یاد کا روگ مَت لگا پیارے
عہدِ ماضی کو بُھول جا پیارے
جی بہلتا نہیں تَصور سے
تُو کبھی سامنے بھی آ پیارے
نام کے رہ گئے ہیں دُنیا میں
دوست اَحباب اَقربا پیارے
یہ بھی اک طرزِ غَم گُساری ہے
تُو میرا حوصلہ بڑھا پیارے
شِیشۂ دِل کو توڑنے والے
تُو نے اچھا نہیں کیا پیارے
جذبۂ شوق مر نہ جائے کہیں
احتیاطاً ہی رُوٹھ جا پیارے
پیڑ سے گِر کے زرد پَتوں نے
بھر دیا فَرش کا خَلا پیارے
تیرا غَم بھی غَمِ زمانہ بھی
غم بھی خالِص نہیں رہا پیارے
آس کے دِیپ تو جَلا نُصرتؔ
شام کا وقت ہو چلا پیارے
(نُصرت صِدیقی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی