” کرشن موھن ” کا یوم ِ پیدائش November 28, 1922 …


” کرشن موھن ” کا یوم ِ پیدائش
November 28, 1922
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیدائش : 1922-11-28 سیالکوٹ – پاکستان
وفات : 2004-01-27 نئی دہلی

کرشن موھن ( 28 نومبر 1922 ‘ 2004 ) اردو زبان کے شاعر تھے لیکن ان کو بطور شاعر مقبولیت اس وقت ملی جب بھارت نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی ۔ آپ کا پورا نام کرشن لال بھاٹیہ تھا ۔ موھن آپ کا تخلص تھا ۔ آپ سیالکوٹ میں 28 نومبر 1922 میں پیدا ھوئے ۔ آپ کے والد گنپت رائے بھاٹیہ ایک وکیل تھے جو تقسیم برصغیر سے پہلے میرٹھ کی ضلعی عدالتوں میں وکالت کی پریکٹس کرتے تھے ۔ گنپت رائے بھی اردو زبان کے شاعر تھے اور ان کا تخلص شاکر تھا ۔

اپنی ابتدائی سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کرشن موھن نے مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے آنرز انگریزی اور فارسی کی تعلیم حاقصل کی ۔ یہاں وہ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رھے ۔ بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاھور سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ تقسیم برصغیر کے بعد ان کا خاندان کرنال منتقل ھو گیا ۔ جہاں کرشن موھن کو ویلفئیر آفیسر کی عارضی جاب مل گئی ۔ بعد ازاں وہ لکھنئو اور دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کے زیر اھتمام چھپنے والے میگزین آواز میں پہلے سب ایڈیٹر اور بعد میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے رھے ۔ اس کے بعد جرنلسٹ کے طور پر پریس انفارمیشن بیورو میں کام کیا ۔بعد ازاں انڈیا ریونیو سروس میں انکم ٹیکس آفیسر کے طور پر جاب کرتے رھے ۔ آپ کا انتقال دہلی میں 2004-01-27 میں ھوا اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی ۔

کرشن موھن ایک مقبول اور انتھک رائیٹر تھے آپ نے 1947 کے بعد دہلی میں اردو ادب میں اس وقت کے بڑے بڑے ناموں کی موجودگی مین شہرت حاصل کی جن میں پنڈت ھری چند اختر ‘ عرش ملیسانی ‘ جگن ناتھ آزاد ‘ گوپال متل ‘ نریش کمار شاد ‘ بسمل سعیدی ‘ رانا جاگی ‘ رام کرشن مشتر ‘ طالب چکوالوی اور بخشی اختر امرتسری جیسے لوگ شامل تھے ۔ کرشن موھن کلاسیکی انداز کو برقرار رکھتے ھوئے نئے نئے تجربات کرنے سے نہیں ھچکچاتے تھے ۔ جس سے ان کا کلام تخیل اور فکر کی بلندیوں پر نظر آتا ھے ۔ ان کی غزلوں میں روایتی اسلوب کے ساتھ ساتھ انتہائی فکر انگیز اور سوچ کے نئے انداز نظر آتے ھیں خاص طور پر نظم میں تو انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار بالکل منفرد انداز میں کیا ھے ۔

نمونہ کلام

نعتیہ کلام ۔

گرچہ نام و نسب سے ہندو ہوں
کملی والے میں تیرا سادھو ہوں
تیری توصیف ہے مری چہکار
میں ترے باغ کا پکھیرو ہوں
٭
ایک کیونکر نہ ھوں محمود و ایاز
ساغرِ وحدت ھے جامِ مصطفےٰؐ
٭
کیا یہ بھی زندگی ہے کہ راحت کبھی نہ ہو
ایسی بھی تو کسی سے محبت کبھی نہ ہو

وعدہ ضرور کرتے ہیں، آتے نہیں کبھی
پھر یہ بھی چاہتے ہیں، شکایت کبھی نہ ہو

شامِ وصال بھی، یہ تغافل، یہ بے رُخی
تیری رضا ہے مجھ کو مسرّت کبھی نہ ہو

احباب نے دیئے ہیں مجھے کس طرح فریب
مجھ سا بھی کوئی سادہ طبیعت کبھی نہ ہو

لب تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اُٹھ بڑھ کے چُوم لے
آنکھوں کا یہ اشارہ کہ جرات کبھی نہ ہو

دل چاہتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
مجھ کو تیرے خیال سے فُرصت کبھی نہ ہو
٭