گاڈ فادر سلسلے کے چوتھے ناول ” اومیرتا ” سے انتخاب ۔ مافیا ڈان اپرل اور اس کی بیٹی نکول کے درمیان سزائے موت کے مجرموں کو لے کر دل چسپ مکالمہ ۔ بیٹی ایک مشہور وکیل اور سزائے موت کے سخت خلاف ہے جب کہ باپ مشہور مافیا ڈان ہے جس کے ایک اشارے پر خون کی ندیاں بہ جاتی ہے ۔
ناول: اومیرتا
مصنف: ماریو پوژو
مترجم: یعقوب یاور
پبلشر: سٹی بک پوائنٹ
انتخاب: نعمان
خاندانی عشائیہ میں باپ اور بیٹی اس طرح بحث کرتے، جیسے دو بڑی بلیاں خطرناک طریقے سے لڑ رہی ہوں۔ ان کے درمیان تنازعہ کا بڑا سبب یہ تھا کہ نکول انسانی زندگی کے تقدس پر یقین رکھتی تھی ۔ اس کے نقطہ نظر سے سزائے موت غیر انسانی تھی اور اس نے اس کے خلاف چلنے والی مہم کی قیادت بھی کی تھی۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ڈان کہتا اور نکول مشتعل ہو جاتی۔ کیوں کہ وہ یقین رکھتی تھی کہ سزاے موت انسانیت کو تباہ کر دے گی ۔ اگر قتل کو کسی بھی شکل میں روا رکھا گیا تو اس کا انجام دوسرا قتل ہوگا۔ اس سے نہ تو ارتقا کی صورت پیدا ہوگی اور نہ یہ تہذیب کی کوئی خدمت انجام دے سکے گی۔ اس کے اس خیال کی وجہ سے اس کے بھائی ولیرس اور اس کے درمیان اکثر بحث ہوتی۔ اس کا خیال تھا کہ قتل ہمیشہ انسان کو بربادی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس نے اپنے ایک مقدمے میں ایک مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی اور ڈان نے اس کی اس جیت کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام بھی کیا تھا لیکن وہ بہر حال اس سے متفق نہیں تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے اپنے سب سے اچھے دوست کو قتل کیا تھا اور اس کی نئی نویلی دلھن کی عصمت دری کی تھی۔ اپنے فِرار کے دوران اس نے گیس اسٹیشن کے دو ملازموں کو موت کے گھاٹ اتار کر وہاں کی نقدی لوٹ لی تھی۔ اس نے ایک دس سالہ بچی کی عصمت دری کی اور اسے قتل کر دیا تھا۔ اپنے فرار میں، اس نے گیس اسٹیشن کے دو ملازمین کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جب کہ اس نے انھیں لوٹ لیا تھا۔ نیکول نے اس کا مقدمہ جیت لیا تھا اور اسے یقین دلایا تھا کہ اب اسے پھانسی نہیں دی جائے گی اور وہ اپنی باقی بچی ہوئی زندگی جیل میں گزارے گا۔
اگلا خاندانی عشائیہ ایک اور مقدمہ جیتنے پر نکول کے اعزاز میں ایک جشن کی شکل میں تھا۔ اس بار اس نے ذاتی خطرے میں قانون کے ایک مشکل اصول کی حمایت کی تھی اور اسے غیر اخلاقی ثابت کر کے بار ایسوسی ایشن کے سامنے پیش کیا تھا اور اسے بری کر دیا گیا تھا۔ اس وقت اس کا جوش انتہا پر تھا۔
ڈان نے خوش گوار ماحول میں اس معاملے میں غیر معمولی دل چسپی کا اظہار کیا تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کو اس کی کامیابی پر مبارک باد دی ۔
اس کیس میں اس نے تیس سال کی عمر کے ایک شخص کا دفاع کیا تھا، جس نے ایک بارہ سالہ لڑکی کی عِصمت دری کرنے کے بعد قتل کر دیا اور اس کے بعد اس کی لاش کو چھپا دیا تھا تا کہ پولیس کو اس کا پتہ نہ چل سکے ۔ اس کے خلاف مضبوط واقعاتی ثبوت تھے لیکن جج اسے سزائے موت دینے سے گریزاں رہے۔ اور مقتولہ کے اہل خانہ اس کی لاش کی تلاش میں ہی پریشان اور مصروف رہے ۔ قاتل نے اپنے وکیل کی حیثیت سے نکول کو بتایا کہ اس نے لاش کہاں دفن کی ہے اور ایک معاہدے پر ان سے بات چیت کرنے کا اختیار دیا کہ وہ اسے پھانسی کے بجائے عمر قید پر زور دیں ۔ تاہم جب نکول نے اس سلسلے میں گفت گو کا آغاز کیا تو اس سے کہا گیا کہ اگر اس نے فوری طور پر لاش کا پتہ نہیں بتایا تو وہ خود اس پر مقدمہ چلائیں گے ۔ اس کا خیال تھا کہ اٹارنی اور موکل کے درمیان راز داری کی حفاظت کرنا معاشرے کے لیے اَہم ہے ۔ اس لیے اس نے انھیں بتانے سے انکار کر دیا اور ایک مُمتا ز جج نے اس کے اس عمل کو صحیح قرار دیا۔
وکیل نے متاثرہ کے والدین سے مشاورت کے بعد آخر کار اس معاہدے لر رِضامندی ظاہر کر دی تھی ۔ قاتل نے انھیں بتایا کہ اس نے لاش کے ٹکڑے کر دیے تھے، اسے برف سے بھرے ایک ڈبے میں رکھا تھا، اور اسے نیو جرسی کی ایک قریبی دلدل میں دفن کر دیا تھا۔ اور اس طرح انھیں لاش مل گئی اور قاتل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی لیکن پھر بار ایسوسی ایشن نے اسے غیر اخلاقی قرار دے کر اس پر احتجاج کیا لیکن بالآخر جیت
نکول کی ہی ہوئی تھی۔ ڈان نے نکول سے کہا۔ اور تم سمجھتی ہو کہ تم نے ان کے ساتھ باوقار
سلوک کیا ہے؟
اس پر نکول کو غصہ آ گیا۔ یہاں سوال اصولوں کا تھا۔ حکومت کو کسی بھی صورت میں وکیل اور اس کے موکل کے حقوق کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ چاہے معاملہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو“۔
اور تم نے متاثرہ کے والدین کے بارے میں غور نہیں کیا ؟ ڈان نے پوچھا ۔
” یقیناً کیا ہے” نیکول نے غصے میں کہا۔ لیکن میں اسے قانون کے بنیادی اصول پر کیسے اثر انداز ہونے دے سکتی ہوں؟ میں نے ان کےلیے دکھ جھیلے لیکن بد قسمتی سے مستقبل میں قانون کے تحفظ کے لیے ایسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔
اور پھر بھی بار ایسوسی ایشن نے تمھیں مقدمے میں الجھا دیا؟ ڈان بولا۔
”اپنا چہرہ بچانے کے لیے نیکول نے کہا ۔ یہ ایک سیاسی اِقدام تھا۔ عام لوگ جو قانونی نظام کی پیچیدگیاں نہیں جانتے، قانون کے ان اصولوں کو قبول نہیں کر پاتے اور ہنگامہ برپا کر دیتے ہیں لیکن میرے مقدمے نے انھیں سبق سکھا دیا۔ اس کے لیے کچھ بڑے ججوں کو عوام سے مخاطَب ہو کر وضاحت دینی پڑی کہ میں نے معلومات فراہم کرنے سے کیوں انکار کیا۔
” بہت خوب۔ ڈان نے کہا ” قانون ہمیشہ حیران کن ہوتا ہے لیکن وکیل اسے دوسرے نظریے سے دیکھتے ہیں“۔
نکول جانتی تھی کہ اس کے والد اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس نے سخت لہجے میں کہا ” قانون کے بغیر کوئی بھی تہذیب زندہ نہیں ہوسکتی۔
یہ سچ ہے ” ڈان نے اپنی بیٹی کو مطمئن کرنے کے لیے کہا ۔ لیکن یہ انصاف پر مبنی نہیں لگتا کہ کوئی قاتل اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو جائے“۔
آپ نے سچ کہا نیکول نے کہا لیکن ہمارا نظامِ قانون لین دین اور صلح صفائی پر مبنی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہر مجرم کو اس کے حق سے کم سزا ملتی ہے۔ لیکن ایک طرح سے یہ اچھی بات ہے۔ معافی انسانیت کی خوبی ہے اور طویل مدت میں انسانیت کے لیے مفید بھی۔ حالاں کہ بظاہر جو لوگ ہمارے معاشرے کے خلاف جرائم کا اِرتکاب کرتے ہیں، وہ سزا سے بچ جاتے ہیں“۔
یہ ڈان کا ایک اچھا مزاحیہ طنز تھا ۔ لیکن یہ بتاؤ“۔ اس نے نکول سے کہا۔ "کیا تم نے کبھی اس شخص کو اس کے پاگل پن کے سبب بے قصور مانا ہے؟ بہر حال اس نے اپنی آزاد مرضی کا استعمال کیا ۔ نکول نے ڈھٹائی سے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھا ” مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ اس کی مرضی تھی۔ اس نے کہا۔ وہ اپنے حالات سے مجبور تھا۔ اس کے لیے اس کے اپنے مسخ شدہ تاثرات، اس کا جینیاتی ورثہ ، اس کی حیاتیاتی تشکیل اس کے اس فیصلے کے ذمہ دار تھے ۔ ہاں وہ پاگل تھا، مجھے اس بات سے اتفاق ہے“۔ ڈان نے ایک لمحے اس کی بات پر غور کیا ۔ تو مجھے بتاؤ“۔ اس نے کہا۔ اگر وہ تمھارے سامنے اپنے جھوٹے ہونے کا اعتراف کر لیتا تو کیا تم پھر بھی اس
کی جان بچانے کی کوشش کرتی ؟
’ہاں‘ نیکول نے کہا۔ ” میرے لیے ہر زندگی مقدس ہے ۔ ریاست کو کسی کی جان لینے کا کوئی حق نہیں ہے“۔
ڈان طنزیہ انداز میں مسکرایا۔ یہ تمھارے اندر موجزن اطالوی خون ہے جو بول رہا ہے۔ کیا تم جانتی ہو کہ جدید اٹلی میں بھی سزائے موت نہیں دی گئی۔ وہاں ہر انسانی جان کی قدر کی جاتی ہے ۔ اس کے بیٹے اور استور نے گردن جھکا لی تھی لیکن نکول کے چہرے سے اس کی بے خوفی کا اظہار ہو رہا تھا۔
اس نے سخت لہجے میں جواب دیا۔ ریاست کے لیے انصاف کی چادر اوڑھ کر بے سوچے سمجھے قتل کا اِرتکاب کرنا وحشیانہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ سب لوگ میری اس بات سے متفق ہوں گے نکول نے ہنستے ہوئے کہا۔ پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے وہ بولی ” ہمارے پاس ایک متبادل ہے۔ مجرم کو رہائی یا پیرول کی امید کے بغیر زندگی بھر کے لیے جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ پھر وہ معاشرے کےیے بہر حال خطرہ نہیں ہوتا“۔
ڈان نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔ ایک وقت میں ایک بات۔ اس نے کہا۔ ”میں ریاست کو انسانی جان لینے کی منظوری دیتا ہوں۔ اور جہاں تک تمھاری زندگی بھر کے لیے بغیر پیرول یا رہائی کے مجرم کو جیل میں ڈالنے کی بات ہے ، یہ ایک مذاق ہے ۔ بیس سال گزرتے ہیں اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کچھ نئے شواہد مل گئے ہیں اور مجرم اب ایک اچھا انسان بن چکا ہے، لوگوں کو اس سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور اسے رہا کر دیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان تمام معاملات میں مرنے والے اور اس کے خاندان کے بارے میں بالکل نہیں سوچا جاتا۔ کیا اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ نکول کی تیوریوں پر بل پڑ گئے ۔ ڈیڈ، میں نے یہ نہیں کہا کہ مقتول اور اس کا خاندان اہم نہیں ہے لیکن قاتل کی جان لینے سے مقتول کی زندگی واپس تو نہیں مل جائے گی“۔ ڈان نے توقف کیا اور شراب کا ایک گھونٹ لیا۔ جب اس نے میز کے ارد گرد بیٹھے اپنے دونوں بیٹوں اور استور کو دیکھا میں تمھیں حقیقت بتاتا ہوں۔ اس نے نکول سے کہا۔ ” تم کہتی ہو کہ انسانی زندگی مقدس ہے۔ اس کا کیا ثبوت ہے؟ تاریخ میں اس کی تقدیس کا کب لحاظ رکھا گیا ہے؟ جنگوں میں لاکھوں لوگوں کو مار دیا جاتا ہے اور اس عمل کو حکومت اور مذہب دونوں کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ سیاسی تنازعات میں ہزاروں دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ دولت و امارت کو ہمیشہ انسانی جان کی حرمت سے بالا تر رکھا جاتا ہے۔ اور جب تم اپنے موکل کو رخصت کرتے ہوے معاف کر دیتی ہو تو خود ایک انسانی جان کے زیاں کی ذمہ دار ہو جاتی ہو۔ نکول کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی ” میں نے اسے معاف کبھی نہیں کیا ۔ اس نے کہا "میرے خیال میں اس نے جو عمل کیا ہے وہ وحشیانہ ہے”۔ اب ڈان کے لہجے میں خلوص کی جھلک پیدا ہو گئی تھی۔ اس نے کہا۔ مقتول، جو کسی نہ کسی کو پیارا تھا زمین کے نیچے چلا گیا۔ وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ اب کوئی اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے گا کوئی اس کی آواز نہیں سن سکے گا۔ ہم اس کے جسم کو کبھی ہاتھ نہیں لگا سکیں گے۔ وہ تاریکی میں ہماری دنیا سے اوجھل ہے“۔ سارے لوگ ڈان کی طرف متوجہ تھے ۔ اس نے شراب کا ایک اور گھونٹ لیا۔ اب میری پیاری نکول، میری بات سنو تمھارے موکل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ ساری زندگی سلاخوں کے پیچھے رہے گا لیکن ہر روز وہ چڑھتے سورج کو دیکھ سکے گا۔ وہ گرم کھانا کھائے گا، وہ موسیقی کا لطف لے گا، اس کی رگوں میں خون دوڑتا رہے گا اور اسے اپنی زندگی سے پیار ہوگا۔ وہ کتابیں پڑھ سکتا ہے، وہ میز کرسیاں بنانے کے لیے بڑھئی کا کام سیکھ سکتا ہے مختصراً وہ رہے گا اور یہ نا انصافی ہے”۔۔ نکول پر عزم تھی اور جھکنے کو تیار نہیں تھی ۔ ڈیڈ ، جب ہم جانوروں کو پالتو بناتے ہیں تو انھیں کچا گوشت کھانے نہیں دیتے۔ حالاں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں۔ جتنا زیادہ ہم لوگوں کو قتل کریں گے قتل اتنا ہی آسان ہوتا جائے گا۔ کیا یہ بات آپ کو سمجھ میں نہیں آتی ؟ جب ڈان نے کوئی جواب نہیں دیا تو اس نے پوچھا۔ اور آپ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا انصاف ہے اور کیا نا انصافی ۔ دونوں کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جاسکتی ہے؟ یہ بات حالاں کہ دفاع کے طور پر کہی گئی تھی لیکن اس کے پسِ پشت برسوں سے باپ پر اس کی بے اعتباری کا عکس شامل تھا۔
اس گستاخی پر سب کو ڈان کے غصہ ہو جانے کی توقع تھی لیکن وہ مزاح کے موڈ میں تھا۔ اس نے کہا ” میں نے بھی اپنی کمزوری کے لمحات گزارے ہیں لیکن میں نے کبھی بچے کو اپنے والدین کا فیصلہ نہیں کرنے دیا۔ بچے کچھ بھی سوچتے ہیں۔ انھیں ہماری تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔ میں بھی اپنے آپ کو ایک باپ کی طرح ملامت سے بالا تر سمجھتا ہوں۔ میں نے تین بچوں کی پرورش کی ہے جو معاشرے کے ستون میں ، باصلاحیت اور کامیاب ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی مجھے ملامت کر سکتا ہے؟ نکول کا غصہ ہوا ہو گیا۔ وہ بولی ۔ ایک باپ کی حیثیت سے کوئی آپ کو ملامت نہیں کر سکتا لیکن آپ نے کچھ چھوڑ دیا ہے۔ مظلوم وہ ہیں جو پھانسی پر لٹکائے جاتے ہیں اور امیر لوگ اس آخری سزا سے بچ جاتے ہیں۔
ڈان نے بڑی سنجیدگی سے نکول کی طرف دیکھا ۔ تو پھر تم قوانین کو بدلنے کے لیے کیوں نہیں لڑتیں تا کہ امیروں کو بھی غریبوں کی طرح لٹکایا جاسکے۔
نکول نے کہا۔ انسانیت کی سب سے بڑی خوبی رحم ہے ۔ ایک روشن خیال معاشرہ کسی انسان کو پھانسی نہیں دے سکتا۔ اسے بس اتنی ہی سزا دی جانی چاہیے، جتنے کی عقل اور انصاف اجازت دیتا ہو۔
بس اسی لمحے ڈان نے اپنا مزاح کو موڈ کھو دیا ۔ تمھارے پاس ایسے خیالات کہاں سے آئے میں نکول؟ اس نے پوچھا۔ یہ خود پسندی اور بزدلی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ یہ سب توہین آمیز بھی ہے۔ خدا سے زیادہ بے رحم دل کون ہو سکتا ہے؟ وہ کسی کو معاف نہیں کرتا۔ وہ اپنی دنیا سے رنج وغم کو دور نہیں کرتا۔ یہ خدا کا فرض ہے کہ وہ ضروری رحمت سے زیادہ نہ دکھائے ۔ تو آپ کون ہوتے ہیں، اتنا رحم کرنے والے ۔ یہ ایک قسم کا تکبر ہے۔ کیا تمھیں لگتا ہے کہ اگر تم اتنی مقدس ہو تو ایک بہتر دنیا بنا سکتی ہو؟ یاد رکھو، اولیا کے کان میں صرف اور صرف اسی وقت سرگوشی کر سکتے ہیں جب انھوں نے اپنی عبادت سے ایسا کرنے کا حق حاصل کر لیا ہو۔ نہیں یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ساتھیوں کی مدد کریں ۔ بڑے جرائم سے چشم پوشی کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم اس دنیا کو شیطان کے حوالے کر دیں گے“۔
ڈان کے اس رد عمل نے نکول کو خاموش کر دیا۔ لیکن وہ غصے میں دکھائی دے رہی تھی۔ ولیریس اور مارک انتونیو مسکرا رہے تھے ۔ استور اپنا سر اس طرح
جھکاتے ہوے تھا جیسے کوئی دعا مانگ رہا ہو۔
بالا خرنکول بولی ” ڈیڈ ، ایک خوش اخلاق انسان کے طور پر آپ بہت غصے والے ہیں۔ یقیناً آپ کی کوئی دوسری مثال نہیں ملے گی۔
میز پر ایک طویل خاموشی طاری ہوگئی۔ ہر ایک ڈان کے ساتھ اپنے تعلقات کی یادوں میں کھو گیا تھا۔ نیکول نے کبھی بھی ان کہانیوں پر یقین نہیں کیا تھا جو اس نے اپنے والد کے بارے میں سنی تھیں۔ پھر بھی اسے خوف تھا کہ یہ سچ ہوسکتی ہیں۔
لیکن نکول کی دلیل بازی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ۔ رحم کے معیار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس نے اپنے والد سے پوچھا۔ ” کیا آپ جانتے ہیں کہ عیسائی مبلغ اپنی تبلیغ میں کس بات پر زور دیتے ہیں؟
ڈان نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا۔ رحم ایک برائی ہے، یہ ان کا ہتھیار ہے جن کے پاس طاقت نہیں ہوتی۔ رحم کرنے والے مظلوم کے ساتھ نا قابل معافی جرم کرتے ہیں۔
” کیا آپ نہیں چاہتے کہ لوگ رحم کریں۔ نکول نے پوچھا۔
” کبھی نہیں”۔ ڈان نے کہا میں ایسی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ اگر وقت آیا تو میں اپنے تمام گناہوں کی سزا کو خوشی سے قبول کروں گا“۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3872210066342831

Comments
One response to “گاڈ فادر سلسلے کے چوتھے ناول ” اومیرتا ” سے انتخاب ۔ مافیا ڈان اپرل اور اس کی بی…”
Bhut khoob