ہمارے موضع کے ایک بزرگ ہیں جو آج کے دور میں بھی بینک میں پیسے رکھنے کے خلاف ہیں …


ہمارے موضع کے ایک بزرگ ہیں جو آج کے دور میں بھی بینک میں پیسے رکھنے کے خلاف ہیں کہتے ہیں پیسہ وہی ہوتا ہے جو پاس ہو بینک والوں کو پیسہ دینا کنواں میں پیسہ پھینکنے کے برابر ہے ۔ ۔آج سے کوئی آڑھائی تین سال پہلے بزرگ نے پانچ لاکھ دس ہزار کے جانور سیل کئے پیسے نقد لیکر گھر بتایا کہ پیسےسال ڈیڑھ بعد لینے ہیں بیوپاری سے۔۔۔بزرگ نے پیسے بینک میں رکھنے یا دیگر ضروریات پوری کرنے کے بجائے پیسے بھینسوں والے تھلے پر آخبار میں ڈال کر رات کے کسی پہر بغیر شاپر کے زمین کھود کر جلدی جلدی رکھ دئیے تانکہ کسی تو پتہ نا چلے۔ اللہ کے فضل سے صبح بارش شروع ہوگئئ اور بارش کافی زیادہ ہوئی تو بھینسوں ادھر ادھر باندھنا پڑا سب جگہ برابر ہوگئی بزرگ صاحب بھی جگہ بھول گئے کہ پیسے کس جگہ رکھے تھے لیکن بزرگ نے اس کارنامے سےکسی کو ذرہ بھی اگاہ نا کیا۔جیسے جیسے ٹائم گزرتا گیا تو بزرگ خاموش رہنے لگا کسی سے بات نا کرنا اگر کوئی بات کرے تو غصے ہوجانا ،اکیلے ہوا سے باتیں کرنا دیوار پکڑ کر چلنا صبح ساجھرے جاگ کر اس بھینسوں والے تھلے پر جانا ،ایویں ڈھکاں پر ہاتھ رکھ کے ادھر ادھر دیکھنا۔ اسی کشمکش میں دو سال گزار گئے اس کے بیٹے نے فورس کیا ابا حضور کوئی تے سانو وی دسو ہویا کئی ہے اپ کافی تبدیل ہیں کوئی وجہ تو ہے کیا وہ بیوپاری اپکو بھینسوں کے پیسے نہیں دے رہا، تو بزرگ نے ڈھیلے لہجے میں کہہ پتر (کسی) اٹھا لے آ ائے تھلا پٹنڑاں پمدا ہے ، ونگار ڈال کر اک کنال کے تھلے کی کھودائی کئی گئی تو پیسے مل گئے لیکن پیسے زیادہ تر گل چکے تھے تھور وغیرہ لگ چکی تھی اس کے بیٹے نے اک نوٹ کو سورج کی طرف کرکے تار دیکھتے ہوئے نوٹ کو پھوک ماری تو وہ نوٹ بخارات بن کر آڑ گیا۔ بزرگ سمیت پیسوں کو نیشنل بینک لایا گیا منیجر نے پیسے دیکھے تو کہنے لگا کہ یہ کاغذ کے نوٹ کم اور ملائی بوٹی زیادہ بنی ہوئی ہے بڑی مشکل سے منت سماجت کرکے پانچ ہزار والے 17 نوٹ بینک والوں نے تبدیل کئے اور باقیوں کے لئے معذرت کئی ۔۔۔ بزرگ نے بینک نکلتے ہوئے باندھی ہوئی چادر کو سیٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ پتروں کوئی نہیں خیر ہے ائے وی لاکھ ہے۔۔۔۔😐



Source