ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا بنانے والے آ…


ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا
بنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے
۔۔۔۔۔۔
مشکل ہے روک آہ دل داغ دار کی
کہتے ہیں سو سنار کی اور اک لہار کی
۔۔۔۔۔۔
سو سو جواب ہیں تری اک ایک بات کے
انجام پر نظر ہے، جو بنتا ہوں لاجواب
۔۔۔۔۔۔۔
میری ہر اک بات قانونِ محبت ہے، مگر
اے صفی! میں شاعری کرنے سے جھوٹا ہوگیا!
۔۔۔۔۔۔
صفی اورنگ آبادی کا یوم پیدائش
Feb 12, 1893

صفی اورنگ آبادی کا اصل نام بہاؤالدین صدیقی تھا وہ اورنگ آباد کےجون بازار کے علاقے میں 12 فروری، 1893 میں پیدا ہوئے مگر بعد میں ان کا نام ” بہبود” علی صدیقی تبدیل کر دیا گیا.سید بشیر احمد نے لکھا ہے” ان کا یوم پیدائش پیر تھا ۔انہوں نے اسی مناسبت سے استفادہ کرتے اپنے مسلک کا اظہار اس طرح کیا ؎
کون بے پیرا کہے گا اے صفیؔ
روز پیدائش میرا پیر ہے”
صفی کے والد حکیم منیر الدین اورنگ آبادی آصف سادس کے دور حکومت میں بیوی اور دو چھوٹے بچوں پر مشتمل مختصر خاندان کے ساتھ اورنگ آباد سے نقل مکانی کرکے حیدرآباد تشریف لائے ۔ ان کو حیدرآباد کچھ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے حیدرآباد ہی کو وطن مالوف بنالیا ۔ اپنے والدین کے ساتھ جب صفی حیدرآباد پہنچے تو ان کی عمر سات برس تھی ۔ ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ نظامیہ میں ہوئی جہاں قیام و طعام کا مفت انتظام تھا۔ افسوس کہ ان کی تعلیم ادھوری رہی ۔صفی نے تعلیم کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا اور ملازمت شروع کردی . اس کی بعد انھوں نے کئی ملازمتیں اختیار کیں۔ لیکن ان کا ملازمت میں دل نہ لگتا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ملازمت بہت بڑی ” غلامی” ھوتی ھے ۔ پھر انھوں کبھی نوکری نہیں کی۔ پھران کے شاگرد میں اضافہ ھونا شروع ھو گیا اور ان کا زیادہ تر وقت شاگردوں کے اصلاح کلام میں گذرتا تھا۔ . صفی اورنگ آبادی کا یہ کمال تھا کہ وہ طبلے کی تھاپ پر ردیف اور قافیہ تلاش کرتے تھے۔ وہ تا حیات مجرد رھے۔ وہ مرد درویش تھے ۔ طبعیت میں سچے اور سادہ تھے ۔ صفی اورنگ آبادی داغ دہلوی کے بعد اردو شاعری کے ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے محاوارات اور ضرب الامثال نئی اظہاری حسیت سے شاعری میں برتا۔ ان کا شاعرانہ اظہار فطری تھا۔
صفی اورنگ آبادی کا انتقال حیدرآباد دکن میں 21 مارچ، 1954 کو ھوا۔