کہاں جاتے …… قتیل شفائی تمہاری انجمن سے اُٹھ ک…


کہاں جاتے
……
قتیل شفائی
تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے
نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے
تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہوا، کام آ گئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے
……
شکیل بدایونی
نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتے
اگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہُوا اپنوں میں کوئی غیر تو نکلا
اگر ہوتے سب ہی اپنے تو بیگانے کہاں جاتے
دعائیں دو محبت ہم نے مِٹ کر تم کو سکھا دی
نہ جلتی شمع محفل میں تو پروانے کہاں جاتے
تمہی نے غم کی دولت دی بڑا احسان فرمایا
زمانے بھر کے آگے ہاتھ پھیلانے کہاں جاتے
……………………………………….