلدی میں ہوں اور آپکا دوسرا اندازہ غلط ہے میں پریشان نہیں ہوں خوش ہوں…
ٹھیک ہے پھر مجھے بھی وہ خوشخبری سنا دو…..
زین گھر واپس آ گیا ہے…
کیا کب آیا وہ؟ اور یہاں آیا ہے یا نیو یارک میں …حماد بخاری نے ایک ساتھ دو سوال کر دئے..
کل رات ہی آیا ہے وہ اور یہاں نہیں نیو یارک میں آیا ہے …
اوہ اچھا چلو شکر ہے آ تو گیا ویسے کہاں تھا وہ….
ڈیڈ جناب پچھلے دو دن سے لندن میں تھے کل رات ہی آئے ہیں اور آپ کو یہ جان کر زیادہ حیرت ہو گی کے وہ کس پراسرار طریقے سے آئے ہیں….
پراسرار طریقہ؟.حماد بخاری نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور جب اشعر نے انہیں پوری بات بتائی تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے …
افففففف پہلی بار دیکھا ہے کے کوئی اپنے ہی گھر والوں کو پریشان کرنے کیلئے دو دن تک غائب رہے اور رات میں ہی اپنے گھر میں چوروں کی طرح داخل ہو اگر اس وقت کوئی زین کو دیکھ لیتا تو یقیناً اسے چور ہی خیال کرتا ….
بلکل اچھا ڈیڈ میں چلتا ہوں میٹنگ کیلئے لیٹ ہو جاؤں گا ….
اوکے بائے…..
اشعر آفس سے باہر نکل گیا حماد بخاری ابھی تک اپنا سر پکڑے بیٹھے تھے ….
زین نے اپنا موبائل کھولا تو حماد بخاری کا میسج آیا ہوا تھا….
السلام و علیکم….
وعلیکم السلام…
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ..
ہوں کریں…
یہاں نہیں کرنی تم پاکستان آ جاؤ…
ڈیڈ میں ابھی تین دن پہلے ہی پاکستان سے آیا ہوں آپ مجھسے تب بات نہیں کر سکتے تھے …
تین دن پہلے تم نے وہ کارنامہ بھی تو سر انجام نہیں دیا تھا….
کونسا کارنامہ؟..ساتھ میں ایک حیرت بھرا اموجی بھی سینڈ کیا. ..
تم پاکستان آؤ پھر بتاتا ہوں كيپٹن شہروز میرے پرائیویٹ جیٹ میں تمھیں لینے آ رہے ہیں تیار ہو جاؤ….
ڈیڈ میں کوئی پاگل نہیں ہوں جو ابھی پاکستان سے آیا ہوں اور پھر پاکستان چلا جاؤں…
مجھے پتا ہے بیٹا تم پاگل نہیں ہو لیکن تم نے ہم سب کو پاگل کر رکھا ہے اس کے حل کیلئے ہی تمھیں پاکستان بلا رہا ہوں کیپٹن شہروز یہاں سے نکل چکے ہیں چند گھنٹوں بعد ہی وہ نیو یارک پہنچ جائیں گے تمھیں زیادہ تیاری کرنے کی ضرورت نہیں کیونکے تم رکنے نہیں آ رہے ہو میں آج رات ہی تمھیں واپس نیو یارک چھڑوا دوں گا.
بائے ڈیڈ ..
میں کسی بھی قسم کا انکار نہیں سننا چاہتا کوئی بہانہ نہیں چلے گا ….
ٹھیک ہے ڈیڈ آپ آنے دیں اپنے کیپٹن کو خوامخواہ خوار ہو گا کیونکے میں تو اسے گھر میں ملوں گا ہی نہیں….
اگر تم گھر سے کہیں بھی گئے نہ تو سوچ لینا مجھسے برا کوئی نہیں ہو گا…
ٹھیک ہے میں نہیں جاؤں گا پر آپ مجھے آج رات ہی واپس نیو یارک بھجوا دیں گے ناں…
ہاں ہاں بھجوا دوں گا…
اوکے….
یہ نئی مصیبت ہے اب پھر پاکستان جاؤ .وہ بڑبڑایا…
رات گہری ہوتی جا رہی تھی اور اس وقت اسلام آباد کے اس ایریا میں دن کا سماں تھا اس ہی ایریا میں بنا وہ شہر کا بڑا اور مہنگا ہوٹل بھی رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہا تھا یہ اشعر کا اپنا ہوٹل تھا جس میں کچھ سالوں پہلے زین عاصم ہاشمی کی پارٹی میں آیا تھا اس ہی ہوٹل کے ایک بڑے کمرے میں ایک کاؤچ پر حماد بخاری بیٹھے تھے ایک پے اشعر ایک پے نعمان اور ایک پے زین وہ چاروں دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے اور ان کی نظریں زین کی طرف اٹھی ہوئی تھیں …
(تفشیشى ٹیم تیار ہے ) زین دل ہی دل میں مسکرایا ….
کب تک ہمیں پریشان کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے تم نے ..نعمان نے بات شروع کی..زین نے حیرت سے نعمان کو دیکھا…
اب میں نے کیا کیا ہے …
یہ پوچھو کیا نہیں کیا ہے…اشعر کا خون کھول رہا تھا….
یہ بعد میں پوچھوں گا پہلے آپ یہ بتائیں میں نے کیا کیا ہے…نعمان ویسے ہی زین پے خار کھائے بیٹھا تھا زین کا یہ جملہ سن کر اسے مزید غصّہ آیا لیکن پھر بھی وہ ضبط کر گیا…..
ہم یہاں مذاق کرنے کیلئے نہیں بیٹھے ہیں….حماد بخاری نے خشک لہجے میں کہا.
(اوہو تینوں تفشیشى افسران باری باری سوال کر رہے ہیں)…
ڈیڈ میں بھی یہاں سنجیدہ بات کرنے ہی آیا ہوں میرے پاس اتنا بیکار وقت نہیں ہے کے نیو یارک سے یہاں آ کر ٹائم ضائع کروں اس ہی لئے آپ سے پوچھ رہا ہوں کے میں نے کیا کیا ہے جو آپ نے مجھے یہاں بلایا ؟…
تم بغیر بتائے لندن چلے گئے تمھیں پتا ہے تمہارے چکر میں ہم کتنے خوار ہوئے ہیں ہر ملک ہر شہر تمھیں ڈھونڈا اور……
جھوٹ نہیں بھائی زین نے نعمان کی بات درمیان میں کاٹ دی …
کیا جھوٹ بولا ہے میں نے نعمان نے کاٹ کھانے والے انداز میں پوچھا…
آپ نے کہا کے مجھے ہر شہر ہر ملک ڈھونڈا جبکے ایسا ہوا ہی نہیں آپ نے مجھے ہر ملک ہر شہر میں نہیں ڈھونڈا اگر آپ نے ہر شہر میں ڈھونڈا ہوتا تو یقیناً آپ لندن میں بھی مجھے ڈھونڈتے لیکن آپ نے مجھے لندن میں نہیں ڈھونڈا اس کے علاوہ بھی مجھے آپ نے بہت سے دوسرے شہروں اور ملکوں میں نہیں ڈھونڈا ہو گا کوئی دو دن میں پوری دنیا نہیں چھان سکتا اس سے واضح ہوا کے آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان تمام ممالک کے نام بھی بتا سکتا ہوں جہاں آپ نے مجھے نہیں ڈھونڈا لکھ کے دوں نام….
تینوں چپ ہو گئے وہ واقعی ایسا لڑکا تھا جو پل بھر میں کسی کو بھی خاموش کر دینے کی صلاحیت رکھتا تھا ابھی بھی یہی ہوا تھا زین نے تینوں کو چپ کروا دیا تھا کچھ دیر تک تو اس ہی طرح خاموشی چھائی رہی پھر حماد بولے….
پھر بھی تمھیں بتا کر جانا چاہیے تھا ہم سب کتنے پریشان ہو گئے تھے…
اوہ کم آن ڈیڈ میں دو دن کا بچہ نہیں ہوں جو جہاں جاؤں بتا کر جاؤں…
لیکن تم اتنے بڑے بھی نہیں ہو کے جہاں چاہا چلے گئے جب چاہا گھر والوں کو پریشان کر لیا کچھ خیال کرو ہم تمہاری فیملی ہیں زین…اشعر نے نرمی سے کہا زین نے مسکرا کر اشعر کی آنکھوں میں دیکھا اور اس سے زیادہ نرمی سے کہا…
آپ لوگ میری فیملی ہیں اس ہی لئے آپ لوگوں کا اتنا خیال کر لیتا ہوں ورنہ اگر آپ میری فیملی نہ ہوں تو میں آپ لوگوں کا اتنا دماغ خراب کر کے رکھوں کے آپ شیطان سے زیادہ مجھسے پناہ مانگیں وہ رکا ایک لمبا سانس لیا ،آپ لوگوں کی بات ہو گئی ہو تو میں جاؤں…
نہیں ٹہرو مزید بات کرنی ہے حماد نے سختی سے کہا تو وہ بیٹھ گیا.
کہیں..
تم پھر ڈرگز لے رہے ہو نہ حماد نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا…
کون الو کا پٹھا یہ کہ رہا ہے…زین نے منہ بنایا ….
تمھیں اس الو کے پٹھے سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے جتنا تم سے پوچھا ہے صرف اس ہی کا جواب دو…..
ہاں میں ڈرگز لے رہا ہوں اینڈ پلیز اب آپ مجھے لمبا سا لیکچر دینے مت بیٹھ جائے گا کے اسکے کیا کا نقصانات ہیں یہ کتنی جان لیوا ہے یہ لینے سے میں کتنے خطرے میں ہوں یہ میری صحت کو کتنا متاثر کر رہی ہے مجھے سب پتا ہے ڈیڈ کے یہ میرے لئے کتنی نقصان دہ ہے لیکن آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں ڈرگز لے رہا ہوں زندگی میری تباہ ہو رہی ہے نقصان میرا ہو رہا ہے پھر آپ لوگ کیوں خوامخواہ کباب میں ہڈی بن رہے ہیں کیوں میرے پرسنل معاملات میں ٹانگ اڑا رہے ہیں میری مرضی میں جو کروں آپ کیوں مجھے روک رہے ہیں آئندہ پلیز میرے کسی پرسنل معاملے میں دخل اندازی مت کیجئے گا اور ڈیڈ اپنے کیپٹن کو کہیں کے وہ ابھی اور اس ہی وقت مجھے نیو یارک چھوڑ کر آئے…اتنی لمبی تقریر کرنے کے بعد وہ اٹھا اور تیزی سے کمرے کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا حماد بخاری اس ہی طرح شل بیٹھے تھے نعمان اور اشعر بھی شاکڈ تھے وہ انہیں اچھی خاصی سنا کر چلا گیا تھا آج انہوں نے پہلی دفع زین کا یہ روپ دیکھا تھا اتنا غصّے بھرا روپ…
نیو یارک کے ساحلی علاقے کے قریب بنے اس بڑے پارک میں وہ دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے کھڑا تھا یک لخت اسکی نظر پارک میں ہی کچھ فاصلے پے بنے ایک کیفے پے پڑی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا کیفے میں آیا رش کافی زیادہ تھا اس نے اپنی کافی لی اور کپ ہاتھ میں پکڑے وہ کیفے سے باہر نکلا اور پھر پارک کی اس ہی جگہ پے آ کر کھڑا ہو گیا جہاں وہ کچھ دیر پہلے کھڑا تھا یہاں سے کچھ ہی دور سمندر تھا ،سمندر کی اونچی اونچی اٹھتی لہريں یہاں سے بھی نظر آ رہی تھیں سمندر کی طرف سے سرد ہوائیں آ رہی تھیں اور وہ ہاتھ میں گرما گرم کافی کا کپ پکڑے کھڑا کچھ سوچ رہا تھا کھڑے کھڑے جب اسکی ٹانگیں درد کرنے لگیں تو وہ ایک بینچ پر بیٹھ گیا کافی کا ایک گھونٹ بھرا ایک جملہ فورا اس کے ذہن میں آیا .
(آپ کیوں میرے پرسنل معاملات میں ٹانگ اڑا رہے ہیں)…
اتنے پرسنل تو نہیں ہیں نہ میرے معاملات انہیں میری فکر ہے اس ہی لئے مجھے ان سب چیزوں سے روکتے ہیں لیکن میرے اس ایک جملے نے آج مجھے ان سے پرایا کر دیا اجنبی کر دیا اوہ نہیں نہیں ایک نہیں بلکے دو جملے ایک اور جملہ بھی تو میں نے ایسا ہی کہا تھا کیا تھا وہ ..زین نے خود کلامی کی کافی کا دوسرا گھونٹ بھرا اس ہی وقت اس کے ذہن میں بجلی کی تیزی سے دوسرا جملہ آیا
(آئندہ پلیز میرے کسی پرسنل معاملے میں دخل اندازی مت کیجئے گا )..
دخل اندازی…وہ رکا ایک لمبی سانس لی اس ایک ورڈ نے آج مجھے میرے ڈیڈ سے جدا کر دیا جدا ہی تو ہوئے ہیں ہم وہ مجھسے بہت ناراض ہوں گے شاید مجھسے کبھی بات ہی نہ کریں اور اشعر بھائی اور نعمان بھائی وہ لوگ بھی تو میرا بھلا ہی چاہتے ہیں میرے بھائی ہیں مجھے غلط کاموں سے روکنا چاہتے ہیں لیکن میں نے انہیں بھی بہت ذلیل کیا بہت بے عزت کیا میں نے انہیں میں بہت برا ہوں ..ایک احساس ندامت تھا جو اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا کسی دیمک کی طرح ..
لیکن لیکن یہ سب میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا میں کیا کروں میں بے بس ہوں ڈیڈ ، بھائی کچھ بھی میرے بس میں نہیں ہے یہ غصّہ میں جان بوجھ کر نہیں کرتا مجھے نہیں اچھا لگتا آپ لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنا آپکو ذلیل کرنا وہ بےبسی سے کہ رہا تھا مجھے اب بہت غصّہ آتا ہے اور کہتے ہیں کے زیادہ غصّہ بھی پاگل پن کی نشانی ہے سہی کہتے ہیں اب واقعی میں پاگل ہو رہا ہوں .لیکن کیوں ؟ آخر کیوں؟….
اس کیوں کا جواب زین کے پاس نہیں تھا سمندر کی جانب سے آتی ٹھنڈی ہواؤں نے اس کی کافی ٹھنڈی کر دی تھی ….
اففففففف یہ ہوائیں میری کافی ٹھنڈی کر کے رکھ دی اگر میرے بس میں ہوتا نہ تو انہیں ابھی اچھی خاصی سزا دیتا اوہ نو پھر غصّہ میں پاگل ہوں کیا میں ہواؤں کو سزا دے سکتا ہوں واقعی میں پاگل ہوں..یہ کہ کر وہ دل ہی دل میں کوئی فیصلہ کئے اس بینچ سے اٹھ گیا.
رات کے کھانے کے بعد زین نے کاشف کو ایک کپ کافی بنا کر اسکے کمرے میں لانے کو کہا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کے اسے کاشف سے کچھ بات کرنی ہے کاشف کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی کہیں زین کو وہی بات تو نہیں پتا چل گئی لیکن جب وہ زین کے کمرے میں گیا تو وہ اپنی اسٹڈی ٹیبل پے بلکل پرسکون بیٹھا نظر کا چشمہ
لگائے ایک کتاب پڑھ رہا تھا (وہ پڑھنے کیلئے نظر کا چشمہ استمعال کرتا تھا اسکی قریب کی نظر ویک تھی )..کاشف آیا تو اسنے چشمہ اتار کر اسٹڈی ٹیبل پے رکھا ، بک بند کی ، کپ کاشف کے ہاتھ سے لیا اور اسے بھی اسٹڈی ٹیبل پے رکھ دیا کاشف کو اپنے سامنے رکھی کرسی پے بیٹھنے کو کہا کاشف خاموشی سے کرسی پے بیٹھ گیا….
سنو مجھے تم سے ایک سلسلے میں مشورہ کرنا ہے…زین کا جملہ سن کر کاشف کا سانس بحال ہوا کے چلو اسے وہ بات ابھی تک پتا نہیں چلا….
جی کیسا مشورہ ؟.کاشف نے سوالیہ نگاہوں سے زین کو دیکھا….
مجھسے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے اور اب میں اس غلطی کو سدھارنا چاہتا ہوں جس کے لئے کچھ لوگوں سے معافی منگنی پڑے گی لیکن مجھے معافی مانگنے میں شرم آ رہی ہے….
کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کے آپ سے کیا غلطی ہوئی ہے اور آپ کس سے معافی مانگنا چاہتے ہیں اگر پوری بات پتا ہو گی تو میں زیادہ بہتر مشورہ دے سکوں گا…..
ہوں.زین نے اسے پوری بات بتا دی زین کی بات سن کر اس نے ایک لمبا سانس لیا.
آپ نے اپنے والد سے بدتمیزی کی انہیں ہرٹ کیا اپنے دونوں بھائیوں سے بدتمیزی کی انہیں بھی ہرٹ کیا ابھی بھی آپکو معافی مانگتے ہوئے شرم آ رہی ہے آپکو تو چاہیے کے فورا ان سے معافی مانگیں انکا کتنا دل دکھا ہو گا اس بات سے جب انسان کسی شخص کا دل دکھاتا ہے اسے ناراض کرتا ہے تو اللّه بھی اس شخص سے روٹھ جاتا ہے…زین غور سے اسکی بات سن رہا تھا بغیر کسی غصّے کے ، بغیر کسی چڑچڑاہٹ کے صرف اور صرف صبر و تحمل سے….
معافی مانگنے میں کسی بھی قسم کی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہو جاتا بلکے اگلے بندے کی نظر میں آپکی عزت و اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور آپ تو پھر ان سے معافی مانگ رہے ہیں جو آپ کے بڑے ہیں وہ آپکو فورا معاف کر دیں گے بلکے انہیں خوشی بھی ہو گی کے آپکو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اس لئے آپکو چاہیے کے زیادہ دیر نہیں کریں بلکے فورا جا کر معافی مانگ لیں وہ لوگ آپکو معاف کر دیں گے بہت بڑا دل ہے انکا آپ سے بہت پیار کرتے ہیں وہ….
ٹھیک ہے پھر میں ابھی ان تینوں کو سوری کا ایک ایک میسج بھیج دیتا ہوں….
نہیں نہیں آپ میسج نہیں کریں…کاشف نے اسے روکا …
پھر؟..
آپ پاکستان جا کر ان سے معافی مانگیں …
نہیں یار اس میں تو بہت ٹائم لگ جائے گا ….
اونہوں کوئی ٹائم نہیں لگے گا کل ہفتہ ہے ناں میں آپکی دوپہر کی فلائٹ کی ٹکٹ کروا دیتا ہوں آپ یونیورسٹی سے آ کر فورا پاکستان کیلئے روانہ ہو جائے گا اتوار کو آپ کے یونی کی بھی چھٹی ہوتی ہے اس لئے آپ کل رات وہیں رک جائے گا دو دن اپنی فیملی کے ساتھ گزار کر اتوار کی شام واپس آ جائیے گا….کاشف نے گویا پورا ٹائم ٹیبل بنا کر اسکے سامنے پیش کیا….
ٹھیک ہے یاد سے میری کل دوپہر کی فلائٹ کی ٹکٹ کروا دینا …
ہوں کروا دوں گا اب میں جاؤں ..کاشف نے جمائی لی…
ٹھیک ہے جاؤ اور سنو ڈیڈ کے جاسوس انہیں پہلے سے مت بتا دینا کے میں آ رہا ہوں میں انہیں سرپرائز دوں گا…کاشف زین کی بات پے ہنسا .
ٹھیک ہے نہیں بتاؤں گا
یہ کہ کر وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا اسے بہت خوشی ہوئی تھی آج زین نے بغیر کسی غصّے بغیر کسی چڑچڑاہٹ کے صرف اور صرف پیار سے بات کی تھی .
اسلام آباد کے اس محل نما گھر میں بنے بڑے رقبے پے پھلے سبزہ زار میں حماد بخاری قیمتی کرسیوں پے ٹانگ پے ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے انکا کیمپئن مینیجر فرخ انکے ساتھ کچھ فائلز ڈسکس کر رہا تھا تو دور داخلی دروازے سے وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا اور حماد کی طرف بڑھنے لگا فرخ نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں اس طرف متوجہ کیا انہوں نے فائل سے نگاہ اٹھا کر دیکھا انکے چہرے پے حیرت ، ناگوارى ، ناراضگی اور غصّے کے ملے جلے تاثرات تھے بہت جلد زین انکے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ملازم نے ایک کرسی لا کر رکھی وہ کرسی کو ذرا سا پیچھے کر کے بیٹھا اسکی وہ مسکراہٹ ابھی بھی ویسے ہی قائم تھی حماد کا بھی زین کو دیکھ کر جو غصّہ آیا تھا وہ اب کم ہونے لگا حماد نے خوشگوار لہجے میں پہلا جملہ بولا…..
کہو کیسے آئے پاکستان اور وہ بھی بغیر بتائے تم ایک بار کال کر دیتے میں ڈرائیور کو تمھیں پک کرنے کیلئے ائیرپورٹ بھیج دیتا …
زین کے چہرے پے شرمندگی در آئی وہ اس کی کتنی فکر کرتے تھے اور ایک زین تھا زین نے اپنی ندامت چھپائی .
جی ڈیڈ بس کچھ ضروری کام تھا اس ہی لئے آنا پڑا….
ہوں وہ فرخ کی طرف مڑے کسی ملازم سے کافی بنوا کر لاؤ اور گھر میں بتا دو کے زین آیا ہے وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا سبزہ زار پے تیز تیز قدم اٹھاتا بنگلے کے اندرونی حصّے میں چلا گیا….
ڈیڈ کیا آپ اپنے ملازموں کا یہ جمگھٹہ کچھ دیر کیلئے یہاں سے ہٹا سکتے ہیں مجھے آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے….
شيور..حماد بخاری نے ملازموں کو اشارہ کیا تو سب وہاں سے ہٹ گئے….
کہو.زین نے کوٹ کی اندرونی جیب میں سے ایک کارڈ نکالا اور حماد بخاری کی طرف بڑھا دیا حماد بخاری نے اپنی حیرت چھپاتے ہوئے وہ کارڈ زین کے ہاتھ سے لیا جس میں سب سے پہلے سوری لکھا تھا انہوں نے مزید پڑھا آگے اس سوری کی وجہ ، اپنے اس رات کے روئے پے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا ….
چلو اچھا ہے تمھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا میرے لئے یہ خوشی کی بات ہے میں نے بھی تمھیں معاف کیا مگر آئندہ دھیان رکھنا اس قسم کی کوئی حرکت نہ ہو اور نہ ہی میں کبھی یہ سنوں کے تم نے اشعر اور نعمان سے بدتمیزی کی ہے تمہاری اس رات والی بدتمیزی سے اشعر اور نعمان دونوں ہی ہرٹ ہوئے تھے اور اشعر تو کچھ زیادہ ہی تمھیں پتا ہے وہ تم سے کتنا پیار کرتا ہے اس لئے تم ان دونوں سے بھی معافی مانگ لینا….
جی ڈیڈ میں نے ان دونوں کیلئے بھی سوری کارڈ بنا کر رکھے ہیں اس نے جیب سے دو کارڈ نکال کر انکے سامنے لہرائے….
گڈ اب تم گھر میں جا کر مل لو میں بھی اپنے کچھ کام نپٹا لوں تب تک….
شيور…وہ وہاں سے اٹھ گیا اسے پتا تھا اسکا باپ ملک کے مصروف ترین لوگوں میں سے ایک تھا…..
آج زین بہت خوش تھا اسکے معافی مانگنے پے ان سب کو خوشی ہوئی تھی اور انہوں نے اسے معاف بھی کر دیا تھا رفتہ رفتہ وہ بدلتا جا رہا تھا اس میں نئی نئی تبدیلیاں آ رہی تھیں پہلے وہ کسی کے سامنے جھکتا نہیں تھا لیکن اب اس نے جھکنا سکھ لیا تھا معافی مانگنا سیکھ لیا تھا وہ سمجھ گیا تھا کے دنیا میں ان رشتوں کی کتنی قیمت ہے کتنی اہمیت رکھتے ہیں یہ ہماری زندگی میں اب اتنے سالوں بعد اسے احساس ہو رہا تھا اب انکی قدر معلوم ہو رہی تھی ….
زین اپنے اپارٹمنٹ میں لگے پودوں کو پانی دے رہا تھا دفعتا بیل بجی کاشف گھر میں کسی کام میں مصروف تھا اس ہی لئے وہ دروازہ کھولنے چلا گیا اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کوئی اجنبی لڑکی کھڑی تھی نہیں اجنبی نہیں تھی شاید زین نے اسے ایک دو بار دیکھا تھا لیکن اسے یاد نہیں آ رہا تھا کے کہاں دیکھا تھا….
آپ کون؟.اس نے ذہن پے زور دیتے ہوئے کہا….
بھول گئے مجھے وہ چہکى…
زین نے منہ بنایا "میں نے آپکو یاد ہی کب کیا تھا جو بھولوں گا .”…
نہیں میرا مطلب ہے کے مجھے نہیں پہچانا آپ نے…
نہیں…..
حیرت کی بات ہے…
آپ خود بتا دیں کے آپ کون ہیں ورنہ میں دروازہ بند کر رہا ہوں .زین نے کہا ابھی وہ دروازہ بند کرنے ہی لگا تھا کے وہ تیزی سے بولی ” سینڈرا”…
کون سینڈرا؟.جہاں تک مجھے یاد ہے میری سینڈرا نام کی کوئی دوست نہیں ..
ارے آپ تو بڑے ہی بھلكڑ ہیں آپکو میری شکل بھی یاد نہیں …
نہیں ہے یاد اب آپ پلیز یہاں سے جائیں میرا دماغ خراب مت کریں …
ارے میں آپکی فیس بک کی دوست سینڈرا ہوں یاد نہیں ہے ایک دفع ہماری بات بھی ہوئی تھی فیس بک پے….
اوہ ہاں ہاں اب یاد آ گیا….
تو کیا آپ مجھے اندر بھی نہیں بلائیں گے ..سینڈرا نے مسکرا کر کہا…..
ارے نہیں نہیں ضرور آئیں زین نے اسکے اندر آنے کیلئے جگہ چھوڑی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی.

(جاری ہے)