ہم نے پرندوں کے مسکن تباہ کر دیے ہیں ۔ اسی لیے آج وہ ہمارے پختہ گھروں کی دیواروں…


ہم نے پرندوں کے مسکن تباہ کر دیے ہیں ۔ اسی لیے آج وہ ہمارے پختہ گھروں کی دیواروں سے ٹکراتے پھرتے ہیں۔ درخت، جنگل، بیلے، کچے گھر اور مٹی کی دیواریں سب رفتہ رفتہ ختم کر دی گئیں تو پرندوں کے پاس آبادیوں کا رخ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔ جہاں انہیں دانہ یا پانی مل جائے، وہ وہیں کسی مصنوعی ماحول میں بھی اپنا ٹھکانہ بنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

یہ شاید فاختہ کا انڈہ ہے، جسے کوئی محفوظ گوشہ نہ ملا تو اس نے میری رہائش گاہ کی بالائی منزل—جو اس وقت خالی پڑی ہے—کی کھڑکی کو ہی اپنا مسکن سمجھ لیا۔ پہلے پہل تو سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں۔ بچے اسے اٹھا کر اپنے پاس رکھنے کے خواہش مند تھے ، مگر میں نے اسے وہیں رہنے دیا۔ بہت سے معاملات فطرت ہم سے بہتر جانتی ہے؛ ہم جب ہم غیر ضروری مداخلت کرتے ہیں تو پورا نظام بگڑ جاتا ہے۔

میرا گھر چونکہ کشادہ ہے، درخت اور جھاڑیاں بھی خاصی ہیں، جنگلی گھاس جگہ جگہ اگی ہوئی ہے، اس لیے یہاں ایسے پرندے بھی دکھائی دیتے ہیں جو اب گاؤں دیہات کے گھروں میں بھی کم ہی نظر آتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرغیوں اور بطخوں کے لیے دانہ اکثر مختلف جگہوں پر بکھرا رہتا ہے اور میں پانی کے برتن بھی کئی مقامات پر رکھتا ہوں۔ دانہ اور پانی پا کر پرندے خوش ہو جاتے ہیں، درختوں پر بیٹھ کر چہچہاتے ہیں، ان کی آوازیں سن کر مجھے لگتا ہے جیسے کسی بھولی بسری دنیا کی جھلک واپس آ گئی ہو۔

گاؤں کی یادوں میں سے ایک خوبصورت یاد پرندوں کی یہی چہچہاہٹ تھی۔ چھوٹے بڑے پرندے کبھی دیوار کی منڈیر پر، کبھی کسی پیڑ کی شاخ پر، اور کبھی ٹی وی کے انٹینے پر بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے عام طوطوں کے چھوٹے چھوٹے غول فضا میں ٹیں ٹیں کرتے اڑتے اور بسا اوقات گھروں کی چھتوں پر بھی اتر آتے تھے۔ مگر آہ! اب تو زمانہ بیت گیا کہ کھلی فضا میں کوئی طوطا نظر آیا ہو ۔۔۔۔

پاکستان میں آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ، کنکریٹ کے جنگل ، درختوں کی بے دریغ کٹائی اور زرعی و شہری زمینوں پر تیزی سے قبضہ، پرندوں سے ان کا قدرتی گھر چھین چکا ہے۔ دوسری طرف شوقیہ اور تجارتی شکار نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے ۔ کچھ پرندے پنجرے کی زینت بنے، کچھ گولیوں کا نشانہ، اور کچھ آہستہ آہستہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔

کھیتوں میں بے تحاشا سپرے اور کیمیکلز کے استعمال نے فطرت کے توازن کو مزید بگاڑ دیا۔ کیڑے تو مارے گئے، مگر ان کے ساتھ وہ پرندے بھی ختم ہوتے چلے گئے جو انہی کیڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ زہریلے اسپرے دانے اور پانی کے ذریعے پرندوں کے جسم میں پہنچے، ان کی نسلیں کمزور ہوئیں، انڈے ضائع ہوئے، اور کئی نسلیں خاموشی سے ناپید ہوتی چلی گئیں۔

میرے گھر کی کھڑکی میں فاختہ کا یہ انڈہ ، دراصل فطرت کی خاموش فریاد ہے—کہ ابھی وقت ہے ۔۔۔۔ اگر ہم فطرت سے جنگ ختم کر کے مصالحت اختیار کر لیں تو پرندوں کے مسکن واپس ہو سکتے ہیں ۔ فطرت کی دل آویز نغمگی واپس ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔


Source