کوئی منزل نہ جادۂ منزل
کس کی باتوں میں آگئے ہم
….
ممتاز شاعر ” بہارؔ کوٹی “ کا یومِ وفات
21؍فروری 1971
نام محمودالحسن اور تخلص بہارؔ تھا۔ جولائی 1908ء میں قصبہ کوٹ، ضلع فتح پور ہسوہ (یو پی) میں پیدا ہوئے۔ فروری 1948ء میں پاکستان چلے گئے اور ایک فرم میں ملازم ہوگئے۔ عیشؔ فروز پوری کے شاگرد تھے۔
21؍فروری 1971ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
منتخب اشعار
آسودگی نہیں مری کشتی کو سازگار
ٹکرا کے ٹوت جائے گی ساحل اگر ملا
———-
کچھ اپنے اعتبارِ نظر سے بھی کام لے
چل کارواں کے ساتھ، مگر راہبر سے دور
———-
کروٹیں لے رہے ہیں ذرّوں میں
جانے کتنے جہانِ نامعلوم
———-
ہم نے کانٹوں کو بھی نرمی سے چھوا ہے اکثر
لوگ بے درد ہیں پھولوں کو مسل دیتے ہیں
———-
جنوں نے اپنی حقیقت کو پالیا شاید
بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں
———-
جنوں پر ہنسنے والوں اس جنوں کی
بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ہے
———-
یہ انجم و مہہ و خورشید و کہکشاں کا حجاب
بہت ہی کم ہیں مری کاوشِ نظر کے لیے
———-
الہی اس خلشِ بے اماں کا کیا ہوگا
اب آستیں ہے نہ دامن ہے چشمِ تر کے لیے
———-
کوئی منزل نہ جادۂ منزل
کس کی باتوں میں آگئے ہم
……………….
