کیا صائمہ بدل گئی ہے…” یا "میں اُس زمانے کو ڈھو…


💥 کیا صائمہ بدل گئی ہے…” یا
"میں اُس زمانے کو ڈھونڈ رہا ہوں جس میں ہم دونوں رہتے تھے؟” 💔🥺

شادی کے اٹھارہ برس بعد عمران کو پہلی بار احساس ہوا کہ انسان کبھی کبھی کسی شخص کو نہیں، اس کے ساتھ گزرا ہوا زمانہ یاد کرتا ہے۔

یہ احساس اسے اس وقت ہوا جب صائمہ نے کھانا کھاتے ہوئے اچانک کہا،

"نمک ذرا پاس کر دیں۔”

آواز وہی تھی۔

لہجہ بھی وہی۔

صرف عمران کے اندر کسی نے آہستہ سے سرگوشی کی،

"یہ وہ عورت نہیں جس کا میں انتظار کیا کرتا تھا۔”

اور اگلے ہی لمحے اسے اپنے اس خیال پر شرم آنے لگی۔

—

صائمہ بدلی نہیں تھی۔

اس کے ماتھے پر وہی ننھا سا تل تھا، جسے عمران شادی کے بعد کئی دن تک انگلی سے چھوتا رہتا تھا۔

ہنستے ہوئے اب بھی اس کی دائیں آنکھ پہلے ذرا سی بند ہوتی تھی۔

چائے اب بھی بہت میٹھی پیتی تھی۔

رات کو سوتے وقت اب بھی تکیہ سیدھا کرتی تھی۔

پھر آخر وہ کس چیز کو یاد کر رہا تھا؟

یہ سوال کئی دن اس کے ساتھ دفتر گیا، مسجد گیا، بازار گیا…

مگر جواب نہ ملا۔

—

ایک جمعے کو وہ پرانے شہر سے گزر رہا تھا۔

وہی گلی…

جہاں کبھی وہ شام کے وقت موٹر سائیکل آہستہ چلاتا تھا، صرف اس لیے کہ صائمہ اپنی چھت پر کپڑے اتارنے آتی تھی۔

وہ رکا۔

چھت اب بھی تھی۔

مگر اس پر کسی اور کے کپڑے سوکھ رہے تھے۔

اسے پہلی بار محسوس ہوا…

ہم جگہوں پر واپس جا سکتے ہیں۔

وقت پر نہیں۔

—

اس رات اس نے صائمہ سے پوچھا،

"یاد ہے… تم کبھی چھت پر گھنٹوں کھڑی رہتی تھیں؟”

صائمہ نے ہنس کر کہا،

"ہاں… اس وقت فرصت بھی تو تھی۔”

بس اتنا ہی۔

عمران نے دیکھا…

اسے وہ شام یاد تھی۔

مگر اس شام کی دھڑکن یاد نہیں تھی۔

—

زندگی نے ان سے کوئی بہت بڑا ظلم نہیں کیا تھا۔

بس وہی کیا تھا جو زندگی سب کے ساتھ کرتی ہے۔

قسطیں۔

فیسیں۔

دوائیاں۔

مہمان۔

رشتے دار۔

دفتر۔

تھکن۔

اور ان سب کے درمیان، انسان آہستہ آہستہ اپنی حیرت کھو دیتا ہے۔

—

ایک دن صائمہ نے پرانی الماری صاف کرتے ہوئے ایک دوپٹہ نکالا۔

سرخ رنگ کا۔

اس نے بے اختیار کہا،

"ارے… یہ ابھی تک رکھا ہوا ہے؟”

عمران چونک گیا۔

یہ وہی دوپٹہ تھا جو شادی کے تیسرے مہینے تیز ہوا میں اڑ کر مسجد کی دیوار پر جا گرا تھا، اور وہ بچوں کی طرح دیوار پھلانگ کر لینے گیا تھا۔

واپس آیا تو صائمہ اتنا ہنسی تھی کہ آنکھوں سے پانی نکل آیا تھا۔

آج…

وہ دوپٹہ ہاتھ میں تھا۔

ہنسی کہیں نہیں تھی۔

صائمہ نے اسے تہہ کیا اور عام کپڑوں کے ساتھ رکھ دیا۔

جیسے وہ بھی ایک کپڑا ہی تھا۔

صرف عمران جانتا تھا…

وہ دوپٹہ کپڑا نہیں تھا۔

وہ ایک عمر تھی۔

—

اس رات عمران دیر تک جاگتا رہا۔

پھر پہلی بار اس نے خود سے ایک سوال کیا۔

"کیا صائمہ بدل گئی ہے…”

یا

"میں اُس زمانے کو ڈھونڈ رہا ہوں جس میں ہم دونوں رہتے تھے؟”

سوال نے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی۔

اسے اچانک احساس ہوا…

اگر آج والی صائمہ کو اٹھا کر اٹھارہ سال پہلے رکھ دیا جائے…

تو وہ بھی ویسی ہی ہنسے گی، ویسی ہی ضد کرے گی، ویسے ہی خواب دیکھے گی۔

بدلا ہوا انسان نہیں تھا۔

بدلا ہوا وقت تھا۔

اور وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

—

اگلی شام صائمہ باورچی خانے میں آٹا گوندھ رہی تھی۔

ہاتھ آٹے سے سفید تھے۔

بال بار بار چہرے پر آ رہے تھے۔

عمران نے برسوں بعد آگے بڑھ کر اس کے کان کے پیچھے بال سرکائے۔

صائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"کیا ہوا؟”

عمران مسکرایا۔

"کچھ نہیں…”

پھر تھوڑی دیر بعد بولا،

"میں تمہیں نہیں یاد کر رہا تھا۔”

صائمہ رک گئی۔

"پھر؟”

اس نے آہستہ سے کہا،

"میں اُس لڑکے کو یاد کر رہا تھا… جو تمہارے ساتھ ہوتا تھا۔”

صائمہ کے ہاتھ وہیں رک گئے۔

کافی دیر بعد اس نے آٹے والے ہاتھ دھوئے، آ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی اور دھیرے سے بولی،

"میں بھی…”

"میں بھی اُس لڑکی کو ڈھونڈتی رہتی ہوں… جو تمہارے ساتھ بہت زور سے ہنسا کرتی تھی۔”

دونوں خاموش ہو گئے۔

یہ شکست کی خاموشی نہیں تھی۔

یہ شناخت کی خاموشی تھی۔

دونوں نے ایک ہی لمحے میں سمجھ لیا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے دور نہیں ہوئے تھے۔

وہ صرف وقت سے ہار گئے تھے۔

—

اس رات انہوں نے کوئی عہد نہیں کیا۔

کوئی وعدہ نہیں کیا کہ اب پہلے جیسے بن جائیں گے۔

کیونکہ دونوں جان چکے تھے…

انسان دوبارہ جوان نہیں ہوتا۔

مگر وہ اپنے آج کو کل کی طرح بےجان بھی نہیں رہنے دیتا۔

صائمہ نے سوتے ہوئے اچانک پوچھا،

"کل شام چھت پر چلیں؟”

عمران نے مسکرا کر کہا،

"کپڑے اتارنے؟”

صائمہ ہنس دی۔

"نہیں…”

"ذرا دیکھیں تو سہی…

آسمان اب بھی ویسا ہی ہے یا وہ بھی بڑا ہو گیا ہے۔”

عمران نے پہلی بار محسوس کیا…

وہ اپنی بیوی کو نہیں کھویا تھا۔

وہ صرف ان برسوں کا ماتم کرتا رہا تھا…
جو خاموشی سے ان دونوں کے درمیان سے گزر گئے۔ 🙂

افسانہ: وہ زمانہ دل کا
©️ انتخاب سخن

#marriedlife #husbandandwifelife