گمشدہ عورت

تحریر: آصف اکبر

——————–

اس کی گمشدگی کا کبھی کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا۔ نہ تھانے میں رپورٹ لکھائی گئی نہ اخبار میں اشتہار دیا گیا۔ یہاں تک کہ کسی نے مسجد سے اعلان کروانے کی بھی زحمت نہیں کی۔ بس گم ہو گئی تو ہو گئی۔

ایسا نہیں تھا کہ اس کے کوئی اپنے نہیں تھے۔ مسئلہ یہی تھا کہ اپنے اتنے زیادہ تھے کہ کسی کی کمی محسوس کرنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ وہ بس ایک عام سی لڑکی تھی، جو گزرتے وقت کے ساتھ عورت بن گئی اور پھر ضعیفہ بن کر مر گئی۔ لیکن اس پورے عمل کے دوران وہ گمشدہ ہی رہی۔ کب گم ہوئی یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی لیکن  شائد پیدا ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد گم ہوگئی تھی یا ممکن ہے پیدائش کے ساتھ ہی۔

ایک بڑے کنبے میں پیدا ہونے کے فائدے شائد کم ہیں اور نقصان زیادہ۔ بیسیوں میں ایک ہونا اور نہ ہونا برابر ہی ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بڑے شہر میں پیدا ہونے کے فائدوں میں زندگی کی بنیادی سہولتیں تو شامل ہوتی ہیں مگر پہچانے نہ  جانے کا قلق لاشعوری طور پر ساری عمر لاحق رہتا ہے۔ آبادی کے اعتبار سے بڑے ملک کا شہری ہونا بھی اسی طرح  عام آدمی کی عمومیت کو بڑھا دیتا ہے۔ وہ بھی ایک بڑے کنبے میں پیدا ہوئی تھی جہاں انسانوں کو مرد اور عورت کے افقی خانوں میں  رکھا جاتا تھا۔ مرد اوپر کے خانے میں اور عورت  نچلے خانے میں،   عورت جب تک زمین پر رہے رہے، اس کی قسمت، اور جب بھی آسانی ہو زیرِ زمین جا بسے۔ ہاں بالائی خانے میں رہنے والوں کے لیے آسمان ہی حد ہوتی تھی۔ لیکن ان کی خواہش یہی ہوتی تھی کہ آسمان کو بھی پاؤں کے نیچے رکھ لیا جائے۔

پیدائش کے بعد اس کو یقیناً کوئی نام دیا گیا ہوگا۔ کسی دادا نے، تایا نے یا باپ نے نام تو رکھا ہوگا، کیوں کہ لوگ پوچھتے ہیں کیا نام رکھا۔  میرا خیال ہے کہ اس کا نام   رضیہ رکھا گیا تھا، مگر وہ نام یاد شائد کسی کو بھی نہیں رہا۔ گھر کے لوگ تو شروع میں گڑیا اور منّی جیسے نام سے پکارتے رہے مگر جب اس سے  بھی چھوٹا کوئی آ گیا تو اس سے یہ نام بھی چھن گئے اور اس کی انفرادیت مٹ گئی۔   بس کہیں سے اس کی ذات کے ساتھ "رجّو ”  اٹک گیا۔ اس کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ اور کسی کو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا  تھاکیونکہ وہ کسی ایک گھر کی لڑکی تو نہیں تھی۔ وہ تو اس دور کے ہر گھر میں پیدا ہوئی تھی اور ہر جگہ اس کو کوئی نہ کوئی ایسا ہی نام دیا گیا تھا۔ بس اس نے یہ سیکھ لیا تھا کہ جب کوئی یہ لفظ کہے تو وہ  سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہنے والے کی خدمت میں پہنچ جائے اور جو اس سے کہا جائے وہ کام پورا کرے۔ خاص کر اگر کسی مرد یا لڑکے نے کہا ہو، کیوں کہ اس کے تجربے نے بتا دیا تھا کہ وہ ایک کم درجے کی مخلوق ہے، جسے کسی کام سے انکار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

جب وہ شعور کی دنیا میں داخل ہوئی تو اسے پتا چلا کہ وہ تو اپنے باپ کی کئی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ہے لیکن اس کی اپنی کوئی پہچان نہیں ہے۔  باپ کے ملنے والوں سے تو اس کو کبھی ملنے ہی نہیں دیا گیا۔ ماں کے پاس جب کوئی آتا  تو اس کا تعارف بس اتنا ہوتا تھا کہ یہ میری منجھلی بیٹی ہے۔   بھائیوں کے ملنے والوں کے لیے  وہ ان کی بہن ہوتی تھی، ایک گمنام وجود۔ اس کو اس کے نام سے پکارنے والی صرف چند سہیلیاں تھیں جو بچپن میں اس کے پاس آتی تھیں، لیکن کم کم۔ یا پھر کبھی کبھار وہ کسی کے پاس چلی جاتی تھی۔ مگر لڑکپن ختم ہوتے ہوتے سب بیاہ کر چلی گئیں اور وہ خود بھی۔

اس کے شوہر کا نام حاکم تھا۔حاکم شیر دل۔ نکاح کے وقت کسی نے اس سے رسمی طور پر پوچھا ضرور تھا کہ رجّو بی بی تمہارا نکاح حاکم شیر دل سے کیا جارہا  ہے تمہیں قبول ہے، مگر شور و غل میں اس کی ہاں یا نہ کو کوئی اہمیّت نہیں دی گئی۔  "نا” کہنے کی تو اس میں ہمّت ویسے بھی نہیں تھی، اور ضرورت بھی کوئی نہیں تھی۔ گائے کا خریدار کون ہے گائے کو اس سے کیا مطلب۔ اور اس  گھر میں نا کہنے کا مطلب رسوائی، اذیّت اور جبر کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔

اس کے شوہر نے شائد ہی کبھی اس کو نام سے پکارا ہو۔ پتا نہیں اس کو اس کا نام معلوم بھی تھا یا نہیں۔ اگر کبھی معلوم بھی رہا ہوگا تو یقیناً وہ جلد ہی بھول گیا ہوگا۔ سسرال والوں کے لیے وہ بہو اور بھابی تھی اور اپنے میکے والوں کے لیے تو وہ ماضی کا ایک حصّہ تھی۔ سال میں ایک دو بار کبھی باپ اس کو لے جاتا تو لے جاتا۔ جب وہاں جاتی تو بیٹی بن جاتی۔

جلد ہی وہ ماں بن گئی۔ تلے اوپر کے پانچ بچّے۔ سب اس کو ماں کہتے تھے۔ چوبیس گھنٹے اس کے کانوں میں ماں ماں کی آواز گونجتی۔ شروع میں یہ آواز یں اس کو بہت سرور دیتی تھیں، لیکن جب بچّے بڑے ہوتے گئے تو اسے ان آوازوں سے خوف آنے لگا۔ ہر آواز ایک نئی پریشانی کا اعلان ہوتی تھی۔ اب ان آوازوں  میں سے پیار کم ہوتا جا رہا تھا اور کام بڑھ رہا تھا۔  جب بھی کسی بیٹے  یا بیٹی کی  آواز آتی وہ الجھ سی جاتی۔ اسے لگتا تھا کہ  اس کا وجود کہیں کھو گیا ہے۔ اب وہ  صرف اور صرف  ایک ماں  بن کر رہ گئی تھی۔ چوبیس گھنٹے بچوں کے لیے۔ گھر اب کسی حد تک الگ تھا اور شوہر بھی زیادہ تر شہر کے گھر  میں رہنے لگا تھا جہاں  اس کے دل لگانے کا بہت سامان تھا۔ اس گھر میں آتا تو بھی بس رسمی خیریت پوچھ کر  دوستوں میں چلا جاتا۔

وقت گزرتا گیا۔ بیٹوں  بیٹیوں کی شادیاں ہو گئیں۔ اس کی ہڈیوں میں جب تک دم رہا وہ گھر کا کام کرتی رہی۔ پھر گھر میں پوتے پوتیوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اب وہ دادی تھی۔ پوتے پوتیاں کبھی اس سے پیار کرتے اور کبھی اس کو ایسا محسوس ہونے لگتا جیسے وہ اب ایک فالتو سامان بن چکی ہے۔ شوہر کا انتقال ہوا اور ساتھ ہی جو کچھ جائداد تھی وہ بیٹوں نے تقسیم کر لی۔ گھروں کا بھی بٹوارا ہوا۔ چھوٹے بیٹے کو شاید اس سے زیادہ محبت  تھی یا شاید اس کے بچے ابھی زیادہ چھوٹے تھے۔ وہ ماں کو گھر لے آیا مگر اب یہاں اس کی حیثیت ثانوی تھی۔ کبھی بچّے سنبھالتی کبھی ایک کونے میں پڑی رہتی۔ محلے میں سب لوگ اسے سردار کی دادی کے نام سے پکارتے۔ اب یہی اس کی شناخت تھی۔

پھر وہ وقت بھی آیا جس سے کسی کو مفر نہیں۔ وہ مر بھی گئی اور دفن بھی کر دی گئی۔ سوئم اور چالیسویں کے بعد اس کی قبر کو بیٹوں نے پختہ کروا دیا۔ آخر چودھریوں کے گھر کی عورت تھی۔ پختہ قبر پر ایک کتبہ بھی لگایا گیا  لیکن یہاں بھی اس کو شناخت نہیں مل سکی۔

کتبے پر لکھا ہوا تھا  —

 زوجہ حاکم شیر دل — تاریخَ وفات 31 دسمبر 1999

وہ عورت جو گم ہو گئی وہ مرتے دم تک گم ہی رہی اور مرنے کے بعد گمنام۔